22 اگست، 2026، 9:44 PM

اسرائیلی وزیر جنگ نے شام میں کارروائی سے متعلق امریکی ایلچی کے انکشاف کو مسترد کر دیا

اسرائیلی وزیر جنگ نے شام میں کارروائی سے متعلق امریکی ایلچی کے انکشاف کو مسترد کر دیا

یسرائیل کاٹز نے امریکی ایلچی ٹام باراک کے اس بیان کو مسترد کردیا ہے کہ اسرائیل کی شام میں کارروائی غلط معلومات اور غلط فہمی کے نتیجے میں کی گئی تھی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صہیونی حکومت کے وزیر جنگ یسرائیل کاٹز نے امریکی صدر کے شام اور عراق کے لیے خصوصی ایلچی ٹام باراک کے اس انکشاف کو مسترد کر دیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے شام کے خلاف کی جانے والی ایک کارروائی غلط معلومات اور باہمی غلط فہمی کے نتیجے میں انجام دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق یسرائیل کاٹز نے دعوی کیا کہ اسرائیلی فوج کو ایسی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جن کی بنیاد پر اس نے شام کے ابو الظهور ہوائی اڈے پر حملے کی تجویز متعدد مرتبہ پیش کی تھی۔

انہوں نے اپنے اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اسرائیل کو شام کے ابو الظهور ہوائی اڈے پر ترکی کی جانب سے ممکنہ اقدامات کے بارے میں اطلاعات ملی تھیں، جنہیں وہ اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھتا تھا۔

کاٹز نے کہا کہ اسرائیل کسی بھی فریق کو اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دے گا اور ہر خطرے کا مقابلہ کرے گا، جیسا کہ اس نے جنوبی شام میں کیا ہے۔

اسرائیلی وزیر جنگ نے ٹام باراک کے اس بیان کو بھی مسترد کیا کہ اسرائیل کی شام کے خلاف کارروائی غلط معلومات کی بنیاد پر کی گئی۔ امریکی ایلچی کے بیانات مغالطوں سے بھرے ہوئے ہیں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گولان کی پہاڑیوں سے متعلق مؤقف سے متصادم ہیں۔

کاٹز نے مزید دعوی کیا کہ ابو الظهور ہوائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوغان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔

دوسری جانب ٹام باراک نے ایک پریس گفتگو میں کہا تھا کہ اس کارروائی کے حوالے سے اسرائیلی فوج، موساد اور نیتن یاہو کے دفتر کے درمیان غلط فہمی کا ایک نظریہ موجود ہے اور ممکنہ طور پر اسی غلط فہمی کے نتیجے میں یہ کارروائی انجام دی گئی۔

News ID 1940808

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha