26 اکتوبر، 2026، 10:22 AM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے یورپ کو خواب غفلت سے جگا دیا

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے یورپ کو خواب غفلت سے جگا دیا

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی فوجی اقدامات کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک اب جنگ کے پھیلاؤ، تیل اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی عدم استحکام سے پریشان ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: ایران کے خلاف فوجی کشیدگی کے ممکنہ معاشی نتائج نے یورپی ممالک کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی ماہ تک امریکا کی ایران مخالف پالیسیوں کے ساتھ چلنے والے یورپی ممالک اب اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں بحران پورے خطے میں پھیل سکتا ہے، تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور اس کے اثرات عالمی معیشت کے ساتھ یورپی شہریوں کی روزمرہ زندگی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین نے صحافی پیٹرک ونٹور کی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ آٹھ یورپی اور مشرق وسطی کے ممالک کے وزرائے خارجہ نے استنبول میں ہونے والے اجلاس کے دوران امریکا اور صہیونی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف حملے دوبارہ شروع نہ کریں۔ ان ممالک نے خبردار کیا کہ جنگ کی بحالی سے بحران پورے خطے میں پھیل سکتا ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

اخبار کے مطابق، تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کرنے کے امکانات بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔ ایسے حالات میں متعدد ممالک کا جنگ کی مخالفت میں مشترکہ مؤقف اختیار کرنا اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ امریکا اور صہیونی حکومت کی ایران مخالف پالیسیوں کی حمایت کرتے وقت یورپی ممالک نے اپنی سلامتی اور معیشت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا کس حد تک جائزہ لیا تھا؟ بعض یورپی حکومتوں نے امریکا کو فوجی یا رسدی سہولتیں فراہم کرکے ایران پر دباؤ بڑھانے کے عمل میں حصہ لیا، لیکن اب یہی ممالک بحران کے پھیلاؤ اور اس کے معاشی نتائج کے بارے میں خبردار کر رہے ہیں۔ بظاہر توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے انہیں اس تصادم کے حقیقی نتائج پر زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

یورپ کو اپنی پالیسی کے نتائج کا سامنا

یورپ اس وقت ایک متضاد صورت حال سے دوچار ہے، جہاں ایک طرف ایران کے خلاف فوجی دباؤ کی حمایت کی گئی، تو دوسری طرف اسی دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ معاشی نقصانات پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔ یورپی حکومتیں ایک جانب امریکی فوجی اقدامات کے لیے سہولتیں فراہم کرنے یا واشنگٹن کی پالیسیوں کی حمایت کرنے میں کردار ادا نہیں کر سکتیں اور دوسری جانب یہ توقع بھی نہیں رکھ سکتیں کہ ان اقدامات کے ممکنہ نتائج صرف ایران اور خطے کے دوسرے ممالک تک محدود رہیں گے۔

آج کی باہم مربوط دنیا میں سیکورٹی بحران پیدا ہونے سے تیزی سے توانائی کی منڈیوں، رسدی زنجیروں اور عام شہریوں کے اخراجاتِ زندگی بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی فوجی تصادم کے نتائج محض میدان جنگ تک محدود نہیں رہتے، بلکہ اس کے اثرات ان ممالک تک بھی پہنچتے ہیں جو براہ راست جنگ میں شریک نہیں ہوتے۔

اس تناظر میں آبنائے ہرمز عالمی سلامتی اور توانائی کی معیشت کے اہم ترین عوامل میں سے ایک ہے۔ یہ تزویراتی آبی گزرگاہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی تجارت کے ایک بڑے حصے کی ترسیل کا راستہ ہے۔ یہاں سے گزرنے والے توانائی بردار جہازوں کی آمدورفت میں کسی بھی بڑی رکاوٹ سے عالمی منڈیوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔

تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مال برداری کے اخراجات میں بڑھوتری اور پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی ایسے نتائج ہیں جو تیزی سے توانائی درآمد کرنے والے ممالک کی معیشتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ایران اپنے جغرافیائی محل وقوع اور خطے میں تزویراتی اہمیت کے باعث عالمی توانائی کی سلامتی کے معاملات میں بھی اہم کردار رکھتا ہے۔ اسی لیے آبنائے ہرمز سے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ کا خدشہ، خواہ اس آبی گزرگاہ کی مکمل بندش کی صورت حال پیدا نہ بھی ہو، عالمی منڈیوں کی توقعات اور مختلف حکومتوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کو یقینی یا ناگزیر نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا، لیکن اس کے گرد فوجی کشیدگی میں اضافے کے خطرات کو نظر انداز کرنا بھی حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔ ایران پر فوجی دباؤ بڑھانے کی حمایت کرنے والی حکومتوں کو ممکنہ جوابی اقدامات اور عالمی توانائی کی منڈی پر ان کے اثرات کو بھی اپنے فیصلوں میں شامل کرنا چاہیے۔

تیل کی مہنگائی اور شہریوں تک بحران کے اثرات

یورپی ممالک کے لیے یہ مسئلہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ صرف توانائی کی فراہمی کے اخراجات تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے کارخانوں میں پیداواری لاگت، اشیا کی نقل و حمل، مختلف خدمات اور گھریلو ضروریات کے اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ایسی صورت حال میں افراطِ زر کا دباؤ مزید شدید ہو سکتا ہے، جبکہ یورپی صنعتوں کو دنیا کے دوسرے خطوں کے پیداواری اداروں کے ساتھ مسابقت میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یوں علاقائی بحران خارجہ پالیسی کے دائرے سے نکل کر عام شہریوں کے معیارِ زندگی اور یورپی معیشتوں کی کارکردگی کو براہ راست متاثر کرنے والا مسئلہ بن جاتا ہے۔

اسی وجہ سے یورپی ممالک کی موجودہ تشویش کو محض ایک سفارتی مؤقف قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ سیاسی فیصلوں اور معاشی و جغرافیائی حقائق کے درمیان بڑھتے ہوئے تضاد کی عکاسی کرتی ہے۔

واشنگٹن کے ساتھ تعاون بعض یورپی حکومتوں کے لیے سیاسی یا سلامتی سے متعلق اہمیت رکھ سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ امریکی فیصلوں کے نتائج سے محفوظ رہیں گی۔ جب کوئی بحران شدت اختیار کرتا ہے تو امریکا کے اتحادیوں کو بھی ایسے اخراجات اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کے تعین میں ان کا فیصلہ کن کردار نہیں ہوتا اور جن کے اثرات سے بچنا بھی آسان نہیں ہوتا۔

جنگ کی مخالفت یا معاشی نقصان کا خوف؟

استنبول میں آٹھ ممالک کے وزرائے خارجہ کا مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ بحران کے پھیلاؤ کے خدشات اب یورپ اور مشرق وسطیٰ کے تعلقات میں ایک اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ تاہم فوجی کارروائیوں کی بحالی کی مخالفت لازماً ایران کے بارے میں ان ممالک کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کا ثبوت نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ ان کے اس مؤقف کے پیچھے نظریاتی یا سیاسی تبدیلی کے بجائے معاشی اور سلامتی سے متعلق خدشات زیادہ اہم ہوں۔

اس کے باوجود، ان خدشات کا سامنے آنا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تصادم جاری رہنے کی صورت میں امریکا کے اتحادیوں کے درمیان اختلافات بڑھ سکتے ہیں اور واشنگٹن کی پالیسیوں کی سیاسی قیمت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

بالآخر، تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بارے میں یورپ کی بڑھتی ہوئی تشویش ایک بنیادی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ کسی بحران کو شدت دینے میں کردار ادا کرنے کے بعد اس کے تمام اخراجات صرف مخالف فریق پر نہیں ڈالے جا سکتے۔

یورپی حکومتوں کو موجودہ صورت حال سے یہ سبق حاصل کرنا چاہیے کہ ان کی توانائی کی سلامتی اور معاشی استحکام مشرق وسطیٰ کی صورت حال سے الگ نہیں ہیں۔ فوجی پالیسیوں کے ایسے نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں جن کا اندازہ فیصلہ کرتے وقت پوری طرح نہیں لگایا گیا ہوتا۔

اب جبکہ توانائی کے بڑھتے اخراجات یورپی ممالک کے لیے ایک سنجیدہ تشویش بن چکے ہیں، بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران کے خلاف فوجی اقدامات کی حمایت کرنے سے پہلے ان پالیسیوں کے ممکنہ معاشی اور سلامتی سے متعلق نتائج کو اتنی اہمیت کیوں نہیں دی گئی جتنی آج دی جا رہی ہے؟

News ID 1942367

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha