مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے معاہدۂ مکہ پر دستخط کے دو ماہ بعد اسے پارلیمان میں رائے شماری کے لیے پیش کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم پارلیمان کے متعدد ارکان نے معاہدے کی بعض شقوں اور اس کے مقاصد پر کھل کر مخالفت کا اظہار کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق اردوغان کا یہ اقدام اندرونِ ملک بڑھتی ہوئی تنقید، عوامی حلقوں میں ان خدشات اور معاہدے کے مقاصد کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں انقرہ یمن کی جنگ میں ملوث ہو سکتا ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان نے عوامی خدشات دور کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک کسی پر حملے کے لیے سعودی عرب فوج نہیں بھیجے گا، تاہم بظاہر ان وضاحتوں سے عوامی حلقوں کے تحفظات مکمل طور پر دور نہیں ہوئے۔
ترک صحافی اور مصنف مراد یتکین نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی عرب میں جنگی دستوں کے بجائے معاونت اور تربیت سے متعلق یونٹ بھیجنے کا منصوبہ زیرِ غور ہے۔
پارلیمان میں اردوغان کے اتحادی گروہوں کی حمایت کے باعث معاہدے کی منظوری بظاہر یقینی دکھائی دیتی ہے، تاہم یہ سوالات بدستور موجود ہیں کہ حکومت نے اسے موجودہ مرحلے پر پارلیمان میں پیش کرنے کا فیصلہ کیوں کیا اور آیا معاہدے کا مکمل متن ارکان کے سامنے رکھا جائے گا یا صرف ایک پریس بیان پر اکتفا کیا جائے گا۔
ترکیہ کی پارلیمان میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی جماعت ورکرز پارٹی کے نائب سربراہ اسکندر بایہان نے معاہدے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے برتاؤ کر رہی ہے جیسے پارلیمان پہلے ہی اس کی منظوری دے چکی ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس اقدام کا نتیجہ سامراجی قوتوں، مقامی سرمایہ داروں اور صدارتی محل کے مفادات کے لیے ترک فوجیوں کا خون بہنے کی صورت میں نکل سکتا ہے، جس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
بایہان نے معاہدۂ مکہ کے اتحاد کو خطے کی ازسرِنو تقسیم کے سامراجی منصوبے کا حصہ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ انقرہ اس معاہدے کے ذریعے اسلحے کی فروخت سے منافع اور سعودی عرب سے مالی امداد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
اسی تناظر میں ترک سیاسی کارکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن ایلکائے آقصوئی نے معاہدے کے دفاعی اور غیر جارحانہ ہونے سے متعلق حاکان فیدان کے بیان کو گمراہ کن اور متناقض قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ بیان اس بنیادی سوال کا جواب نہیں دیتا کہ حملوں کا واضح جواب دیے بغیر دفاع کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی پالیسیوں میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں حکومت نے شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف سرگرم مسلح گروہوں کی حمایت اور انہیں اسلحہ فراہم کیا، لیکن اب وہ سعودی عرب کی حکومت کے دفاع کی بات کر رہی ہے، جسے امریکا اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔ ان کے بقول، یہ طرزِ عمل ترکیہ کے مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
آقصوئی نے مزید کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو فوری مدد فراہم کرنے کا فیصلہ اس بات کی تصدیق کیے بغیر کیا گیا کہ آیا معاہدے میں اس کی واضح شق موجود ہے یا نہیں۔ حکومتی حلقے صرف یہ کہتے ہیں کہ معاہدے میں نیٹو کے آرٹیکل پانچ سے ملتی جلتی شق شامل ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر معاہدے میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جو ترک فوجیوں کی جان کو سعودی عرب کے لیے خطرے میں ڈالتی ہو تو پھر اس کا مکمل متن منظرِ عام پر کیوں نہیں لایا جا رہا؟
ترک پارلیمان کے اس رکن نے خبردار کیا کہ سعودی عرب میں ترک فوجیوں کی تعیناتی انہیں یمنی حملوں کا ممکنہ ہدف بنا سکتی ہے اور اس سے ایران کے ساتھ ترکیہ کے تعلقات بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
ترکیہ کی جماعت نیو ویلفیئر پارٹی کے سربراہ فاتح اربکان نے بھی معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اسرائیل کے دشمنوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے اور ترکیہ کو اسرائیل کے لیے ڈھال نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اتحاد میں شامل ممالک کو سعودی عرب کے بجائے غزہ کے دفاع کے لیے اپنی افواج تیار کرنی چاہییں۔
دوسری جانب، ترکیہ کی مرکزی اپوزیشن جماعت کے رابطہ کار ایلہان اوزگیل نے کہا کہ حکومت نے امن کے بجائے جنگ کا راستہ اختیار کیا ہے اور قومی مفادات اب خارجہ پالیسی کا بنیادی معیار نہیں رہے۔
اوزگیل نے اردوغان کی سابقہ پالیسیوں کا حوالہ دیتے ہوئے 2019 میں ان کے اس بیان کی یاد دہانی کرائی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کو آئینے میں دیکھنا چاہیے کہ یمن کو اس حال تک کون لے کر آیا۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر کسی معاہدے میں یہ شق شامل ہو کہ ایک فریق پر حملہ تمام فریقوں پر حملہ تصور ہوگا تو اس کا مطلب ہے کہ ترکیہ جنگ کا فریق بن رہا ہے۔
اوزگیل کے مطابق، جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نظام کا حصہ بننے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے ترکیہ کی خارجہ پالیسی اور قومی مفادات کے حوالے سے نئے سوالات جنم لے رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ