مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے قریب سمجھی جانے والی امریکی صحافی اور سیاسی کارکن لورا لومر نے دعوی کیا ہے کہ ترکی میں امریکہ کے سفیر ٹام بارک کو گزشتہ دنوں مشاورت کے لیے واشنگٹن طلب کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لورا لومر نے کہا کہ امریکی سفیر کو شام کی گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے قبضے سے متعلق اپنے متنازع بیان کے بعد واشنگٹن طلب کیا گیا۔
لومر کے مطابق بارک کے بیان سے ترکی، شام اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی اور ایک بین الاقوامی بحران پیدا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔
انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے دعوی کیا کہ واشنگٹن بارک کو عہدے سے ہٹانے کا خواہاں ہے اور ممکن ہے کہ ان کے سامان کی منتقلی کے لیے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کی خدمات حاصل کی جائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بارک دوبارہ ترکی واپس نہ جائیں۔
شام کے لیے امریکی نمائندے کے طور پر بھی کام کرنے والے بارک نے گزشتہ جمعے کو کہا تھا کہ شام کی گولان کی پہاڑیاں اب بھی اسرائیلی قبضے میں ہیں اور یہ اقدام بین الاقوامی قراردادوں کے خلاف ہے، کیونکہ یہ علاقہ شام کا حصہ ہے۔
ان کے اس بیان کے بعد امریکی اور اسرائیلی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا۔ بعد ازاں بارک نے وضاحت کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ان کا مقصد تاریخی صورتحال کی وضاحت کرنا تھا، نہ کہ اسرائیلی قبضے کی توثیق کرنا۔
آپ کا تبصرہ