مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی حلقے کے ایک باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ انہوں نے وینزویلا پر حملے اور اس ملک کے صدر کو اغوا کرنے کے حوالے سے کئی گھنٹوں تک مصنوعی ذہانت (گروک) سے مشورہ کیا۔
اس رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے گفتگو کے دوران اس سے سوال کیا کہ اگر مادورو کو گرفتار (اغوا) کر لیا جائے تو وینزویلا کے عوام کا ردعمل کیا ہوگا اور چند ہفتے بعد انہوں نے اس ملک پر حملے اور مادورو کو اغوا کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔
واضح رہے اس سے قبل، یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ امریکی فوج کی جانب سے مصنوعی ذہانت سے حاصل کردہ معلومات کے استعمال کے باعث چینی افواج کے ساتھ فوجی تصادم پیدا ہوتے ہوتے رہ گیا تھا۔
ڈیلی بیسٹ نے بھی رپورٹ کیا کہ مصنوعی ذہانت سے لیس چیٹ بوٹس میں سوچنے یا منطقی استدلال کی صلاحیت نہیں ہوتی، کیونکہ ان کے جوابات محض ان مواد کی عکاسی کرتے ہیں جن کی بنیاد پر انہیں تربیت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ وینزویلا میں امریکہ کے تجربے کے باعث ٹرمپ کو ایران پر حملہ کرنے کی ترغیب ملی اور وہ سمجھتا تھا کہ وینزویلا کی طرح ایران پر بھی فوری فتح حاصل کر سکتا ہے، لیکن سات ماہ گزرنے کے بعد بھی اس جنگ کا انجام واضح نہیں ہو سکا ہے۔
آپ کا تبصرہ