مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برازیل کے سرکاری انتخابی ادارے نے اعلان کیا کہ لوئیز ایناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 51.75 فیصد ووٹ حاصل کرکے اپنے حریف سینیٹر فلاویو بولسونارو کو شکست دے دی اور چوتھی بار ملک کے صدر منتخب ہوگئے۔
یہ انتخابی مقابلہ دوسرے مرحلے تک اس لیے پہنچا تھا کہ اکتوبر کے شروع میں ہونے والے پہلے مرحلے میں کوئی بھی امیدوار ڈالے گئے درست ووٹوں کی نصف سے زیادہ تعداد حاصل نہیں کرسکا تھا۔
سرکاری رپورٹس کے مطابق، ووٹوں کی ابتدائی گنتی کے دوران فلاویو بولسونارو کو برتری حاصل تھی، تاہم حتمی نتائج میں لولا دا سلوا نے اکثریت حاصل کرکے اپنی کامیابی یقینی بنا لی۔
برازیل میں صدارتی انتخابات ایسے وقت میں ہوئے جب مہنگائی، اخراجاتِ زندگی میں اضافے، عوامی تحفظ اور سماجی پالیسیوں سمیت بین الاقوامی تعلقات کی سمت جیسے معاملات انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہے۔
ان انتخابات میں صدر کے انتخاب کے علاوہ متعدد ریاستی عہدوں اور قانون ساز اسمبلیوں کی نشستوں کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی۔ انتخابی حکام کے مطابق، ملک میں 15 کروڑ 87 لاکھ سے زیادہ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل تھے۔
برازیل کے انتخابی قوانین کے تحت 18 سے 70 سال کی عمر کے خواندہ شہریوں کے لیے ووٹ ڈالنا لازمی ہے، جبکہ ناخواندہ افراد، 16 اور 17 سال کے نوجوانوں اور 70 سال سے زائد عمر کے شہریوں کے لیے ووٹنگ اختیاری ہے۔
آپ کا تبصرہ