13 اکتوبر، 2026، 2:03 PM

سعودی عرب میں بن سلمان کے خلاف ہر انقلابی اقدام کی حمایت کریں گے، یمن

سعودی عرب میں بن سلمان کے خلاف ہر انقلابی اقدام کی حمایت کریں گے، یمن

انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی کا کہنا ہے کہ بن سلمان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے عوامی تحریک، سعودی مخالفین یا شاہی خاندان کی کسی بھی کوشش کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمنی تحریک انصاراللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد البخیتی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے سعودی عرب کے اندر کسی بھی انقلابی اقدام کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے یمن کی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔

البخیتی نے کہا کہ محمد بن سلمان نے یمن پر جارحیت اس خیال کے تحت شروع کی تھی کہ وہ مختصر وقت میں جنگ ختم کرکے کامیابی حاصل کرلیں گے۔ اسی لیے انہوں نے اس کارروائی کا نام ’’طوفان قاطعیت‘‘ رکھا، لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ فوجی طاقت کے ذریعے فتح حاصل کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ 2017ء میں انہوں نے ایک اور حکمت عملی، یعنی طویل جنگ، پر انحصار کرنا شروع کردیا۔

البخیتی نے کہا کہ سعودی عرب کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف یمن کی فوجی کارروائیوں کا مقصد انتقام یا بدلہ لینا نہیں، بلکہ بن سلمان کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ محفوظ رہ کر یمن کے خلاف جارحیت جاری نہیں رکھ سکتے۔ طویل جنگ کی حکمت عملی سعودی عرب کے مفاد میں نہیں، کیونکہ اس جنگ کی قیمت سعودی عرب کو یمن سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دباؤ بن سلمان کو یمن کے منصفانہ مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کافی ہے۔ یمن کے مطالبات میں جنگ کا خاتمہ اور دونوں جانب سے محاصرہ اٹھانا شامل ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور ایک دوسرے کا محاصرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے جنگ کا خاتمہ اور محاصرہ ختم کرنا دونوں کے مشترکہ مفاد میں ہے، اگرچہ اس سے سعودی عرب کو زیادہ فائدہ ہوگا۔

البخیتی نے خبردار کیا کہ بن سلمان کی ہٹ دھرمی انہیں جنگ جاری رکھنے پر مجبور کرسکتی ہے، جس کی سعودی عرب کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی اور نتیجتاً کئی دہائیوں میں تعمیر ہونے والا اس کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بنیادی ڈھانچہ بن سلمان کی ذاتی ملکیت نہیں، بلکہ سرزمین حرمین شریفین کے عوام کا حق ہے۔

انہوں نے کہا کہ انصاراللہ سعودی عرب کے تمام بنیادی ڈھانچے کی تباہی نہیں چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ اگر بن سلمان جنگ جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہیں تو سرزمین حرمین شریفین کے عوام کو آگے آنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے ملک گیر عوامی تحریک شروع ہوسکتی ہے، سعودی حکومت کے مخالفین، بالخصوص اسلامی بیداری کی تحریک، میدان میں آسکتی ہے یا شاہی خاندان بن سلمان کو ہٹا کر آل سعود کے کسی دوسرے شہزادے کو اقتدار سونپ سکتا ہے۔ بن سلمان کی حکمرانی جاری رہنا اب سعودی عرب اور اس کے عوام کے مفاد میں نہیں۔

البخیتی نے اعلان کیا کہ انصاراللہ سعودی عرب میں کسی بھی عوامی تحریک اور سعودی مخالفین، بالخصوص اسلامی بیداری کی تحریک، کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تحریک سے وابستہ ہزاروں افراد بن سلمان کی جیلوں میں قید ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ انصاراللہ شاہی خاندان کی جانب سے بن سلمان کو ہٹانے کی کسی بھی کوشش میں بھی تعاون کرے گا تاکہ سرزمین حرمین شریفین کے بنیادی ڈھانچے کو تباہی سے بچایا جاسکے۔ یہ بنیادی ڈھانچہ تیل اور گیس کے وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی اور حج و عمرہ سے ملنے والے مالی وسائل سے تعمیر ہوا ہے، نہ کہ بن سلمان یا آل سعود کی ذاتی دولت سے۔ انہوں نے شاہی خاندان پر ان وسائل کے ایک بڑے حصے کی چوری کا الزام بھی عائد کیا۔

البخیتی نے کہا کہ انصاراللہ سعودی عرب میں ملک گیر انقلابی تحریک، اسلامی بیداری کی تحریک کی قیادت میں حکومت مخالف اقدام یا شاہی خاندان کے اندر بن سلمان کو اقتدار سے ہٹانے کی کسی بھی کوشش کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔

News ID 1942082

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha