22 ستمبر، 2026، 10:04 PM

امریکیوں کی دیرینہ آرزو؛ وزیرِ خارجہ کا اقوامِ متحدہ میں ایرانی حکام سے ملاقات کی آمادگی کا اظہار

امریکیوں کی دیرینہ آرزو؛ وزیرِ خارجہ کا اقوامِ متحدہ میں ایرانی حکام سے ملاقات کی آمادگی کا اظہار

امریکی وزیرِ خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن، اقوامِ متحدہ میں ایرانی حکام سے ملاقات کے لیے تیار ہے، تاہم ابھی تک ایسی کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے این بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی حکام کے ساتھ ملاقات کے لیے تیار ہے۔

روبیو نے کہا کہ ہم ایسی ملاقات کے لیے تیار ہیں۔ میرے خیال میں اس وقت ایسی کوئی ملاقات طے نہیں ہے، لیکن ہم یقیناً اس کے لیے تیار ہیں، بالخصوص اگر اس بات کا امکان ہو کہ اس کے نتیجے میں کوئی مثبت پیش رفت ہو اور بالآخر اس معاملے کے بنیادی مقصد کو حاصل کیا جا سکے۔

انہوں نے اپنے ملک کے جارحانہ مؤقف کو دہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مقصد یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ انہیں کسی صورت ایسا ہتھیار نہیں رکھنا چاہیے۔

واضح رہے گزشتہ چند روز کے دوران امریکی صدر نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ وہ رواں ہفتے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر سے ملاقات کی تجویز کا خیرمقدم کریں گے۔

یاد رہے یہ یہ امریکہ کی ایرانی حکام سے ملاقات کی کوئی پہلی آرزو یا خواہش نہیں، بلکہ ماضی میں بھی امریکہ کے مختلف حکام اور صدور کی طرف سے ایسی خواہش کا اظہار ہوتا رہا ہے؛ تاہم اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے ہر بار امریکیوں کی خواہش کو ٹھکرا کر انہیں اقوامِ عالم اور انسانی دشمن قرار دیا ہے۔

روبیو نے ایندھن کی منڈی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہوئے این بی سی کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل اس وقت اپنی سابقہ سطح کے تقریباً 60 سے 70 فیصد تک ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے!

انہوں نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازع کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ ریاض کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور اس کی حمایت کریں گے۔ ہم سعودی عرب کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے پابند ہیں اور اس تنازع کے حل کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو میں بھی کہا کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے اور ہم اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ایسا کریں گے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے نیٹو کے بعض اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اس بات پر ’’مایوس‘‘ ہے کہ بعض نیٹو اتحادیوں نے ایران کے خلاف حملوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

واضح رہے اٹلی، اسپین اور پولینڈ ان نیٹو ارکان میں شامل ہیں جنہوں نے ایران جنگ سے متعلق کاروائیوں کے لیے امریکہ کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی مکمل یا جزوی اجازت دینے کی مخالفت کی تھی۔

News ID 1941578

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha