مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسل: جنگ کے بعد امریکہ نے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے اب ایک نیا محاذ منتخب کیا ہے اور وہ ہے معاشی میدان۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے جس اقدام کو ایران کے خلاف تاریخ کا ’’سب سے بڑا مالی حملہ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے، اس کی تفصیلات سامنے لائی ہیں اور واشنگٹن اس اقدام کو ایک پرجوش اصطلاح ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ (D-Day) کے عنوان سے عوام کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
لیکن اس عنوان کا انتخاب طاقت کی علامت ہونے کے بجائے ایک اہم سوال ضرور پیدا کرتا ہے: امریکہ اس مقصد کے حصول کے لیے، جسے وہ فوجی میدان میں حاصل نہیں کر سکا، ایک بار پھر اسی معاشی ہتھیار کی طرف کیوں لوٹ آیا ہے جسے وہ برسوں آزما چکا ہے، مگر ایران کو اپنے مطلوبہ طرزِ عمل میں تبدیلی پر مجبور نہیں کر سکا؟
اصل معاملہ کوئی نیا نہیں۔ ایران سے متعلق مالیاتی واسطوں کی ڈالر تک رسائی ختم کرنا، تہران کے ساتھ تعاون کرنے والے بینکوں اور اداروں کو نشانہ بنانا، ایران کے ساتھ اقتصادی تعاون کرنے والی کمپنیوں اور ممالک کو دھمکانا اور چین پر یہ دباؤ ڈالنا کہ وہ ایران کے ساتھ تعاون یا امریکی مالیاتی نظام تک رسائی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرے، یہ سب ایسے ہتھیار ہیں جنہیں واشنگٹن گزشتہ برسوں میں بارہا استعمال کر چکا ہے۔
اس مرتبہ فرق زیادہ تر الفاظ کے انتخاب اور تشہیر کی شدت میں ہے، حکمتِ عملی کی نوعیت میں نہیں۔ وہی پالیسی جسے ایک دہائی قبل ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ (Maximum Pressure) کا نام دیا گیا تھا، اب نئی پیکجنگ اور نسبتاً زیادہ جنگی اصطلاحات کے ساتھ دوبارہ سامنے لائی گئی ہے۔
لیکن بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ پابندیاں اسی وقت رویّے میں تبدیلی کے لیے مؤثر ہتھیار بن سکتی ہیں جب مخالف فریق نے ابھی متبادل راستے تلاش نہ کیے ہوں۔ ایران ایسا ملک نہیں ہے جسے آج پہلی مرتبہ مالی اور تجارتی محاصرے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔
ایران طویل عرصے سے بینکاری، تیل، بیمہ اور بحری نقل و حمل کے شعبوں میں دباؤ کا سامنا کرتا آیا ہے اور اسی دوران اس نے تجارت، رقوم کی منتقلی اور تیل کی فروخت کے لیے بالواسطہ طریقۂ کار کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی تشکیل دیا ہے۔
یقیناً کوئی بھی پابندی بے اثر نہیں ہوتی اور ایران پر معاشی دباؤ کے اثرات سے انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اصل اختلاف کا مسئلہ کچھ اور ہے: کیا یہ دباؤ واشنگٹن کی مطلوبہ سیاسی نتائج تک پہنچ سکتا ہے؟
ماضی کا تجربہ امریکہ کے لیے زیادہ حوصلہ افزا جواب پیش نہیں کرتا۔ معاشی دباؤ مشکلات اور اخراجات پیدا کر سکتا ہے، لیکن ’’معاشی تکلیف‘‘ اور ’’سیاسی تسلیم‘‘ کے درمیان بہت بڑا فاصلہ ہے۔ پابندیاں اس وقت ناکام ہوتی ہیں جب مخالف فریق پر عائد ہونے والی لاگت، اس کے لیے اپنی سیاسی پوزیشن تبدیل کرنے کی لاگت سے کم ہو اور یہی وہ مقام ہے جو ایران کے خلاف امریکی حکمتِ عملی کے بنیادی مسائل میں سے ایک ہے۔
واشنگٹن کی ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ اب بھی معیشت کو سیاست سے الگ سمجھتا ہے۔ یہ تصور کیا جا رہا ہے کہ اگر معاشی دباؤ کو ایک خاص حد تک بڑھا دیا جائے تو تہران بالآخر اس نتیجے پر پہنچ جائے گا کہ مزاحمت جاری رکھنا مزید ممکن نہیں۔
لیکن ایران کا حساب صرف معاشی بنیادوں پر نہیں ہے۔ تہران کی نظر میں معاملہ صرف پابندیوں، تیل کی برآمد یا ڈالر تک رسائی کا نہیں، بلکہ قومی سلامتی، سیاسی خودمختاری اور کئی دہائیوں پر محیط بیرونی دباؤ کے تجربے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
اسی لیے دباؤ کے ہر نئے مرحلے کا لازمی نتیجہ شکست نہیں ہوتا، بلکہ یہ صورتِ حال ایران کو متبادل اقتصادی راستے مزید مضبوط کرنے اور غیر مغربی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔
اس صورتحال میں ایک اور سنگین تضاد بھی موجود ہے۔ ایک طرف واشنگٹن ایران کے خلاف عالمی مالیاتی نظام کو متحرک کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف وہ پوری دنیا کی معیشتوں کو اس بات پر مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اپنے مفادات کو امریکی پالیسی کی خاطر قربان کر دیں۔
چین کو تہران اور واشنگٹن میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کرنے کی دھمکی اسی مسئلے کی واضح مثال ہے۔ چین کوئی چھوٹا یا کسی کے زیرِ انحصار ملک نہیں، بلکہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں سے ایک، ایران کے اہم ترین توانائی خریداروں اور بڑے تجارتی شراکت داروں میں شامل ہے۔
اگر امریکہ ایران پر عائد پابندیوں کا دباؤ اس کے اقتصادی شراکت داروں تک بھی پھیلانے کی کوشش کرتا ہے تو درحقیقت اس دباؤ کا ایک حصہ خود عالمی تجارتی اور مالیاتی نیٹ ورکس تک منتقل ہو جائے گا اور دیگر ممالک کے لیے بھی امریکی مالیاتی نظام سے آزاد متبادل نظام تشکیل دینے کی ترغیب بڑھ جائے گی۔
جنگ کے بعد یہ نکتہ مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ امریکہ اب جنگ سے پہلے والے ایران کا سامنا نہیں کر رہا، بالکل اسی طرح جیسے خطہ بھی پہلے والا خطہ نہیں رہا۔ جنگ نے یہ ظاہر کر دیا کہ فوجی دباؤ لازمی طور پر واشنگٹن کے مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل نہیں کر سکتا۔ اب فوجی میدان سے دباؤ کو معاشی میدان میں منتقل کرنا، مکمل طور پر نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے کے بجائے، پہلے اختیار کیے گئے ہتھیار کی ناکامی کے بعد دباؤ کا ذریعہ تبدیل کرنے کی علامت بھی سمجھا جا سکتا ہے۔
اگر امریکہ کی فوجی طاقت ایران کو واشنگٹن کی شرائط قبول کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کافی تھی تو پھر اب امریکی وزارتِ خزانہ کو میدان میں اترنے اور بینکوں، کمپنیوں اور مالیاتی واسطوں کو دھمکا کر وہی مقصد حاصل کرنے کی کوشش کیوں کرنا پڑ رہی ہے؟ ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ نئی پابندیاں کسی سیاسی خلا میں نافذ نہیں ہو رہیں۔ جنگ کے بعد خطہ اپنے باہمی تعلقات کو ازسرِنو متعین کر رہا ہے۔ مختلف ممالک پہلے سے کہیں زیادہ اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ بحران کے حالات میں مکمل طور پر کسی ایک بیرونی طاقت پر انحصار کرنا بھاری اخراجات کا باعث بن سکتا ہے۔
ایسے ماحول میں امریکہ کا معاشی دباؤ اپنے ابتدائی مقصد کے برعکس مزید ممالک کو آزاد مالیاتی ذرائع قائم کرنے، مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے اور ڈالر کے دائرۂ اثر سے باہر اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یہ تبدیلی ایک رات میں رونما نہیں ہوگی، لیکن پابندیوں کی ہر نئی لہر اس رجحان کو آگے بڑھانے کی ترغیب ضرور دے سکتی ہے۔
دوسری جانب، معاشی دباؤ یک طرفہ راستہ نہیں ہے۔ ایران کے پاس بھی خطے میں جواب دینے کے لیے مختلف ذرائع موجود ہیں اور وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفادات پر اخراجات عائد کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز، توانائی کی منڈی اور علاقائی تجارتی نیٹ ورک صرف چند ایسے شعبے ہیں جو دباؤ میں اضافے کی صورت میں محاذ آرائی کے میدان بن سکتے ہیں۔
لہٰذا واشنگٹن کو اپنے حساب کتاب میں اس حقیقت کو بھی شامل کرنا ہوگا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کا مطلب لازمی طور پر صرف ایران پر دباؤ بڑھانا نہیں ہے۔ اس دباؤ کا ایک حصہ عالمی توانائی کی منڈی، امریکہ کے اتحادیوں اور حتیٰ کہ مغربی ممالک کی معیشتوں تک بھی واپس پہنچ سکتا ہے۔
یہاں تک کہ امریکی حکام کی زبان بھی ظاہر کرتی ہے کہ واشنگٹن اب بھی دھمکی اور مذاکرات کے درمیان کسی مقام پر کھڑا ہے۔ جب امریکی وزیرِ خزانہ مخالف فریق کو ’’اپنا رویہ درست کرنے‘‘ کا موقع دینے کی بات کرتے ہیں تو واضح ہوتا ہے کہ مقصد صرف معاشی سزا دینا نہیں، بلکہ سیاسی رویے میں تبدیلی کے لیے دباؤ کا ایک مؤثر ذریعہ پیدا کرنا ہے۔
لیکن عین یہی وہ مقام ہے جہاں بنیادی مسئلہ سامنے آتا ہے: اگر امریکہ کے مطالبات واضح، محدود اور قابلِ مذاکرات نہ ہوں تو تہران پابندیوں کو کسی حل کی طرف جانے والے راستے کے بجائے ملک کو دباؤ میں لانے اور کمزور کرنے کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ سمجھے گا۔ ایسی صورت میں واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے کا امکان کم اور مزاحمت کا جذبہ مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔
اسی وجہ سے ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ کسی نئے مرحلے کے آغاز سے زیادہ اس چکر کا تسلسل ثابت ہو سکتا ہے جس میں امریکہ برسوں سے پھنسا ہوا ہے: دباؤ، مزاحمت، پابندیوں میں اضافہ، متبادل راستوں کی تشکیل، مزید دباؤ اور بالآخر مذاکرات کی میز پر واپسی۔
اگر واشنگٹن واقعی یہ سمجھتا ہے کہ پابندیوں کی شدت میں اضافہ تنہا وہ نتیجہ پیدا کر سکتا ہے جو گزشتہ معاشی اور فوجی دباؤ حاصل نہیں کر سکے، تو غالب امکان ہے کہ اسے ایک بار پھر اسی غلط اندازے کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے جنگ سے پہلے بھی کیا تھا۔
امریکہ کا مسئلہ شاید ذرائع اور ہتھیاروں کی کمی نہیں، بلکہ ان ہتھیاروں کی تاثیر کے بارے میں ضرورت سے زیادہ خوش فہمی ہے۔ واشنگٹن کے پاس اب بھی ڈالر، عالمی مالیاتی نظام اور پابندیاں عائد کرنے کی بہت بڑی صلاحیت موجود ہے، لیکن پابندیوں کی طاقت اسی وقت سیاسی طاقت میں تبدیل ہوتی ہے جب مخالف فریق یہ سمجھنے لگے کہ پابندی عائد کرنے والے کے مطالبات تسلیم کرنے کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔
ایران نے گزشتہ برسوں کے دوران عین اسی دباؤ کے مقام کو ختم کرنے کے لیے مختلف طریقۂ کار اور متبادل راستے تیار کیے ہیں۔
لہٰذا اگر اقتصادی ڈی ڈے کا مقصد ایران کو سیاسی طور پر تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہے تو اس کی ناکامی کا امکان کم نہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پابندیاں بے اثر ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسے ملک کے خلاف، جو برسوں سے ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف سازوکار تشکیل دیتا رہا ہے، پابندیاں اب کوئی فیصلہ کن ہتھیار نہیں رہیں۔
امریکہ دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتا ہے، اخراجات بڑھا سکتا ہے اور ایران کی اقتصادی زندگی کو مزید دشوار بنا سکتا ہے، لیکن حالات کو مشکل تر بنانے اور تہران کے تزویراتی حساب کتاب کو تبدیل کرنے میں واضح فرق ہے۔
اگر واشنگٹن اس فرق کو نظر انداز کرتا ہے تو ممکن ہے اقتصادی ڈی ڈے امریکہ کی فتح کے آغاز کے بجائے اسی پرانے چکر کے ایک اور دور کا آغاز ثابت ہو جو برسوں سے جاری ہے اور ہر بار بھاری اخراجات کے باوجود ایران کو سیاسی تسلیم کی منزل تک پہنچانے میں ناکام رہا ہے۔
یعنی امریکہ نے ایک بار پھر ہتھیار تو بدل لیے ہیں، لیکن اصل مسئلہ اب بھی وہیں موجود ہے۔
آپ کا تبصرہ