مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، علاقائی تزویراتی امور کے تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ نئے مشرقِ وسطیٰ میں قابض صیہونی حکومت کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا، واضح کیا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کی رائے نہیں ہے، بلکہ شام اور عراق میں امریکہ کے سفیر اور خصوصی نمائندے ٹام بارک کا نقطۂ نظر بھی یہی ہے۔ ان کا یہ مؤقف امریکی خفیہ ادارے (سی آئی اے) کی ایک خفیہ رپورٹ پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ صیہونی حکومت کو اندرونی نابودی کے خطرے کا سامنا ہے اور وہ خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑی ہے۔
انہوں نے اس صورتِ حال کی متعدد وجوہات بیان کیں، جن میں اہم ترین درج ذیل ہیں:
اول: ایران، لبنان اور غزہ کی پٹی میں جنگوں کے نتیجے میں فوجی اخراجات میں اضافہ، جو 7 اکتوبر 2023 کو آپریشن ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کے بعد سے شدت اختیار کر گیا ہے۔
دوم: تلمودیوں (حریدیوں) اور سیکولر طبقے کے درمیان تنازعات میں شدت، جو حکومت کی نابودی اور انتشار کے عمل کو تیز کر سکتی ہے۔
سوم: سات محاذوں پر جنگ کے اخراجات کے نتیجے میں معاشی دباؤ میں اضافہ، جبکہ اسرائیل ان میں سے کسی بھی محاذ پر کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔
چہارم: امریکہ کی مالی اور فوجی حمایت میں بنیادی تبدیلی آنا۔ یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب 60 فیصد سے زیادہ ریپبلکن اور 70 فیصد ڈیموکریٹس صیہونی حکومت میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک اسرائیل ہی ان کے ملک کو ایران کے ساتھ ایسی جنگ میں گھسیٹنے کا ذمہ دار ہے جس میں امریکہ کا کوئی مفاد نہیں۔ یہ افراد مطالبہ کر رہے ہیں کہ امریکی شہریوں کے ٹیکسوں سے اسرائیل کی مالی معاونت بند کی جائے، تاکہ ان وسائل کو امریکہ کے اندرونی بحرانوں، بالخصوص اخراجاتِ زندگی میں اضافے اور عوامی خدمات کے نظام کے انہدام سے نمٹنے کے لیے مختص کیا جا سکے۔
پنجم: ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں امریکہ کی فوجی اور اقتصادی قوت کا فرسودہ ہونا، جس پر اب تک 100 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ اس جنگ نے ایک بڑی عالمی طاقت کی حیثیت سے امریکہ کی ہیبت کو کمزور کر دیا ہے۔
کیا امریکہ اسرائیل کی حمایت کی ذمہ داری سے دست بردار ہو رہا ہے؟
عطوان مزید کہتے ہیں کہ صیہونی حکومت کے وجود کو لاحق سب سے بڑا خطرہ دو بنیادی صورتوں میں سمٹتا ہے: داخلی نابودی اور سماجی انتشار، نیز ایسی عالمی طاقت کا فقدان جو صیہونی منصوبے کی ذمہ داری قبول کرے، اسے ناکامیوں سے بچائے اور اسے طاقت کے وسائل فراہم کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امریکہ بتدریج صیہونی منصوبے کی حمایت کا بھاری بوجھ اپنے کندھوں سے اتار رہا ہے۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ صیہونی حکومت پوری دنیا میں ایک ناپسندیدہ حکومت بن چکی ہے، کہا کہ تل ابیب نے خود کو مظلوم ظاہر کرنے کا وہ حربہ بھی کھو دیا ہے جو اس کے اہم ترین ہتھیاروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ صورتِ حال غزہ میں نسل کشی، بھوک کے ذریعے لوگوں کو ہلاک کرنے اور غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور جنوبی لبنان میں بچوں کے قتل کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔
نیتن یاہو کا خودکشی پر مبنی خطرناک اقدام
اس عرب تجزیہ کار نے فلسطینی اتھارٹی کے خلاف نیتن یاہو کی نئی دھمکی کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے دھمکی دی ہے کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کو ایک بڑے سرپرائز سے دوچار کرے گا۔ اس سرپرائز کا مطلب فلسطینی اتھارٹی کو تحلیل کرنا، اس کی سکیورٹی فورسز کو غیر مسلح کرنا، اوسلو معاہدے کو منسوخ کرنا اور اس کے رہنماؤں کو اردن جلاوطن کرنا ہوگا۔
عطوان نے اس اقدام کو ایسی خطرناک گولی قرار دیا جو پلٹ کر خود نیتن یاہو کو لگے گی، اس کی سیاسی زندگی کا خاتمہ کر دے گی اور ممکن ہے کہ یہ صیہونی حکومت کے وجود کے خاتمے کی الٹی گنتی کا آغاز بھی ثابت ہو۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کے پرانے نقشوں کو تبدیل کرنے والا، مزاحمتی محاذ ہے، مزید کہا کہ فوجی اور سیاسی میدانوں میں یہ اساطیری استقامت، محورِ مزاحمت کی فتح اور دونوں جارح فریقوں، یعنی امریکہ اور اسرائیل، نیز ان کے تمام عرب اور مسلمان اتحادیوں کی شکست کے نمایاں ترین مظاہر میں سے ہے۔
آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ جنگ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ اور مغرب کی عظیم فتح کو پس منظر میں دھکیل سکتی ہے، دنیا میں طاقت کے نقشے کو ازسرِنو ترتیب دے سکتی ہے اور امریکہ کو اس بالادستی کے مقام سے نیچے اتار سکتی ہے جس پر وہ 80 سال سے زیادہ عرصے سے فائز ہے۔
آپ کا تبصرہ