مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ملک کے عوام کے مطالبات، بالخصوص آزادیِ اجتماع، کو سنجیدگی سے سنیں اور فرانس کے مستقبل کی آواز پر توجہ دیں۔
تفصیلات کے مطابق، سید عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں فرانسیسی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ میکرون نے امریکی صدر کو یہ یقین دہانی کرا کر اپنے لیے مشکلات پیدا کیں کہ وہ ایران کے خلاف مظالم کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اب بہت دیر ہوچکی ہے کہ میکرون اور ان جیسے دیگر افراد اس جنگ کی ذمہ داری سے خود کو الگ کرنے کی کوشش کریں، جس کے آغاز میں ان کا کردار رہا ہے۔
عراقچی نے اپنے پیغام میں کہا کہ فرانسیسی عوام وسیع پیمانے پر تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جس میں آزادی اظہار رائے بھی شامل ہے۔ انہوں نے فرانسیسی صدر پر زور دیا کہ وہ فرانس کے مستقبل کی آواز سنیں۔
دوسری جانب، خبر میں بتایا گیا ہے کہ فرانسیسی صدر نے وزیر داخلہ کی جانب سے استعفے کی پیشکش کا اعلان کیا۔
اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی جوہری دفاع کے معاملے پر فرانسیسی صدر کے دوہرے معیار پر تنقید کی تھی۔
آپ کا تبصرہ