مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے روزنامہ تہران ٹائمز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے خلاف ایک نئی جنگ کے امکان کو مسترد نہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ امریکہ کی جانب سے ایسی جنگ شروع کرنا غیر منطقی ہے، تاہم اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ان کے بقول ٹرمپ حکومت کو وسط مدتی انتخابات سے پہلے کسی کامیابی کی ضرورت ہے۔
جنرل محبی نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی نئی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ جواب دینے کے لیے تیار ہے اور ایسی کارروائی کے نتائج امریکہ کے لیے ’’زیادہ تکلیف دہ‘‘ ہوں گے۔
سپاہ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے امریکہ کی بیرون ملک جنگوں کی میڈیا کوریج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں امریکی عوام کو ان جنگوں کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہونے دیا جاتا اور مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ ان واقعات کی حقیقت چھپاتے ہیں جنہیں انہوں نے ’’بے رحمانہ جارحیت‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے ایرانی حکام کے درمیان اختلافات اور باہمی تعاون کے فقدان سے متعلق امریکی حکام کے بیانات کو بھی ’’بالکل جھوٹا‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ دعوے جنگ میں واشنگٹن کی ناکامیوں کا جواز پیش کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ