مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ مختلف ممالک کے دوروں اور ان کے وزرائے خارجہ اور سربراہان مملکت کے ساتھ ملاقاتوں کے دوران ایرانی مسلح افواج کی طاقت، عزت اور سربلندی کے سامنے وہ سر تسلیم خم کرتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، مسعود پزشکیان نے وزیر دفاع کے لیے نامزد امیدوار کی اہلیت کے جائزے کے اجلاس سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے انقلاب کے شہید رہبر، دفاع مقدس کے شہدا، 40 روزہ جنگ کے شہدا، سائنس دانوں، طلبہ اور شہید وزیر دفاع میجر جنرل نصیرزادہ کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے ملک کے دفاع میں مسلح افواج کی جدوجہد اور قربانیوں کو بھی سراہا۔
صدر پزشکیان نے وزارت دفاع کی ذمہ داری قبول کرنے پر مہرداد اخلاقی کتابچی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے دفاع کے دوران ملک کی مسلح افواج نے ایثار، قربانی اور صلاحیتوں کے ایسے مظاہرے کیے ہیں جنہوں نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔
انہوں نے بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف ممالک کے دوروں اور وزرائے خارجہ و سربراہان مملکت کے ساتھ ملاقاتوں میں ایرانی مسلح افواج کی طاقت، عزت اور سربلندی کو تسلیم کیا جاتا ہے۔
صدر نے مزید کہا کہ ملک کے دفاع میں مسلح افواج کی کارکردگی کے اثرات پورے خطے میں نمایاں ہوئے ہیں۔ ان کے بقول، ایرانی مسلح افواج نے جس طرح دفاع کیا اور جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، اس نے خطے کے ممالک کو حیران کر دیا ہے۔ یہ دفاع عالمی برادری میں ایران کے لیے باعثِ فخر ہے اور دنیا کے مختلف ممالک ایرانی قوم کی عزت و سربلندی کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران گزشتہ دو صدیوں کے دوران جارح ملک نہیں رہا، اس نے کسی ملک پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم، اگر ایران پر کوئی حملہ کیا گیا تو ملک اپنی پوری طاقت اور جرأت کے ساتھ آخری دم تک مزاحمت کرے گا اور وطن کا دفاع کرے گا۔
آپ کا تبصرہ