مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جرمنی کے وزیرِ دفاع بوریس پیسٹوریئس نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا روس کے حوالے سے حالیہ مؤقف میں تبدیلی اختیار کرنا، امریکہ کے اندر شدید سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔
جرمن خبررساں ایجنسی (ڈی پی اے) کے مطابق، بوریس پیسٹوریئس نے برلن میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے، جس کے پیشِ نظر ٹرمپ ایسی صورت حال سے دوچار ہو چکے ہیں کہ وہ شدید دباؤ اور بند گلی میں پھنس گئے ہیں۔
پیسٹوریئس نے مزید کہا کہ تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب بھی کسی ملک کے رہنما اندرونِ ملک دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو وہ اس صورت حال سے نکلنے کے لیے خارجہ پالیسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ روس کے ساتھ ڈیزل ایندھن کا معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ ٹرمپ تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔
جرمنی کے وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں ٹرمپ کا یہ اقدام الٹا نتیجہ دے گا۔
پیسٹوریئس کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو اعلان کیا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کے بعد وہ اس ملک سے لاکھوں ٹن ڈیزل ایندھن کی فراہمی کے معاہدے پر پہنچ گئے ہیں۔
دوسری جانب، روس کے نائب وزیرِ اعظم الیگزینڈر نوواک نے اپنے بیان میں روس اور امریکہ کے درمیان ماسکو سے ڈیزل ایندھن کی برآمدات پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاہدے کا ذکر کیا ہے۔
روس کے نائب وزیر اعظم نے اس حوالے سے کہا ہے کہ روس اس سے قبل اپنی برآمدات کے ذریعے دنیا میں استعمال ہونے والے ڈیزل ایندھن کی 10 سے 15 فیصد ضروریات پوری کرتا تھا اور سال کے اختتام تک تقریباً اسی سطح پر واپس آ جائے گا۔ روسی ڈیزل ایندھن عالمی منڈی کے ساتھ ساتھ براہِ راست امریکہ کو بھی فراہم کیا جائے گا۔ روس سے ڈیزل ایندھن کی فراہمی شروع ہونے کے بعد یورپ سمیت دنیا بھر میں قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ ہوگی۔
آپ کا تبصرہ