احمد انارکی محمدی نے مہر خبررساں ایجنسی سے گفتگو میں رہبرِ انقلابِ اسلامی کی عالمی طاقت میں ایران کے مقام پر تاکید کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے بارے میں رائے عامہ میں جن حقائق کی تبیین کرنی چاہیے ان میں سے ایک، ایرانی قوم پر عائد چند دہائیوں پر مشتمل پابندیاں اور دباؤ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انقلابِ اسلامی کے بعد ایران کو جنگ، پابندیوں، اقتصادی و سیاسی دباؤ اور سکیورٹی خطرات کا سامنا رہا، تاہم ان تمام دباؤ کے باوجود ملک نے اپنی ترقی اور داخلی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی طاقت صرف فوجی سازوسامان تک محدود نہیں، بلکہ سائنسی و صنعتی صلاحیتیں، اقتصادی وسائل، افرادی قوت، جغرافیائی محلِ وقوع اور سب سے بڑھ کر عوام کا عزم و اتحاد بھی قومی طاقت کا حصہ ہیں۔ ایرانی عوام نے مختلف مواقع، خصوصاً جنگ اور بیرونی خطرات کے دوران، ملک اور اس کی علاقائی سالمیت کے دفاع میں اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے اور اس سماجی سرمایہ کو محفوظ و مضبوط بنانا ضروری ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے رکن نے کہا کہ ایران دفاع کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے اور خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کے ساتھ معیشت اور ملکی پیداوار کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں اور دباؤ کے باوجود یونیورسٹیوں، علم پر مبنی کمپنیوں، مقامی ٹیکنالوجی اور مختلف صنعتوں میں ہونے والی پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کئی شعبوں میں اپنی بیرونی وابستگی کم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
انارکی محمدی نے کہا کہ اس بحث میں عوام کے اقتصادی اور معاشی مسائل کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ عوام تمام مشکلات کے باوجود ملک اور نظام کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، لہٰذا حکام کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی معاشی صورتحال بہتر بنانے، اقتصادی مشکلات کم کرنے اور ان کی فلاح و بہبود میں اضافے کے لیے کوشش کریں۔
آپ کا تبصرہ