مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نائب وزیر اور خلائی ایجنسی کے سربراہ حسین سالاریہ نے ’’مقامی سیٹلائٹس کے کردار اور پیداوار، نگرانی اور جغرافیائی معلومات کی پروسیسنگ میں سیٹلائٹ تصاویر کے استعمال‘‘ کے موضوع پر منعقدہ خصوصی نشست میں سیٹلائٹ ڈیٹا کے استعمال کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر صرف ملک کو تصاویر تیار کرنے کے لیے فراہم نہیں کی جانی چاہئیں، بلکہ یہ ڈیٹا متعلقہ تخصصی اداروں کے اختیار میں دیا جانا چاہیے، تاکہ انہیں ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکے۔
سالاریہ نے زمینی ڈیٹا کے فوری حصول میں سیٹلائٹس کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیٹلائٹس سطح زمین سے متعلق ڈیٹا تک رسائی کے تیز ترین ذرائع میں شامل ہیں اور ایک سیٹلائٹ مختصر وقت میں ملک کے وسیع علاقے سے ڈیٹا حاصل کر سکتا ہے؛ لہٰذا سیٹلائٹس کی تعداد میں اضافہ اور ان کی تصویری درستگی بہتر بنانے سے معلومات تک رسائی کا وقت نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی خلائی صنعت میں اپنی سابقہ سرگرمیوں کی بنیاد پر زیادہ اعلیٰ معیار کے حامل نئی نسل کے ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹس کی تیاری پر کام کر رہی ہے اور اس وقت متعلقہ اداروں کے تعاون سے ایک میٹر اور ایک میٹر سے بہتر تصویری درستگی کے حامل کئی سیٹلائٹس ڈیزائن اور تیار کیے جا رہے ہیں۔
ایران کی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے کہا کہ ان میں سے بعض سیٹلائٹس جلد ہی ڈیزائن کا مرحلہ مکمل کرکے آخری مرحلے میں داخل ہو جائیں گے۔
سالاریہ نے ریموٹ سینسنگ اور تصویری سیٹلائٹ منظومات تشکیل دینے کے ملکی منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ چند برسوں میں مختلف ریزولوشن کی حامل منظومات تشکیل دینا ایجنڈے میں شامل ہے، جن کی تصویری درستگی ایک میٹر سے بہتر سے لے کر دسیوں میٹر تک ہوگی، تاکہ ڈیٹا کو یکجا کرکے مختلف نوعیت کے استعمالات کو پورا کیا جا سکے۔
انہوں نے اس منصوبے کو خلائی صنعت میں ملک کی موجودہ صلاحیتوں کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ علم پر مبنی کمپنیاں، تخصصی مراکز، محققین، خلائی تحقیقاتی ادارہ اور اس شعبے میں سرگرم دیگر ادارے ملکی خلائی صنعت کی ترقی کے لیے قابل قدر صلاحیتیں رکھتے ہیں۔
ایرانی خلائی ایجنسی کے سربراہ نے ملک کے محکمہ نقاشی و نقشہ سازی کے ساتھ اس ادارے کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے دونوں اداروں کے ماہرین کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں ضرورت پر مبنی نقطۂ نظر اور ملک کی ضروریات پوری کرنے کے مقصد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے اور یہ وزارت کے اعلیٰ حکام کی واضح ہدایت ہے۔
سالاریہ نے مزید کہا کہ ایران کی خلائی ایجنسی ’’خیام‘‘ اور ’’پایا‘‘ جیسے سیٹلائٹس کے ڈیٹا کے ساتھ ساتھ ان سیٹلائٹس کا ڈیٹا بھی، جنہیں جلد لانچ کیا جانا ہے، جن میں ’’پارس 2‘‘ بھی شامل ہے، متعلقہ صارف اداروں اور تخصصی اداروں، بالخصوص محکمہ نقاشی و نقشہ سازی، کے اختیار میں دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تصاویر نقشہ سازی، زراعت، آبی وسائل اور دیگر متعلقہ شعبوں کے تخصصی اداروں کے اختیار میں دی جانی چاہئیں تاکہ انہیں ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں تبدیل کرکے ملکی ضروریات پوری کرنے، اقتصادی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور بحرانوں سے ہونے والے نقصانات میں کمی کی راہ ہموار کی جا سکے۔
مواصلات کے نائب وزیر نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملکی خلائی صنعت کی ترقی کے لیے سیٹلائٹ ڈیٹا استعمال کرنے والے تخصصی صارفین کے ساتھ مسلسل رابطہ ضروری ہے، کہا کہ اس راستے کو جاری رکھنے کے لیے سیٹلائٹ تصاویر استعمال کرنے والے تخصصی اداروں کی مشاورت اور آرا درکار ہیں۔
سالاریہ نے مزید کہا کہ محکمہ نقاشی و نقشہ سازی اور دیگر تخصصی صارفین کی آرا اور ضروریات کو مستقبل کے سیٹلائٹس کی ڈیزائننگ میں مدنظر رکھا جائے گا تاکہ نئے سیٹلائٹس زیادہ معیار اور مؤثر طریقے سے ملک کی ضروریات پوری کر سکیں۔
آپ کا تبصرہ