22 اکتوبر، 2026، 11:05 PM

ذرائعِ ابلاغ سے متعلق بصیرت؛ ٹرمپ کے مسلسل جھوٹ اور نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں ایک ڈھال

ذرائعِ ابلاغ سے متعلق بصیرت؛ ٹرمپ کے مسلسل جھوٹ اور نفسیاتی جنگ کے مقابلے میں ایک ڈھال

ٹرمپ کی نفسیاتی کارروائیوں کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ بار بار دھمکیوں اور متضاد بیانیوں کے ذریعے ہمارے معاشرے کو مسلسل اضطراب کی کیفیت میں رکھا جائے۔ ایسے حالات میں معاشرے کو سکون برقرار رکھنے کے لیے ذرائع ابلاغ سے متعلق شعور اور آگاہی کی ضرورت ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، یادداشت، محمد صادق افراسیابی، سربراہ انجمنِ سوادِ رسانه‌ای ایران: ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بار بار دی جانے والی دھمکیوں کا تجزیہ محض ایک مجرم صدر کے ان بیانات کے تناظر میں نہیں کیا جا سکتا جن میں وہ ممکنہ فوجی کارروائی کی بات کرتا ہے۔ جب بار بار کی دھمکیوں کے ساتھ بڑے بڑے دعوے، متضاد بیانیے اور غیر حقیقی منظرکشی بھی شامل ہو جائیں تو اس نفسیاتی جنگ کے ذریعے ٹرمپ کا مقصد ایرانی معاشرے میں مسلسل اضطراب پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کا جائزہ لینا کافی ہے۔ مثال کے طور پر، خبر رساں ادارے رائٹرز نے جون 2025ء میں رپورٹ کیا کہ ایران میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کے فعال منصوبے کی موجودگی سے متعلق ٹرمپ کا دعویٰ امریکی خفیہ اداروں کے جائزوں سے متصادم تھا۔ ان جائزوں کے مطابق ایران کا جوہری ہتھیاروں سے متعلق پروگرام 2003ء میں روک دیا گیا تھا اور اس کی بحالی کے کوئی شواہد موجود نہیں تھے۔

اس کی ایک اور مثال فوجی حملوں میں ایران کے جوہری پروگرام کی مکمل تباہی کا دعویٰ ہے۔ فیکٹ چیک ڈاٹ آرگ نے مارچ 2026ء میں اسلحے پر کنٹرول کے ماہرین کی آرا کا حوالہ دیتے ہوئے وضاحت کی کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر سابقہ حملوں سے شدید نقصان پہنچا اور اس کے جوہری پروگرام کو پیچھے دھکیل دیا گیا، لیکن مکمل طور پر جوہری صلاحیتوں کے خاتمے کا نتیجہ اخذ کرنے کے لیے شواہد کافی نہیں ہیں۔

اسی رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ایران کی جانب سے تباہ شدہ تنصیبات کی تعمیرِ نو کی کوششوں سے متعلق ٹرمپ کے دعوے کو بھی اس وقت کافی شواہد کی تائید حاصل نہیں تھی۔

بیانیے میں تبدیلی کی ایک اور واضح مثال جنگ کے دورانیے کے بارے میں ٹرمپ کے بیانات ہیں۔ اکتوبر 2026ء میں اس نے دعویٰ کیا کہ وہ بارہا کہہ چکا ہے کہ ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنے کے لیے چار سے چھ ہفتے درکار ہوں گے، لیکن اس نے یہ کام ایک ہی رات میں انجام دے دیا۔ تاہم، پولیٹی فیکٹ نے ٹرمپ کے سابقہ بیانات کا جائزہ لینے کے بعد اس دعوے کو غلط قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں چار سے چھ ہفتوں کا ذکر پوری جنگ کے دورانیے کے حوالے سے کیا تھا اور اس وقت اس نے جنگ کے خاتمے کی بات کی تھی، نہ کہ کسی دوسرے معاملے کی۔

یہ مثالیں آج کے ذرائعِ ابلاغ کے ماحول کا تجزیہ کرنے میں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ سماجی رابطوں کے ذرائع پر کوئی سیاسی دعویٰ، مثلاً ٹرمپ کے بار بار کے جھوٹ اور اس مجرم صدر کی دھمکیاں، تحقیق اور تصدیق کا موقع ملنے سے پہلے ہی ہزاروں مرتبہ دوبارہ نشر ہو سکتا ہے اور عوامی ذہنوں میں حقیقت کے تصور کا حصہ بن سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں دھمکیوں اور غیر مصدقہ دعوؤں کی مسلسل تکرار کسی واقعے کے رونما ہونے کے امکان کو لوگوں کے ذہنوں میں شواہد کی اصل صورتِ حال سے کہیں زیادہ بڑا بنا کر پیش کر سکتی ہے۔ رفتہ رفتہ معاشرہ خبر کا جائزہ لینے کے لیے ماخذ کی ساکھ اور شواہد پر توجہ دینے کے بجائے، لہجے کی شدت، بات کو بار بار دہرانے اور اس سے پیدا ہونے والے جذبات سے متاثر ہونے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایسے اضطراب کی صورت میں نکل سکتا ہے جو میدانِ جنگ میں کسی نئی پیش رفت سے پہلے ہی ایرانی عوام کی روزمرہ زندگی پر سایہ ڈال دے۔

اس صورتِ حال میں، جب ٹرمپ کے ایسے دعوے جن کی تصدیق ممکن ہے، بارہا مستند حقائق سے متصادم ثابت ہوتے ہیں، تو معاشرے کو نہ صرف یہ حق حاصل ہے کہ وہ دعویٰ کرنے والے کی ساکھ اور اس کے بیانیے کے محرکات کے بارے میں سوال اٹھائے، بلکہ آج کی ادراکی جنگ کے حالات میں ٹرمپ کے بیانات کے بارے میں اس طرح سوال کرنا اور تنقیدی نگاہ رکھنا ایک اجتماعی ذمہ داری بھی ہے، جس کا مقصد امریکہ کے اس مجرم صدر کی ادراکی جنگ کو بے اثر بنانا ہے۔

آخرکار، ٹرمپ کی نفسیاتی کارروائیوں کے مقاصد میں سے ایک یہ ہے کہ بار بار دھمکیاں دے کر اور متضاد بیانیے پیش کرکے ایرانی معاشرے کو مسلسل اضطراب کی کیفیت میں رکھا جائے۔ ایسے حالات میں معاشرے کو سکون برقرار رکھنے کے لیے ذرائع ابلاغ، بالخصوص قومی نشریاتی ادارے، کی جانب سے شفاف اور کثیرالجہتی معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ سے متعلق شعور و آگاہی کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے بھی میں ذرائع ابلاغ، بالخصوص قومی نشریاتی ادارے، میں معلومات کی فراہمی کو کثیرالجہتی بنانے کی ضرورت پر بات کر چکا ہوں، اور اس موقع پر میرے پاس اس موضوع پر مزید تفصیل سے گفتگو کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔

بیانیوں کی جنگ کے اس دور میں حقائق کی تصدیق محض ذرائع ابلاغ سے متعلق ایک مہارت نہیں، بلکہ حقیقت کو مسخ کرنے کے خلاف مزاحمت اور بیرونی دھمکیوں کو عوام کی زندگی میں پھیلنے والے اجتماعی اضطراب میں تبدیل ہونے سے روکنے کا ایک ذریعہ ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ جھوٹ بولنا، حقائق کو مسخ کرنا اور جنگ کے بارے میں غلط بیانیے پیش کرنا ٹرمپ کی سیاسی اور ابلاغی شناخت کا حصہ ہیں۔

News ID 1942295

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha