19 اکتوبر، 2026، 6:00 PM

اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں ضبط و تحمل کا مرحلہ ختم ہو چکا، حزب الله

اشتعال انگیزیوں کے مقابلے میں ضبط و تحمل کا مرحلہ ختم ہو چکا، حزب الله

روزنامہ الاخبار نے لکھا ہے کہ حزب اللہ نے لبنانی حکومت کو مزاحمت کے خلاف اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ جاری رکھنے پر سختی سے خبردار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ اشتعال انگیزیوں اور دباؤ کے مقابلے میں ضبط و تحمل کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روزنامہ الاخبار لبنان نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ لبنانی حکومت کے بعض اہم عہدیدار مزاحمت پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کرنا چاہتے ہیں، لکھا ہے کہ اب یہ دباؤ صرف سیاسی مہم جوئی تک محدود نہیں رہا، بلکہ عملی اقدامات تک پہنچ چکا ہے۔

لبنان کے استیناف پراسیکیوٹر، جج احمد رامی الحاج کی جانب سے حزب اللہ کے عہدیداروں کے خلاف تعاقب اور انہیں حزب اللہ کے اسلحے سے بھرے ٹرک کے معاملے میں مبینہ تعلق کے الزام پر طلب کرنے کے لیے سکیورٹی اداروں کو جاری کیے گئے سمن کی باضابطہ تردید جاری کرنے سے انکار کے بعد، گزشتہ دو دنوں کے دوران ہونے والے رابطوں میں حزب اللہ کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا۔ یہ پیغام نہ صرف ایوانِ صدر اور وزارتِ عظمیٰ کے سیاسی عہدیداروں کے لیے تھا بلکہ سکیورٹی اور فوجی اداروں کے لیے بھی تھا۔ اس میں خبردار کیا گیا کہ حزب اللہ کے عہدیداروں کو گرفتار کرنے یا اس شبہے کی بنیاد پر مختلف مقامات پر چھاپے مارنے کی کسی بھی عملی کارروائی سے گریز کیا جائے کہ ان مقامات کو اسلحے کے گوداموں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس پیغام میں واضح الفاظ میں کہا گیا کہ حزب اللہ اس نوعیت کے کسی بھی اقدام پر خاموش نہیں رہے گی اور ریاستی حکام اور ان کے اداروں کے رویے کے مقابلے میں ضبط و تحمل کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔

عوام کی جانب سے حکومت کے خلاف ردعمل کو قابو میں رکھنے کے لیے حزب اللہ کی کوششوں کے باوجود، اس تحریک نے مختلف سطحوں کے حکام کو آگاہ کر دیا ہے کہ اب برداشت اور نرمی کی پالیسی جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ یہ صورتِ حال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ لبنانی ریاست اور اس کے اداروں کے ذریعے ملک کو غیر مسلح کرنے کے عنوان سے داخلی محاذ آرائی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اسی سلسلے میں توقع ہے کہ لبنان کے صدر جوزف عون فوج کے کمانڈروں، سکیورٹی اداروں اور داخلی سکیورٹی فورسز کے عہدیداروں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کریں گے۔ اس اجلاس میں متعدد معاملات کا جائزہ لیا جائے گا، جن میں ان کے طے شدہ دورۂ طرابلس کی تیاریاں بھی شامل ہیں۔

روزنامہ الاخبار نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اجلاسوں اور مسلسل رابطوں کا ایک سلسلہ منعقد ہوا ہے، جن کا مقصد امریکی اور سعودی مفادات کے حصول کے لیے لبنانی ریاست کو داخلی محاذ آرائی کی جانب لے جانا ہے۔

باخبر ذرائع نے قطر کے وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ محمد بن عبدالرحمن کے لبنان کے حالیہ دورے کا حوالہ دیا اور یاد دلایا کہ یہ دورہ صرف بجلی کے معاملے تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس میں سیاسی صورتِ حال سے متعلق پیش رفت بھی شامل تھی۔ ان معاملات میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات میں لبنان کی حیثیت اور ایران کے خلاف جنگ کے دوران غاصب صیہونی حکومت کی جانب سے لبنان کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کے خطرات بھی زیرِ بحث آئے۔

News ID 1942220

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha