مہر خبررساں ایجنسی نے روزنامہ فنانشل ٹائمز کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب کو دفاعی مشکلات کا سامنا اس کے بھاری فوجی اخراجات یا جدید دفاعی نظاموں کی عدم دستیابی کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی وجوہات میں یمن کی مسلح افواج کی حکمتِ عملیوں میں پیش رفت، ریاض کے پاس دشمن کے میزائلوں کو روکنے والے گولہ بارود کی کمی، سعودی عرب میں نشانہ بننے والے اہداف کے دائرے میں توسیع اور میزائل داغنے والے متحرک لانچنگ پلیٹ فارمز کو نشانہ بنانے میں دشواری شامل ہیں۔
اس رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے دفاعی نظاموں کی نگرانی کی حدود کا پتا لگانے کے لیے صماد 2 اور صماد 3 قسم کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد کروز میزائل کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں اور ممکن ہے کہ اپنا راستہ بھی تبدیل کر لیں، جس کی وجہ سے ان کی نگرانی اور انہیں روکنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بحرین میں مقیم بین الاقوامی ادارۂ مطالعاتِ اسٹریٹجک کے محقق ساشا بروخمن نے زور دے کر کہا کہ یمن کی مسلح افواج نے سعودی عرب کے دفاعی ذخائر کو ختم کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے۔ اس حکمتِ عملی کے تحت یمنی فورسز مسلسل کئی دن تک ایک اہم ہدف کو بار بار نشانہ بناتی ہیں، تاکہ سعودی عرب اپنے محدود دفاعی نظاموں کو اس مقام کی طرف منتقل کرنے پر مجبور ہو جائے۔ اس کے بعد ان علاقوں کی نگرانی کی جاتی ہے جہاں سے یہ دفاعی نظام ہٹائے گئے ہوں اور ان تنصیبات کو تباہ کر دیا جاتا ہے جنہیں پہلے کے مقابلے میں کم دفاعی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
یمنی حملوں کا جغرافیائی طور پر سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں پھیل جانا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ اس ملک کے دفاعی نظام مسلسل ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہے۔
ادارۂ ٹرینڈز کے ڈائریکٹرز میں سے ایک اور چیٹم ہاؤس کے محقق بلال صعب نے بھی کہا کہ سعودی عرب کی حالیہ ناکامیوں کا تعلق انصارالله کی حکمتِ عملیوں اور سعودی دفاعی نظاموں کے درمیان رابطے اور ہم آہنگی کے مسائل سے ہے۔ مکمل فضائی دفاع ممکن نہیں ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمنی فورسز نے سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ برسوں کی جنگ کے دوران مغربی ریڈاروں اور دفاعی نظاموں کی کمزوریوں کو سمجھ لیا ہے۔ وہ اسرائیل اور امریکہ کے خلاف جنگ میں ایران کے تجربات سے بھی فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ