21 ستمبر، 2026، 4:20 PM

سعودی عرب پر حملے نے امریکہ کے ساتھ اتحاد کی کمزوری ثابت کر دی، واشنگٹن پوسٹ

سعودی عرب پر حملے نے امریکہ کے ساتھ اتحاد کی کمزوری ثابت کر دی، واشنگٹن پوسٹ

ایک امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ یمنیوں کے سعودی عرب پر حملوں نے ایران کے ساتھ جنگ میں شدت کے دوران ریاض کے لیے امریکی حکومت کی حمایت کی محدودیت کو ثابت کر دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روزنامہ «واشنگٹن پوسٹ» نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ دباؤ تیل کی تنصیبات اور پائپ لائنوں کو نشانہ بنائے جانے، فوجی اڈوں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں پر حملوں کے بعد مزید بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب انصار اللہ یمن نے یمن کے مغربی ساحل پر میدانی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آبنائے باب المندب کے قریب پہنچ گئی ہے، جو عالمی توانائی کی تجارت کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے عدن میں یمن کی تابع حکومت کے دو عہدیداروں کے حوالے سے لکھا ہے کہ واشنگٹن سے عدن کی امداد کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

اس اخبار نے 2023 سے 2025 کے دوران سعودی عرب میں امریکی سفیر رہنے والے مائیکل راتنی کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی عرب نے کئی دہائیوں تک امریکہ کے ساتھ اپنی فوجی شراکت داری میں سرمایہ کاری کی، لیکن وہ وقت آ گیا جس کے لیے ریاض تیار تھا، تاہم واشنگٹن سعودی عرب کی توقعات کے مطابق عمل نہیں کر رہا۔

ٹرمپ حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنی «قومی سلامتی کے بنیادی مفادات» کے تحفظ پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جن میں بحیرۂ احمر میں آزادانہ بحری آمدورفت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن سعودی حکومت اور عدن کی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، تاہم سعودی عرب کی امداد کی درخواست یا ٹرمپ اور سعودی ولی عہد کے درمیان رابطے کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کو بحیرۂ احمر کے ذریعے تیل کی برآمد کے راستوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث مزید دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ ایران کے ساتھ جنگ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو متاثر کیا ہے۔ سعودی عرب کی مشرق سے مغرب جانے والی تیل کی پائپ لائن، جو بحیرۂ احمر تک تیل پہنچانے کا ایک اہم راستہ بن چکی ہے، گزشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے بعد اب بھی بڑی حد تک بند ہے۔ یمن میں انصار اللہ نے مغربی ساحل پر اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے اور باب المندب کے قریب تزویراتی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ مزید لکھتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب کے لیے باب المندب کی اہمیت دوگنا ہو گئی ہے، کیونکہ ریاض اب اپنے تیل کو مشرق سے مغرب جانے والی پائپ لائن کے ذریعے بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں تک پہنچانے اور پھر بحیرۂ احمر کے جنوبی داخلی راستے پر واقع اس بحری گزرگاہ کے ذریعے برآمد کرنے پر زیادہ انحصار کر رہا ہے۔ 

واشنگٹن پوسٹ نے اس سے قبل خبردار کیا تھا کہ ہرمز میں خلل اور باب المندب کو درپیش خطرات کا مجموعہ سعودی عرب کے تیل کی برآمد کے راستوں پر بیک وقت دباؤ ڈال رہا ہے۔

بین الاقوامی امن کے لیے کارنیگی فاؤنڈیشن کے مغربی ایشیاء کے امور کے محقق «اینڈریو لیبر» کا خیال ہے کہ ٹرمپ براہِ راست فوجی تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس جنگ کو سعودی عرب اور انصار اللہ کے درمیان تنازع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال اس کے برعکس ہے جو سعودی عرب سمجھتا تھا کہ امریکہ اس جنگ میں اس کی مدد کے لیے آئے گا۔

لیبر کے مطابق، جنگ میں مداخلت نہ کرنے کے امریکہ کے لیے ممکنہ اخراجات ہیں، بالخصوص یمن کی تزویراتی اہمیت اور بین الاقوامی بحری راستوں میں اس کے محل وقوع کے پیش نظر۔

دوسری جانب، انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں یمن کے امور کے سینیئر تجزیہ کار «احمد ناجی» نے کہا کہ سعودی عرب کو درپیش چیلنجز میں سے ایک انصار اللہ کے خلاف حملہ کرنے کے لیے امریکہ کی عدم آمادگی ہے۔

ناجی نے مزید کہا کہ سعودی عرب کو اس بحران سے نمٹنے میں شامل ممالک کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے، جس میں امریکہ اور یورپی یونین کے ممالک بھی شامل ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر لکھا ہے کہ سعودی عرب خود کو ایک مزید پیچیدہ سلامتی کی صورت حال میں دیکھ رہا ہے، جس میں توانائی کی تنصیبات کو براہِ راست خطرات، تیل کی برآمد کے راستوں میں خلل اور بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں انصار اللہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ جیسے عوامل شامل ہیں۔
 
دوسری جانب واشنگٹن، دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تزویراتی اور فوجی شراکت داری کے باوجود، بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت کے لیے زیادہ آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔

News ID 1941544

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha