مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، میثم لک زئی نے ملک بھر میں تعلیمی منصوبوں سے استفادے کے آغاز کی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب سیستان و بلوچستان کے گورنر، صوبے کے محکمہ تعلیم اور اسکولوں کی تعمیر و ترقی کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرلز اور اسکول تعمیر کرنے والے مخیر حضرات کی انجمن کے اراکین کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی مقامات کی توسیع اور طلبہ کی تعلیم کے لیے مناسب حالات فراہم کرنا نظامِ تعلیم کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان منصوبوں سے استفادے کا آغاز تعلیمی مقامات کی کمی کو کم کرنے اور تعلیمی انصاف کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔
سیستان و بلوچستان میں اسکولوں کی تعمیر، ترقی اور آلات کی فراہمی کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے تعلیمی شعبے میں ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کے لیے صوبے کے گورنر کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ انتظامی اداروں کے تعاون اور صوبائی حکام کی مسلسل کوششوں سے اسکولوں کی تعمیر کے منصوبوں کی تکمیل کے عمل میں تیزی آئی ہے اور طلبہ کے لیے تعلیمی مواقع کو وسعت دینے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
انہوں نے صوبے کے مختلف علاقوں میں تعلیمی مقامات کی متوازن توسیع کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کا وسیع جغرافیائی پھیلاؤ اور مختلف علاقوں کی تعلیمی ضروریات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہدف پر مبنی منصوبہ بندی کی جائے، مالی وسائل فراہم کیے جائیں اور انتظامی اداروں کے ساتھ عوام کی شرکت کو یقینی بنایا جائے۔
لک زئی نے اسکولوں کی تعمیر میں مخیر حضرات کی شرکت کو تعلیمی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے اہم عوامل میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ مخیر حضرات کا حکومت کے ساتھ تعاون نہ صرف اسکولوں کی تعمیر میں تیزی لاتا ہے، بلکہ طلبہ کے مستقبل کے لیے سماجی شرکت کو وسعت دینے کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جہاد ٹاؤن میں مرحوم عباس زادہ کے نام سے منسوب 9 کلاس رومز پر مشتمل اسکول کا افتتاح کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اسکول ایک ہزار 40 مربع میٹر رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے، جس پر 35 ارب تومان سے زائد لاگت آئی ہے۔ اس کی تعمیر مخیر حضرات، حاج محمد عباس زادہ اور محترمہ خانم خادم کے تعاون اور مشترکہ کوششوں سے مکمل ہوئی ہے۔
سیستان و بلوچستان میں اسکولوں کی تعمیر و ترقی کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے ان مخیر حضرات کی شرکت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اسکول کی تعمیر تعلیمی مقامات کی توسیع اور طلبہ کی تعلیم و صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے مناسب ماحول فراہم کرنے کی جانب ایک دیرپا اقدام ہے۔
لک زئی نے آخر میں زور دیتے ہوئے کہا کہ تعلیمی انصاف کا قیام صرف اسکولوں کی تعمیر تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے ضروری منصوبوں کی تکمیل، تعلیمی مقامات کے معیار کو بہتر بنانے اور عوامی تعاون کو جاری رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ صوبے میں اسکولوں کی تعمیر و ترقی کا ادارہ، انتظامی اداروں اور مخیر حضرات کے تعاون سے سیستان و بلوچستان میں یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے یہ سلسلہ جاری رکھے گا۔
آپ کا تبصرہ