مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مسعود پزشکیان نے روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات اور باہمی روابط میں مسلسل پیش رفت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون کی سطح بلند کرنے، سیاسی و سفارتی ہم آہنگی مضبوط بنانے اور تہران و ماسکو کے درمیان تزویراتی تعلقات کے دائرے میں طے پانے والے معاہدوں پر مسلسل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
ایرانی صدر نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں اور رابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روسی صدر کے ساتھ مسلسل مشاورت کے دوران دوطرفہ مفاہمتوں، عملی منصوبوں اور مشترکہ تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر سنجیدگی سے کام جاری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ماسکو کے آئندہ دورے کے دوران معاہدوں پر عملی پیش رفت اور طے شدہ شعبوں میں ٹھوس نتائج کے حصول کے لیے ضروری حالات فراہم ہوں گے۔
پزشکیان نے حالیہ جنگ کے دوران روسی صدر، حکومت اور عوام کے مؤقف اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی حمایت جاری رکھنے اور سیاسی و سفارتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایرانی صدر نے بحیرۂ خزر اور تجارتی تعاون کے شعبوں میں طے پانے والی مفاہمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں اقتصادی اور علاقائی روابط کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک موزوں بنیاد قرار دیا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ روس کے آئندہ دورے کے دوران توانائی، نقل و حمل اور بجلی گھروں کے شعبوں میں دونوں ممالک کے معاہدوں کو عملی تقاضوں، نفاذ کے طریقۂ کار اور واضح نظام الاوقات پر توجہ دیتے ہوئے عمل درآمد اور استفادے کے مرحلے میں داخل کیا جائے گا۔
اس موقع پر پزشکیان نے علاقائی صورتِ حال اور ایران کے خلاف غاصب صیہونی حکومت اور امریکہ کی حالیہ جارحیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رہبرِ انقلاب، کمانڈروں، سائنس دانوں اور طلبہ کو شہید کرنا اور ہمارے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا کسی بھی منطق اور بین الاقوامی و قانونی معیار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئیں جب اسلامی جمہوریہ ایران مذاکرات اور سفارتی روابط کے راستے پر گامزن تھا۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران یہ قبول نہیں کرتا کہ کوئی ملک اپنی طاقت اور دباؤ کے ذرائع کا سہارا لے کر اپنی مرضی اور خواہشات دوسری قوموں پر مسلط کرے۔ ہم ایسی دنیا کے خواہاں ہیں جو باہمی احترام، قوموں کے حقوق کی پاسداری، تعمیری تعاون اور کثیرالجہتی پر مبنی ہو۔ ہمارا ماننا ہے کہ روس بھی اس حوالے سے ایران کے ساتھ مشترکہ نظریات اور ہم آہنگ نقطۂ نظر رکھتا ہے۔
پزشکیان نے ایران کے خطے کے ممالک کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور اعتقادی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے ساتھ سفارت کاری مضبوط بنانے اور اسلامی ممالک کے درمیان تعمیری روابط کو وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خطے کے ممالک کے ساتھ وسیع ثقافتی اور اعتقادی اشتراکات ہیں اور ایران نے ہمیشہ باہمی روابط، برادرانہ تعلقات اور تعاون کی بنیاد پر اپنے تعلقات کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا خطے کے ممالک کے ساتھ کوئی بنیادی اختلاف نہیں ہے اور وہ موجودہ مسائل اور چیلنجوں کو مذاکرات، مفاہمت اور علاقائی طریقۂ کار کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی مداخلتیں اور تفرقہ انگیز پالیسیاں ہی ہمارے خطے میں اختلافات پیدا ہونے کا سبب بنی ہیں۔
پزشکیان نے خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ خطے کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کا قیام تناؤ میں اضافے، اختلافات کے شدت اختیار کرنے، عدم استحکام اور بدامنی کے سوا خطے کے لیے کوئی ثمر یا فائدہ نہیں رکھتا اور نہ ہی مستقبل میں رکھے گا۔
ایرانی صدر نے زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران امن و سلامتی، اقتصادی ترقی، ثقافتی و سائنسی تعاون اور عوامی روابط کے فروغ کے شعبوں میں خطے کے ممالک کے ساتھ کسی بھی مشترکہ اقدام اور طریقۂ کار کا خیرمقدم کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار سلامتی باہمی اعتماد، علاقائی ممالک کی شراکت داری اور تمام فریقوں کے جائز مفادات کے احترام کی بنیاد پر ہی یقینی ہوگی۔
پزشکیان نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بین الاقوامی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں نے یک طرفہ طرزِ عمل سے آگے بڑھنے اور جامع تعاون کے طریقۂ کار کی جانب پیش رفت کی ضرورت کو پہلے سے زیادہ نمایاں کر دیا ہے، کہا کہ ایران ایک منصفانہ اور باہمی احترام پر مبنی کثیرالجہتی نظام کی تشکیل کے راستے میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ روس، چین اور بریکس گروپ، شنگھائی تعاون تنظیم اور یوریشیائی اقتصادی اتحاد کے دیگر رکن ممالک بھی اقتصادی، سیاسی اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے اور بین الاقوامی معاملات میں کثیرالجہتی طریقۂ کار کے کردار کو مضبوط بنانے کی قابلِ ذکر صلاحیت رکھتے ہیں۔
پزشکیان نے ان تنظیموں کی صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے، اقتصادی روابط کو وسعت دینے، تجارت میں سہولت پیدا کرنے، مواصلاتی اور راہداری کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے اور علاقائی تعاون کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے دائرے میں ایران اور روس کے تعلقات کو فروغ دینا، دونوں ممالک کے تزویراتی تعاون کے تحت طے پانے والے معاہدوں اور مفاہمتوں پر درست طریقے سے عمل درآمد کے ساتھ، باہمی مفادات کو مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی سطح پر تعاون کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
اس موقع پر روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے نیز ایرانی صدر سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کیا اور تہران کے اپنے دورے نیز اسلامی جمہوریہ ایران کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں اور مشاورتوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔
روسی وزیر خارجہ نے اپنے دورے کے دوران ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملاقاتوں میں سیاسی، اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا اور دونوں فریقوں نے موجودہ معاہدوں اور مفاہمتوں پر عمل درآمد تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
لاوروف نے تہران کے ساتھ تعاون مضبوط بنانے کے لیے ماسکو کے عزم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تیل و گیس، مواصلات اور ذرائع ابلاغ، ثقافتی تعاون، نقل و حمل، توانائی اور سائنسی و جامعاتی روابط کو وسعت دینا دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم شعبوں میں شامل ہے۔
روسی وزیرِ خارجہ نے بین الاقوامی مسائل کے حوالے سے ایران اور روس کے نقطۂ نظر میں ہم آہنگی کا حوالہ دیتے ہوئے امن و سلامتی کے فروغ میں مدد کے لیے سفارتی مشاورت جاری رکھنے اور موجودہ صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر زور دیا۔
لاوروف نے بحیرۂ خزر کے شعبے میں طے پانے والی مفاہمتوں کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے مفادات کے تحفظ اور علاقائی ہم آہنگی کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ تعاون مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے ایران اور روس کے تعاون کی ترقی کو مشترکہ اہداف کے حصول اور خطے میں استحکام و تعاون کو مضبوط بنانے کا ایک مؤثر عامل قرار دیا۔
آپ کا تبصرہ