29 اگست، 2026، 7:51 PM

رہنما جماعت اسلامی کی مہر نیوز سے گفتگو:

ایران میں حالات اطمینان بخش، اتحاد بین المسلمین وقت کی ضرورت، خطے کا حقیقی دشمن امریکہ ہے

ایران میں حالات اطمینان بخش، اتحاد بین المسلمین وقت کی ضرورت، خطے کا حقیقی دشمن امریکہ ہے

جماعت اسلامی پاکستان کے سینئر رہنما کے مطابق حالیہ جنگ کے بعد خطے کے ممالک پر واضح ہوگیا ہے کہ ایران خطے کا خیرخواہ جبکہ اصل دشمن امریکہ ہی ہے۔

مہر خبررسان ایجنسی، ثقافتی ڈیسک: تہران میں ہفتۂ وحدت کی مناسبت سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے مہمانوں اور علمائے کرام نے شرکت کی۔ ہر سال منعقد ہونے والی اس کانفرنس کا بنیادی مقصد مسلمان ممالک کے درمیان اتحاد، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کے فروغ پر زور دینا ہے۔ تاہم اس سال امریکہ اور صہیونی حکومت کی جارحیت کے تناظر میں ہفتۂ وحدت کی کانفرنس کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف ایران میں جنگ کے بعد کی صورتِ حال اور عوام کے حوصلے و استقامت کا جائزہ اہم موضوع ہے، تو دوسری جانب عالمِ اسلام کی امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں مشترکہ ذمہ داری، باہمی اتحاد اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے بھی اہم سوالات سامنے آئے ہیں۔

اسی تناظر میں مہر نیوز نے جماعت اسلامی پاکستان کے سینئر رہنما اعجاز الحق ہاشمی سے ایران کی موجودہ صورتِ حال، ہفتۂ وحدت کی اہمیت، مسئلۂ فلسطین اور عالم اسلام کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے حوالے سے گفتگو کی جس کا متن ذیل میں پیش کیا جاتا ہے:

مہر نیوز: آپ نے تہران میں کس طرح کا ماحول دیکھا؟ مختلف ٹی وی چینلز پر تجزیہ کیا جارہا ہے کہ ایران میں کچھ نہیں مل رہا، بہت لوگ ٹینشن میں ہیں، نو کروڑ دس کروڑ عوام اقتصادی مسائل کا شکار ہیں... تو اس حوالے سے کیا کہیں گے؟ اور آپ نے کیا دیکھا؟

اعجاز الحق ہاشمی: میں پہلے تو آپ کے چینل کا اور آپ کا دل سے شکر گزار ہوں کہ اس موقع پہ آپ نے یہ ملاقات کا اہتمام کیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ یہاں آنے کے بہت سارے اسباب میں ایک یہ خواہش بھی تھی کہ اس جنگ کے ماحول کے اندر اگر حکومتِ ایران اور مجلس تقریب کی انتظامیہ اس کانفرنس کو منعقد کر رہی ہے، اور وہ بھی حضوری ترتیب سے کر رہی ہے۔ کیونکہ اس سے قبل ایک دو سال مجھے معلوم ہے کہ وہ آن لائن ویبنار کرتے رہے۔ تو اس اشتیاق کو میں نے دل میں محسوس کیا کہ اس جنگ کے بعد وہاں جا کے حالات کو دیکھنا چاہیے بچشمِ خود، کہ کیا واقعی حالات اس قابل ہو گئے ہیں کہ اب دور دراز سے لوگوں کو مہمان بلا کے اس کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے؟

بظاہر تو خود بخود دل میں اس کا ایک جواب موجود تھا، کہ کیونکہ اتنی بڑی بدانتظامی تو کوئی نہیں کر سکتا کوئی بڑا ادارہ کہ حالات اس کے کنٹرول میں نہ ہوں، یا حکومت ان کو کلیئرنس نہ دے اور پھر اس کے باوجود وہ پروگرام رکھے۔ تو میں نے کل سے بہت زیادہ تہران میں گھومے پھرے ہیں۔ مجھے تو حقیقت یہ ہے کہ صرف ایک جگہ جو ہمیں ہمارے ڈرائیور نے بتائی، یونیورسٹی تھی اور وہ منہدم ہوئی بھی تھی۔ باقی تو مجھے کسی جگہ پہ بھی کوئی نہ تو کوئی پینک محسوس ہوا ہے لوگوں کے درمیان، نہ کوئی بھگدڑ ہے، نہ کوئی پریشانی ہے، نہ کوئی غیر ضروری کسی مارکیٹ کے اندر رش نظر آ رہا ہے۔ جن لوگوں سے گفتگو کا موقع ملا ہے، ان میں بھی کسی نے کسی ایسی پریشانی کا تذکرہ نہیں کیا اور کوئی ایسا اظہار کہ جس کے نتیجے میں اس کا کوئی اضطراب یا اس کے دل میں چھپا ہوا کوئی خوف محسوس ہوتا ہو۔

تو اس اعتبار سے تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ جنگ کے دوران بھی ہم بعض رپورٹرز کی باتیں سنا کرتے تھے، یہاں خیر خیریت ہے۔ لیکن حقیقت جو ہے نہ وہ یہ ہے جو میں کہنا چاہتا ہوں کہ ایرانی قوم نے جس طریقہ سے ہم تو بہت عرصے سے شناسا ہیں، ایرانی حکومت سے بھی اور ایرانی قوم سے بھی کہ ان کے اندر جو ایک شجاعت ہے اور ان کے اندر جو ایک حوصلہ ہے، استقامت ہے، اور اپنے موقف کے ساتھ ان کی جو یکسوئی اور اس کے ساتھ ان کا جو اخلاص ہے۔

اس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ اس وجہ سے ہمیں پہلے سے ہی اس بات کا اندازہ تھا کہ ایرانی قوم نے اس جنگ میں جس طریقے سے دفاع کر لیا ہے اور دشمن کو سوچنے پہ مجبور کر دیا، پھر پیچھے ہٹنے پہ مجبور کر دیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا پلڑا بھاری ہے، وہ نفسیاتی اعتبار سے بھی جنگ کو جیت گئے ہیں اور فزیکلی اعتبار سے بھی وہ جنگ کو جیت گئے ہیں۔ تو یہ اندازے کچھ ہمیں تھے، لیکن کل سے اس کی تصدیق ہو رہی ہے۔

مہر نیوز: ہفتۂ وحدت کے حوالے سے جو ہفتۂ وحدت کا اصل عنوان ہے، وہ امام خمینی نے دیا ہے۔ اور اس کے بعد شہید رہبرِ انقلاب نے اس سلسلے کو جاری رکھا۔ اور اس ہفتۂ وحدت میں آپ نے دیکھا کہ اس میں اکثر بحث وہی فلسطین کے بارے میں ہوتی ہے۔ تو آپ نے بھی یہاں پہ شرکت کی، تو کس طرح دیکھتے ہیں، کتنا اہم ہے یہ مسئلۂ فلسطین کے حوالے سے؟

اعجاز الحق ہاشمی: ہفتۂ وحدت میں بہت ساری خوبیاں ہیں۔ اس میں بہت ہی خوبصورت وحدت کا پیغام ہے، جس کی تشریح ہمیشہ تمام زعماء کرتے ہیں کہ تاریخِ میلاد میں جو تھوڑا سا اختلاف ہے، اس کو امام خمینی علیہ الرحمہ نے اپنی خداداد بصیرت اور اس شوق کے نتیجے میں، جو ان کے دل میں موجود تھا کہ اہلِ تشیع اور اہلِ سنت کے درمیان زیادہ سے زیادہ قربت پیدا کی جائے، اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ خیال ڈالا اور انہوں نے ایک ایونٹ باقاعدہ اس کے ساتھ مقرر کر دیا۔ ان کے سارے اقدامات جو ہیں، وہ کسی نہ کسی ایونٹ کے ساتھ متعلق ہیں۔ جیسے انہوں نے یہ ہفتۂ وحدت کا وہ کیا، پھر اسی طرح انہوں نے یوم القدس کو ایک، یعنی دن کے ساتھ مقرر کر کے پورا ایک ایونٹ ہے۔ یعنی یوم القدس ایک پوری ہسٹری ہے، پورا ایک، آپ سمجھ لیں کہ فلسفہ ہے۔ تو امام خمینی کی بصیرت، الحمدللہ، اس اعتبار سے میں سمجھتا ہوں بہت دور رس تھی کہ انہوں نے بہت سارے اس طرح کے اقدامات کیے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات میں جیسے جیسے تبدیلیاں آتی ہیں، تو یہ ہفتۂ وحدت کی اہمیت اور اس کے اندر موجود جو پیغام ہے، وہ اب نکھر نکھر کے بار بار سامنے آتا ہے۔

اب اس جنگ کے اندر بھی آپ دیکھیں کہ اس وقت عالمِ کفر اور اس کے ساتھ بہت ساری ہماری مسلمان حکومتیں، جو مغلوب ہیں یا وہ اپنی کمزوریوں کے باعث کفر کے سامنے ڈٹ نہیں سکتی ہیں، امریکہ اور اس کے حواریوں کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی ہیں۔ اب انہیں بھی گویا کہ اس لحاظ سے سمجھ آگئی ہے کہ ایران اگر بے دریغ ان کے اوپر کوئی حملے کر کے اپنا انتقام لینا چاہتا، تو گزشتہ 40، 45 سالوں میں ان لوگوں نے جو انقلاب کی مخالفت کی ہے، تو اس کا بہت اچھا انتقام لیا جا سکتا تھا، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے بالکل ٹارگٹڈ کارروائی کی ہے، اور وہ بھی صرف ان خطوں میں اور ان علاقوں میں کہ جہاں پہ اس صیہونی یا اس امریکی قوت کے اڈے یہاں پہ موجود تھے۔ تو اس کے نتیجے میں ایک اثر ہوا ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ لوگ مزید ناراضگی اور ایران سے دوری کی طرف جاتے، ان کو یہ بات سمجھ میں آگئی ہے کہ ایران حقیقت میں ہمارا دشمن ملک نہیں ہے، بلکہ وہ اس پورے خطے میں ایک باہر سے آئے ہوئے دشمن کو، تھانے دار کے طور پہ جو ہم نے اسے موقع دے رکھا ہے، اس کا وہ خاتمہ چاہتا ہے۔ تاکہ اس کے بعد پھر ہم خود آپس میں بیٹھ کے اپنے علاقے، اپنے مذہب اور اپنے عقیدے کے مطابق ہم اپنا ایک سیکیورٹی کا نظام ترتیب دے سکیں، قطعِ نظر اس کے کہ اس میں کوئی مذہبی افتراق یا کوئی تعصب اس کے اندر موجود ہو۔

تو اب آپ دیکھیں کہ سعودی عرب کے لوگوں نے شرکت کی ہے باقاعدہ جو تشییع جنازہ کی جو رسومات تھیں، اس میں انہوں نے شرکت کی ہے۔ کل بھی میں دیکھ رہا تھا کہ ہفتۂ وحدت میں سعودی عرب کے سفیر جو ہیں، وہ یہاں آئے ہوئے تھے۔ پہلے کبھی ایسا نہیں دیکھا جا سکتا تھا۔ تو یہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ موقع ہے وحدت کا، کہ اس کو کئی صورتوں میں اور کئی شکلوں میں اس سے فوائد آرہے ہیں، اور حکومتِ ایران اس کو باقاعدہ ایک ذریعہ بناکے اپنا پیغام دے رہی ہے۔

مہر نیوز: بیداری اسلامی اور وحدت اسلامی میں جو شہید رہبر کا کردار ہے، اس کو آپ کس نگاہ سے دیکھتے ہیں؟

اعجاز الحق ہاشمی: میرا خیال ہے کہ ان کی شخصیت میں سراسر بیداری تھی۔ ایک تو میرا ذاتی، آپ یوں کہہ لیں کہ عقیدت ان کے ساتھ ہے کہ میں نے اتنا وجیہ اور اتنا بااثر شخص، اور گفتگو میں اس قدر ٹھہراؤ کے ساتھ، جو بالکل گہرے معانی پر مبنی گفتگو ہو، وہ میں نے کسی بھی شخص کی نہیں دیکھی۔

وہ ایک بہت ہی گہرے عالم، ایک تاریخ دان، اور پوری انسانی زندگی کے فلسفے کے اوپر ان کی نظر تھی۔ وہ ہمیشہ ٹو دی پوائنٹ اور بہترین نصیحت کیا کرتے تھے لوگوں کو۔ مجھے متعدد بار ان کی محفل میں شریک ہونے کا موقع ملا، وہاں انہوں نے جو گفتگو کی، وہ بہت اعلیٰ پایہ کی تھی۔ تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ایسے ہی تو نہیں ہوگیا! کوئی آدمی کہ جس کے اندر غفلت موجود ہو، سستی موجود ہو، خوف موجود ہو، وہ تو کبھی بھی فکر و نظر کے اس اعلیٰ معیار کے قریب بھی نہیں جا سکتا، کجا یہ کہ وہ اس کے اوپر گفتگو کرے۔

تو شہید آیت اللہ خامنہ ای جو ہیں، انہوں نے اصل میں اپنے پیشرو، امامِ اور بانیِ انقلاب کا حق ادا کیا ہے۔ بانیِ انقلاب نے ان کو قریب رکھا، ان کی نگہداشت کی اور پھر ان کی تربیت کی۔ ان کی وفات کے بعد اتفاقی طور پہ ان کو رہبر بنا لیا گیا، تو وہ اس قابل تھے کہ وہ رہبر رہیں، اور وہ ہمیشہ بہت ہی ہوشیار اور بیدار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی گفتگو میں ہمیشہ ہمیں نظر آتا ہے کہ انسان چوکس رہے، چوکنا رہے۔ دشمن کی نظر، دشمنوں کی جو سازشیں ہیں، ان کے اوپر لوگوں کی نظر رہے، بہت توجہ کے ساتھ۔ اور بڑے مفاہیم بتایا کرتے تھے اس حوالے سے، اور امت نے اس سے استفادہ کیا ہے۔

اور آج اس کی عملی شکل ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ خود تو چلے گئے۔ بڑی عمر میں ویسے انہوں نے فوت ہو جانا تھا کچھ عرصے کے بعد لیکن بہرحال اس عمر میں کسی شخص کو شہید کر دینا، گویا دشمنوں نے اپنے منہ پہ کالک ملی ہے۔ اس طریقے سے خود شہید آیت اللہ خامنہ ای جو ہیں، ان کا چہرہ کیا، ان کا پورا کردار جو ہے، وہ روشن ہوگیا ہے۔ کہ اس عمر میں بھی، جب انسان تحفظ کا شوقین ہوجاتا ہے، آرام طلب ہو جاتا ہے، انہیں پتا تھا کہ میرے ساتھ یہ ہونے والا ہے، لیکن انہوں نے نہ اپنی جگہ تبدیل کی، نہ انہوں نے کوئی سیکیورٹی جو ہے وہ مانگی۔ اس سے زیادہ بیداری اور کیا ہو سکتی ہے؟ بیداری کا مطلب یہ تو نہیں کہ انسان چھپے جا کے اپنے آپ کو بچانے کے لیے! بیداری کا مطلب تو شجاعت ہے کہ آپ سینہ تان کے دشمن کے مقابلے پہ آ کے کھڑے ہو جائیں کہ میں موجود ہوں۔ جو کچھ تم کرو گے، اس کی ذمہ داری تمہارے اوپر ہوگی، اس کی بدنامی بھی تمہارے اوپر ہوگی۔ اور وہی ہوا ہے کہ امریکہ کو اس کے نتیجے میں گالیاں پڑی ہیں، اور پوری دنیا کے اندر ایران کے ساتھ لوگوں کی ہمدردی بڑھی ہے۔

News ID 1940972

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha