مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹیکسی اور کرائے کی گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے پیر کے روز روم میں اٹلی کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے سامنے جمع ہو کر ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔
خبر رساں ایجنسی آنسا کے مطابق، مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتِ حال برقرار رہی تو احتجاج ہڑتال میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اٹلی کی ٹیکسی انجمنوں ’’اٹ ٹیکسی‘‘، ’’اوری ٹیکسی‘‘ اور ’’یونیکوپ‘‘ کے علاوہ کرائے کی گاڑیوں کے شعبے سے وابستہ افراد نے بھی اس اجتماع میں شرکت کی۔
اب تک خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ کی اطلاع نہیں ملی، تاہم دیگر یونینوں نے منگل کے روز فلورنس میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع کے انعقاد کی منصوبہ بندی کی ہے۔
مظاہرین نے ٹیکس کے حوالے سے مالی معاونت میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے، جس میں ان ٹیکس کریڈٹس کی بحالی بھی شامل ہے جن میں بتدریج کمی کی گئی ہے۔ فیدرتاکسی سیسال کے کارلو دی الیساندرو نے اعلان کیا کہ بحران شروع ہونے کے بعد سے کاروباری اخراجات میں 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے اور ہڑتال اب بھی زیرِ غور اختیارات میں سے ایک ہے۔
اٹلی کے وزیرِ ٹرانسپورٹ ماتّیو سالوینی اور ان کے نائب ادوآردو ریکّی منگل کے روز سڑک کے ذریعے نقل و حمل کے شعبے کے نمائندوں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ یہ اجلاس گزشتہ ہفتے حکومت کی جانب سے 105 ملین یورو کی ہنگامی امداد مختص کیے جانے کے بعد منعقد ہو رہا ہے۔
اٹلی نے جمہوریہ چیک، رومانیہ اور سلوواکیہ کے ساتھ مل کر یورپی یونین سے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کے ایندھن کے اخراجات میں اضافے کی تلافی کے لیے زرعی شعبے کی عارضی امداد میں توسیع کی منظوری دی جائے۔
توقع ہے کہ یہ تجویز منگل کے روز یورپی یونین کی زراعت اور ماہی گیری کونسل کے اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
آپ کا تبصرہ