19 اکتوبر، 2026، 7:12 AM

سیستان و بلوچستان میں بزدلانہ کاروائی میں شہید ہونے والی شہیدہ نصرت افتخاری کون؟

سیستان و بلوچستان میں بزدلانہ کاروائی میں شہید ہونے والی شہیدہ نصرت افتخاری کون؟

زاہدان میں شہید ہونے والی شہیدہ نصرت افتخاری کے شوہر کے مطابق، شہیدہ محروم افراد، بالخصوص بلوچ بچوں کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھتی تھیں اور اپنی تنخواہ کا ایک حصہ ان بچوں کی خوشیوں پر خرچ کرتی تھیں۔

شہیدہ نصرت افتخاری کے شوہر نے مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو میں لوگوں، بالخصوص سیستان و بلوچستان کے دیہی علاقوں میں رہنے والے محروم خاندانوں اور بچوں کی خدمت کے لیے اپنی اہلیہ کی برسوں پر محیط کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذاتی تنخواہ میں سے بھی ضرورت مندوں کی خوشیوں کے لیے رقم مختص کرتی تھیں۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ محروم لوگوں کی خدمت، میری اہلیہ کی زندگی کا لازمی حصہ تھی؛ کہا کہ نصرت ہمیشہ کوشش کرتی تھیں کہ لوگوں کی مشکلات حل کرنے میں مدد کریں اور بالخصوص محروم علاقوں میں رہنے والے بلوچ بچوں کو خوشیاں فراہم کریں۔ وہ اپنی تنخواہ کا ایک حصہ ضروری سامان اور دیگر اشیا خریدنے پر خرچ کرتی تھیں، پھر انہیں دیہات میں لے جا کر ان بچوں اور خاندانوں کو تحفے میں دیتی تھیں جنہیں ان کی ضرورت ہوتی تھی۔

سیستان و بلوچستان میں بزدلانہ کاروائی میں شہید ہونے والی شہیدہ نصرت افتخاری کون؟

شہیدہ افتخاری کے شوہر نے اس شہیدہ خاتون کی ذمہ داری کے احساس اور لوگوں کی مشکلات کے حوالے سے ان کی فکرمندی کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ عوام کی خدمت کو محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں سمجھتی تھیں، بلکہ اسے ایک انسانی فریضہ اور اپنی زندگی کا سرمایہ تصور کرتی تھیں۔ لوگوں کی محرومیوں کو نظرانداز کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا اور جہاں بھی انہیں محسوس ہوتا کہ وہ کچھ کر سکتی ہیں، مدد کے لیے آگے بڑھ جاتی تھیں۔

انہوں نے شہیدہ نصرت افتخاری کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میری اہلیہ نے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کئی سال حوزہ علمیہ میں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد، ۱۳۸۰ ہجری شمسی میں، اس یقین کے ساتھ کہ وہ عوام اور ملک کی خدمت کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں، پولیس فورس میں ملازمت اختیار کی اور وطن اور عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔

سیستان و بلوچستان میں بزدلانہ کاروائی میں شہید ہونے والی شہیدہ نصرت افتخاری کون؟

وہ آخری صبح جب وہ گھر واپس نہ آئیں

شہیدہ کے شوہر نے کہا کہ جمعے کے روز، ۱۷ مہر کو صبح تقریباً سات بجے، وہ گھر سے نکلیں، تاکہ محروم لوگوں کی خدمت کے لیے اپنی ڈیوٹی پر جا سکیں۔ ہم ان کی واپسی کے منتظر تھے۔ ہمیشہ کی طرح ہمیں امید تھی کہ ڈیوٹی کے اوقات ختم ہوں گے اور ہم انہیں دوبارہ اپنے درمیان دیکھ سکیں گے، لیکن اس بار ہمارا انتظار دوبارہ ملاقات میں تبدیل نہ ہو سکا۔

انہوں نے بلوچ ثقافت میں خواتین کے احترام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچ عوام کی ثقافت میں عورت اور اس کی چادر کو خاص حرمت حاصل ہے، جبکہ خواتین اور بزرگوں کا احترام اس قوم کے پختہ عقائد اور دیرینہ روایات کا حصہ ہے؛ اسی لیے میری اہلیہ کو بزدلانہ کارروائی میں شہید کرنا، وہ خاتون جس نے اپنی زندگی عوام کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی، ہمارے لیے اور ان تمام لوگوں کے لیے، جو انہیں جانتے تھے، انتہائی تلخ اور ناقابلِ برداشت صدمہ ہے۔

سیستان و بلوچستان میں بزدلانہ کاروائی میں شہید ہونے والی شہیدہ نصرت افتخاری کون؟

ایک ماں کی خالی جگہ، جس کے ہم آج بھی منتظر ہیں

شہیدہ افتخاری کے شوہر نے آخر میں اس مجاہد خاتون کی شہادت کے بعد خاندان پر گزرنے والے مشکل دنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سات دن گزر چکے ہیں، لیکن ہماری اولاد کے درمیان ان کی محنت، محبت اور ماں کی شفقت کی جگہ خالی ہے۔ میں ہر روز بچوں کی بے قراری دیکھتا ہوں اور ان کی آنکھوں میں آنسو محسوس کرتا ہوں۔ وہ ابھی تک اپنی ماں کی جدائی کو قبول نہیں کر پائے ہیں۔ وہ گھر جو کبھی ان کی موجودگی اور محبت سے گرم رہتا تھا، اب اپنے اندر ایک بہت بڑی خالی جگہ محسوس کرتا ہے۔

سیستان و بلوچستان میں بزدلانہ کاروائی میں شہید ہونے والی شہیدہ نصرت افتخاری کون؟

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نصرت ہمارے لیے صرف ایک بیوی اور خاندان کی ماں نہیں تھیں، بلکہ وہ ایسی انسان تھیں جو محروم لوگوں کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتی تھیں اور دوسروں کی خدمت کو عملی طور پر اپنی زندگی کا حصہ بناتی تھیں۔ ان کی یاد اور ان کے راستے سے ہماری وابستگی اس ذمہ داری کے ساتھ جڑی ہوئی ہے کہ ہم بھی اسی خدمت، محبت اور ضرورت مندوں کی دیکھ بھال کے راستے کو جاری رکھیں۔

News ID 1942208

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha