مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: قابض صیہونی حکومت کے پارلیمانی انتخابات میں چند روز باقی رہ گئے ہیں۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سابقہ مؤقف میں واضح تبدیلی کرتے ہوئے غاصب صیہونی حکومت کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی کھل کر حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے حوالے سے دھمکی آمیز بیانات میں شدت کے ساتھ سامنے آنے والا یہ اقدام ایک بار پھر قابض صیہونی حکومت کے وزیرِاعظم کے انتخابی حساب کتاب اور وائٹ ہاؤس کی علاقائی پالیسیوں کے درمیان تعلق کو نمایاں کرتا ہے۔ صیہونی اخبار ہاآرتص میں شائع ہونے والے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی یہ حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیتن یاہو کو اندرونی طور پر سیاسی دباؤ، کابینہ کی کارکردگی پر تنقید اور حکمران اتحاد کے مستقبل کے حوالے سے خدشات کا سامنا ہے۔
ہاآرتص کے سیاسی تجزیہ کار یوسی ورتر نے 19 اکتوبر کو شائع ہونے والی اپنی رپورٹ میں نیتن یاہو کے لیے ٹرمپ کی حالیہ حمایت کو ایک طرح کی ’’انتخابی حیرت‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق امریکی صدر نے اسرائیلی انتخابات میں امیدواروں کی حمایت سے گریز کرنے کے اپنے سابقہ اعلان کے باوجود اچانک مؤقف تبدیل کر لیا اور ایران کو اس حمایت کے اہم محوروں میں شامل کر دیا۔
اس اخبار کے مطابق، ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں بالواسطہ طور پر یہ پیغام دیا کہ نیتن یاہو کی شکست ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے یک طرفہ کارروائی کے امکان پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس مؤقف کے نتیجے میں ایران کا معاملہ محض ایک سکیورٹی اور سفارتی مسئلے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انتخابی مقابلے کا حصہ بھی بن جاتا ہے۔ یہ طرزِعمل علاقائی خطرات کو عوامی رائے پر اثر انداز ہونے کے لیے بطورِ ہتھیار استعمال کرنے کے خدشات میں اضافہ کر سکتا ہے۔
نیتن یاہو کو اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں تشویش
ورتر کے حوالے سے پیش کیے گئے جائزوں کے مطابق، نیتن یاہو کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی کو آئندہ انتخابات میں اپنی نشستوں کی تعداد میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں نقل کیے گئے اندازوں کے مطابق، اس جماعت کی موجودہ 32 نشستیں کم ہو کر تقریباً 18 سے 21 رہ سکتی ہیں، جبکہ حکمران اتحاد کی نشستوں کی تعداد میں بھی کمی متوقع ہے۔ یہ اعداد و شمار انتخابی اندازے ہیں اور انتخابات کے حتمی نتائج کا تعین نہیں کرتے، تاہم یہ ووٹنگ سے قبل نیتن یاہو کی مشکل سیاسی صورتِ حال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایسے حالات میں امریکی صدر کی حمایت نیتن یاہو کو انتخابی مہم کے لیے ایک موقع فراہم کر سکتی ہے، بالخصوص اس لیے کہ قابض صیہونی حکومت کے وزیرِاعظم گزشتہ برسوں کے دوران خود کو ایسی شخصیت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جو اسرائیل کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ قریبی تعلقات سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ تاہم، ٹرمپ کی حمایت لازماً اسرائیلی ووٹروں کی رائے میں تبدیلی کا سبب نہیں بنے گی، کیونکہ دونوں رہنماؤں کے قریبی تعلقات پہلے ہی عوامی سطح پر معروف ہیں۔
ورتر اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ٹرمپ اس سے پہلے بھی دوسرے ممالک کے انتخابی مقابلوں میں مداخلت کر چکے ہیں، لیکن یہ مداخلتیں ہمیشہ ان کے حسبِ خواہش نتائج پر منتج نہیں ہوئیں۔ اس تجزیہ کار کے مطابق، امریکی صدر نے اب اپنی سیاسی ساکھ کے ایک اہم حصے کو قابض اسرائیلی وزیرِاعظم کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ اگر نیتن یاہو کامیاب نہ ہو سکے تو اس اقدام کے نتیجے میں اسرائیل کی سیاسی صورتِ حال پر واشنگٹن کے اثر و رسوخ کی حدود کے بارے میں سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
اندرونی بحران اور نسل پرستانہ تنازعات
ہاآرتص کی رپورٹ میں نیتن یاہو کے لیے ٹرمپ کی حمایت کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی کشیدہ سیاسی فضا اور وزیرِاعظم کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع ابلاغ کی شخصیات کی جانب سے گادی آئزن کوٹ پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ آئزن کوٹ فوج کے سابق چیف آف جنرل اسٹاف اور نیتن یاہو کے سیاسی حریفوں میں شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کے چینل 14 کے میزبان ینون مگال، جو نیتن یاہو کے حامی سیاسی حلقے کے قریب سمجھے جاتے ہیں، نے آئزن کوٹ کو نسل پرستانہ اور توہین آمیز الفاظ میں نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ اشکنازی شخصیات انہیں سیاسی منظرنامے پر لائی ہیں اور ان کی رہنمائی کر رہی ہیں۔ ان بیانات پر تنقید کی گئی، جبکہ نیتن یاہو نے بھی تقریباً 12 گھنٹے بعد ان کی مذمت کی۔
ورتر نے نیتن یاہو کے اس تاخیر سے سامنے آنے والے ردِعمل کا تجزیہ لیکوڈ پارٹی کے انتخابی حساب کتاب کے تناظر میں کیا ہے۔ اس جماعت کی سماجی حمایت کی ایک اہم بنیاد مزراحی یہودیوں میں موجود ہے اور وہ نہیں چاہتی کہ انتخابات سے قبل اس معاشرے کے ایک حصے کی جانب سے اسے نسلی امتیاز کو نظرانداز کرنے کے الزام کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیل میں انتخابی مقابلہ صرف سکیورٹی پالیسیوں پر اختلافات تک محدود نہیں، بلکہ شناخت اور سماجی تقسیم سے متعلق دراڑیں بھی سیاسی جماعتوں کی پوزیشن پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
انتخابی سیاست اور علاقائی کشیدگی کا باہمی تعلق
ہاآرتص کی رپورٹ کا ایک اہم نکتہ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات میں موجود تضاد ہے۔ دونوں نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد میں قریبی تعاون کیا ہے، لیکن اس تعاون کے باوجود ان کے درمیان اختلافِ رائے اور ایک دوسرے پر دباؤ ڈالنے کی صورتِ حال ختم نہیں ہوئی۔ اس سے قبل بھی ٹرمپ نے بعض علاقائی معاملات، جن میں غزہ کا مسئلہ اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات شامل ہیں، کے حوالے سے نیتن یاہو کے سامنے ایسے مطالبات رکھے تھے جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ واشنگٹن کی حمایت کا مطلب غیر مشروط ساتھ دینا نہیں ہے۔
اب جبکہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کے انتخابات اور امریکہ میں کانگریس کے وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہیں، ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی کھلی حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں بھی اسرائیلی پالیسی زیادہ سیاسی حساسیت کا موضوع بن رہی ہے۔ ورتر نے امریکہ کے متعدد انتخابی حلقوں میں اسرائیل کے معاملے کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس حمایت کو وائٹ ہاؤس کے اندرونی سیاسی حساب کتاب کے حوالے سے قابلِ غور اقدام قرار دیا ہے۔
مجموعی طور پر، ہاآرتص کی رپورٹ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ایسی تصویر پیش کرتی ہے جس میں ایک حساس مرحلے پر دونوں کے سیاسی مفادات ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ نیتن یاہو کو اپنے طاقتور اتحادی کی حمایت درکار ہے، جبکہ ٹرمپ بھی اسرائیل میں ایک ایسی قیادت کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کے لیے جانی پہچانی ہے۔ تاہم، ایران کے معاملے کو انتخابی حمایت کا محور بنانے سے یہ خطرہ پیدا ہوتا ہے کہ خطے کے پیچیدہ سکیورٹی اور سفارتی مسائل سیاسی مقابلہ آرائی سے مزید متاثر ہوں گے؛ ایسی مقابلہ آرائی جس کے نتائج اسرائیل کی حدود سے آگے بڑھ کر علاقائی استحکام پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ