2 اکتوبر، 2026، 1:37 PM

ایران کے خلاف ممکنہ حملے سے پہلے امریکی فوجی تیاری تیز

ایران کے خلاف ممکنہ حملے سے پہلے امریکی فوجی تیاری تیز

امریکی فوج آئندہ ہفتوں میں خطے میں اپنی بحری موجودگی بڑھانے کے لیے تین طیارہ بردار بحری جہازوں سمیت تقریباً 20 ہزار اہلکار، 150 جنگی طیارے اور متعدد جنگی جہاز تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج آئندہ ہفتوں کے دوران مشرق وسطی میں اپنی بحری افواج کی موجودگی میں ممکنہ اضافے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ یہ منصوبہ بندی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد امریکی صدر اور جنگ کی نگرانی کرنے والے فوجی کمانڈروں کے لیے مزید لچک پیدا کرنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تین طیارہ بردار بحری جہازوں کو ان کے حفاظتی و معاون بحری جہازوں کے ساتھ نومبر کے دوران مشرق وسطی منتقل کرنے پر امریکی فوج کی توجہ مرکوز ہے۔ ان طیارہ بردار بحری جہازوں کے جنگی گروپس میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار فوجی اہلکار، 150 جنگی طیارے اور بڑی تعداد میں ڈسٹرائرز شامل ہوں گے۔

امریکی حکام نے بتایا کہ ان ڈسٹرائرز میں میزائل داغنے اور میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے جنگی جہاز بھی شامل ہوں گے۔ حکام نے یہ تفصیلات امریکی فوجی نقل و حرکت کی وضاحت کے لیے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فراہم کی ہیں۔

امریکی حکام اس سے قبل اعلان کرچکے ہیں کہ مشرق وسطی میں پہلے ہی تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

News ID 1941809

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha