17 اکتوبر، 2026، 7:28 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایرانی قوم؛ امریکہ کے غلط اندازوں کی ناکامی کا سبب

ایرانی قوم؛ امریکہ کے غلط اندازوں کی ناکامی کا سبب

امریکی جریدے فارین افیئرز نے ’’ایران کی فتح کا نظریہ‘‘ کے عنوان سے اپنے تجزیے میں اسی مسئلے پر روشنی ڈالی ہے اور وضاحت کی ہے کہ فوجی حملے اور اقتصادی دباؤ، ابتدائی توقعات کے برعکس، امریکہ اور صیہونی حکومت کے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی سیاسی ڈیسک: جنگ جس کا مقصد ایران کو کمزور کرنا اور ایرانی معاشرے کو ملک کے سیاسی نظام کے خلاف کھڑا کرنا تھا، قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے اور واشنگٹن کے حساب کتاب کو تبدیل کرنے کا سبب بن گئی ہے۔ ایرانی قوم نے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی حکمت عملی تیار کرنے والوں کے تصور کے برخلاف، بعض داخلی مسائل پر تنقید اور بیرونی جارحیت کے مقابلے میں ملک کے دفاع کے درمیان فرق کیا ہے۔ اس فرق کو نظرانداز کرنا ان حکمت عملیوں کی ناکامی کا سبب بن سکتا ہے، جن کی بنیاد ایران کے داخلی اتحاد کو کمزور کرنے کی امید پر رکھی گئی ہے۔

امریکی جریدے فارین افیئرز نے ’’ایران کی فتح کا نظریہ‘‘ کے عنوان سے اپنے تجزیے میں اسی مسئلے پر روشنی ڈالی ہے اور وضاحت کی ہے کہ فوجی حملے اور اقتصادی دباؤ، ابتدائی توقعات کے برعکس، امریکہ اور صیہونی حکومت کے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

اس تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ایرانی عوام امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کو آزادی دلانے والی جنگ نہیں سمجھتے۔ اس کے برعکس، وہ اسے بلاجواز جارحیت تصور کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قوم پرستی نے سیاسی دھڑوں کے درمیان حدبندیوں کو دھندلا دیا ہے اور ایک نئی سیاسی تحریک کے ابھرنے کے امکان کو کم کر دیا ہے۔ اس جنگ نے اسلامی جمہوریہ کو مضبوط کیا ہے۔

اس جائزے کی اہمیت اس حقیقت میں ہے کہ کسی تصادم کے نتیجے کا اندازہ صرف فوجی نقصانات، بنیادی ڈھانچے کی تباہی یا اقتصادی دباؤ کی بنیاد پر نہیں لگایا جا سکتا۔ تزویراتی حساب کتاب میں معاشرے اور بحران کے حوالے سے عوام کے ردعمل کا کردار بھی فیصلہ کن ہوتا ہے۔ ممکن ہے کسی ملک کو اقتصادی طور پر سنگین مشکلات کا سامنا ہو اور اس کے بنیادی ڈھانچے کے بعض حصوں کو نقصان پہنچے، لیکن اس صورت حال کا لازمی مطلب سیاسی شکست یا قومی اتحاد کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ بالخصوص اس وقت جب عوام بحران کی بنیادی وجہ داخلی اختلافات کے بجائے بیرونی حملے اور اپنے ملک کی بقا کو لاحق خطرے کو سمجھتے ہوں۔

داخلی ناراضگیاں اور بیرونی جارحیت کے ردعمل میں فرق

واشنگٹن کے غلط اندازوں میں سے ایک ایران میں سماجی اور اقتصادی ناراضگی اور بیرونی فوجی حملے کے خلاف معاشرے کے ردعمل کے درمیان فرق کو نظرانداز کرنا ہے۔ معاشی حالات پر عدم اطمینان، سیاسی مطالبات اور حکام کی کارکردگی پر تنقید ایسی حقیقتیں ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا؛ لیکن ان مطالبات کی موجودگی سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ایرانی معاشرہ ہر قسم کے بیرونی دباؤ کے مقابلے میں اسی راستے پر چلے گا جس کی توقع اس دباؤ کے منصوبہ سازوں نے کر رکھی ہے۔

درحقیقت، بیرونی دباؤ معاشرے کی ترجیحات تبدیل کر سکتا ہے۔ جب لوگوں کو محسوس ہو کہ ان کی سلامتی، خودمختاری یا ملکی سالمیت خطرے میں ہے تو وہ عارضی طور پر داخلی اختلافات کو پس منظر میں ڈال سکتے ہیں اور ملک کا دفاع ان کی مشترکہ ترجیح بن سکتا ہے۔ اس ردعمل کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ تمام اختلافات ختم ہو گئے ہیں یا تنقید کا سلسلہ رک گیا ہے؛ بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی شناخت اور ملکی خودمختاری کے حوالے سے حساسیت ایسی صلاحیت رکھتی ہے جو سیاسی اختلافات سے الگ بھی موجود ہوتی ہے۔

اسی تناظر میں یہ توقع رکھنا کہ بمباری اور اقتصادی دباؤ خودبخود ایران کے سیاسی ڈھانچے کے خلاف احتجاج کا سبب بن جائیں گے، ایرانی معاشرے کی نامکمل شناخت پر مبنی ہے۔ ایسی توقع عوام کو محض ایک ایسے متغیر میں تبدیل کر دیتی ہے جو فوجی دباؤ کے تابع ہو؛ گویا اقتصادی اور انسانی نقصانات جتنے بڑھیں گے، حملہ آور کے مقاصد کے ساتھ معاشرے کی ہم آہنگی کا امکان بھی اتنا ہی زیادہ ہو جائے گا۔ حالانکہ بہت سے حالات میں بیرونی حملہ مشترکہ خطرے کے احساس کو مضبوط اور ہدف بننے والے معاشرے اور حملہ آوروں کے درمیان فاصلے کو مزید وسیع کر سکتا ہے۔

بیرونی دباؤ کے نتائج برعکس کیوں ہو جاتے ہیں؟

اقتصادی اور فوجی دباؤ اسی وقت منصوبہ سازوں کی مطلوبہ سیاسی تبدیلیوں کا سبب بن سکتا ہے جب دباؤ اور متوقع سیاسی نتیجے کے درمیان قابلِ اعتماد تعلق موجود ہو۔ تاہم، یہ تعلق نہ تو یقینی ہے اور نہ ہی تمام معاشروں میں یکساں انداز سے کام کرتا ہے۔ پابندیاں عوامی زندگی کے اخراجات میں اضافہ کر سکتی ہیں، اقتصادی سرگرمیوں کو متاثر کر سکتی ہیں اور معاشرے کے مختلف طبقات پر دباؤ ڈال سکتی ہیں؛ لیکن یہ دباؤ حکومت کو کمزور کرے گا، مخالفین کو مضبوط بنائے گا یا قومی یکجہتی میں اضافہ کرے گا، اس کا انحصار متعدد عوامل پر ہوتا ہے۔

ان عوامل میں سے ایک یہ ہے کہ معاشرہ اس دباؤ کے مقصد کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ اگر عوام یہ سمجھیں کہ بیرونی اقدامات ان کے حالاتِ زندگی بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں تو ان کا ردعمل اس صورت حال سے مختلف ہو سکتا ہے جس میں وہ ان اقدامات کو اپنی مرضی پر سیاسی ارادہ مسلط کرنے یا اپنے ملک کو کمزور کرنے کی کوشش سمجھتے ہوں۔

جب فوجی حملے کے ساتھ بنیادی ڈھانچے اور قومی صلاحیتوں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی دھمکیاں بھی شامل ہو جائیں تو یہ تصور مزید مضبوط ہوتا ہے کہ معاملہ محض کسی حکومت سے اختلاف کا نہیں، بلکہ ملک کی سلامتی اور مستقبل سے متعلق ہے۔

فارین افیئرز کا تجزیہ بھی سماجی فضا میں اسی تبدیلی پر زور دیتا ہے۔ اس جائزے کے مطابق، بیرونی حملوں نے موجود سیاسی اختلافات کو وسیع پیمانے پر عدم استحکام کا سبب بنانے کے بجائے بعض مواقع پر قوم پرستی کو مضبوط کرنے اور سیاسی دھڑوں کے درمیان حدبندیوں کو دھندلا کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ بعض امریکی پالیسی سازوں کے تصور کے برخلاف، بیرونی دباؤ قومی عزم کو کمزور نہیں کرتا، بلکہ ایسے گروہوں میں بھی ملک کے دفاع کا جذبہ بڑھا سکتا ہے جو بحران سے پہلے ایک دوسرے سے شدید اختلافات رکھتے تھے۔

قوم؛ تصادم کے نتیجے کا فیصلہ کن عامل

قومی طاقت صرف اسلحے کی قوت، اقتصادی صلاحیت یا جدید ٹیکنالوجی کی دستیابی تک محدود نہیں ہوتی۔ بحران کے حالات میں معاشرے کا اپنا اتحاد برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی کسی ملک کی طاقت کا حصہ ہے۔ جو ملک بیرونی دباؤ کے باوجود سماجی روابط اور قومی ذمہ داری کے احساس کو برقرار رکھ سکے، اس کے پاس ایسی صلاحیت ہوتی ہے جس کی مکمل وضاحت صرف فوجی حساب کتاب سے نہیں کی جا سکتی۔

اس سلسلے میں ایرانی قوم کے کردار کا جائزہ اس ملک کے تاریخی تجربے کے تناظر میں بھی لیا جانا چاہیے۔ خودمختاری، بیرونی مداخلت اور بڑی طاقتوں کی جانب سے اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوششوں کے حوالے سے حساسیت ایرانیوں کی سیاسی یادداشت کی تشکیل میں اہم موضوعات رہے ہیں۔ اس تاریخی پس منظر کا یہ مطلب نہیں کہ تمام ایرانی داخلی مسائل یا خارجہ پالیسی کے بارے میں یکساں رائے رکھتے ہیں؛ بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب بیرونی خطرہ نمایاں ہو جاتا ہے تو قومی وابستگی ایسے گروہوں کے درمیان مشترکہ نقطۂ اتفاق بن سکتی ہے جو معمول کے حالات میں بہت سے اختلافات رکھتے ہیں۔

البتہ، بحران کے دوران قومی یکجہتی مضبوط ہونے کو سماجی مطالبات کے مستقل خاتمے یا اقتصادی مسائل کے حل کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔ معاشی دباؤ بدستور عوام کی زندگیوں کو متاثر کر سکتا ہے اور بیرونی خطرہ کم ہونے کے بعد داخلی مطالبات دوبارہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ تاہم، یہی فرق ظاہر کرتا ہے کہ داخلی ناراضگی کو بیرونی فوجی اور سیاسی مقاصد آگے بڑھانے کے لیے ایک یقینی ذریعے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ جو معاشرہ اپنے حکام کی کارکردگی پر تنقید کرتا ہے، وہ لازماً بیرونی فوجی مداخلت یا اپنے ملک کو کمزور کرنے کا خواہش مند نہیں ہوتا۔

امریکی پالیسی سازوں کے لیے اس حقیقت کا پیغام واضح ہے: قومی شناخت، تاریخی تجربے اور خودمختاری کے حوالے سے ایرانی معاشرے کی حساسیت کو مدنظر رکھے بغیر اس معاشرے کو سمجھنے کی کوشش نامکمل جائزوں کا سبب بنے گی۔ اس مفروضے پر انحصار کہ دباؤ میں اضافہ خودبخود عوام کے سیاسی عزم کو واشنگٹن کی مطلوبہ سمت میں تبدیل کر دے گا، خود پالیسی سازوں کو اپنے فیصلوں کے حقیقی نتائج سے غافل کر سکتا ہے۔

آخرکار، ایران کے خلاف کسی حکمت عملی کی کامیابی یا ناکامی کا اندازہ صرف حملوں کی تعداد، نقصانات کی مقدار یا پابندیوں کی شدت سے نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ان اقدامات کے نتیجے میں کیا سیاسی اور سماجی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور آیا وہ معاشرے کو اپنے منصوبہ سازوں کے اعلان کردہ مقاصد کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوئے ہیں یا نہیں؟

فارین افیئرز کا تجزیہ جس پہلو کو نمایاں کرتا ہے، وہ امریکہ کی توقعات اور ایرانی معاشرے کے ردعمل کے درمیان فرق ہے۔ قوم کے کردار کو نظرانداز کرنا اس حساب کتاب کی اہم ترین کمزوریوں میں سے ایک ہے، کیونکہ بیرونی دباؤ داخلی اتحاد کے خاتمے کی ضمانت نہیں، بلکہ بعض حالات میں اس کے برعکس نتیجہ پیدا کر سکتا ہے اور ملک کے دفاع کے لیے قومی عزم کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

News ID 1942180

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha