مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک: ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے ایران کا سمندری محاصرہ کرنے کی دھمکی دی ہے جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی نئی رخ اختیار کرگئی ہے۔ مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز کو طاقت کے زور پر کھولنے کے اقدامات ٹرمپ حکومت اور خطے کے لئی مزید مشکلات کا باعث ہوسکتے ہیں۔
اس حوالے سے الجزیرہ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں واشنگٹن کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ایک محفوظ بحری راستہ قائم کرسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اس آبراہ میں وسیع فائر کوریج رکھتا ہے اور امریکی بحری نقل و حرکت کو کئی بڑے خطرات لاحق ہیں۔
چینل کے مطابق، کل امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والی بات چیت کے دوران بھی امریکی ذرائع نے اعتراف کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر ایران کے کنٹرول میں ہے۔ اس کے باوجود امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ وہ اس علاقے میں ایک محفوظ راستہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایسی کسی بھی کارروائی کے ساتھ سنگین خطرات موجود ہیں۔ ایران کی ممکنہ فوجی کارروائیوں اور عبور و مرور کو روکنے کے طریقۂ کار کے بارے میں موجود ابہامات امریکی منصوبے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت اور درپیش خطرات
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے دنیا کی ایک تہائی توانائی روزانہ گزرتی ہے۔ اس کے اطراف ایرانی فورسز کی جانب سے سمندری بارودی سرنگوں کی موجودگی اور فائر کوریج کسی بھی امریکی حرکت کو انتہائی دشوار بنا دیتی ہے۔ اگر امریکہ واقعی ایک محفوظ گزرگاہ کے قیام کی کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے سب سے پہلے ایک پیچیدہ انٹیلیجنس آپریشن شروع کرنا ہوگا، جس میں ایرانی میزائل پلیٹ فارموں، تیز رفتار کشتیوں اور زیر آب بارودی سرنگوں کا سراغ لگانا شامل ہوگا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس ممکنہ آپریشن کے اشارے امریکی وزیردفاع پیٹ ہیگسٹ کے اس اعلان سے ملتے ہیں کہ امریکی ڈسٹرائر جہاز فرینک پیٹرسن اور مائیکل مرفی آبنائے ہرمز کی طرف روانہ ہو رہے ہیں تاکہ ایک سمندری قرنطینہ زون تشکیل دیا جا سکے۔ تازہ ترین امریکی بریفنگ کے مطابق واشنگٹن راستہ صاف کرنے کی حکمتِ عملی اپنائے گا، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پورے ہرمز کو مکمل طور پر صاف کرنے کی کوشش فوری طور پر نہیں کرے گا۔ اس حکمتِ عملی کے تحت پہلے ایک مخصوص چوڑائی کا راستہ اس وقت کھولا جائے گا جب وہ خطرات سے مکمل طور پر پاک قرار پائے، پھر اس کی فضائی نگرانی خصوصی طیاروں کے ذریعے کی جائے گی تاکہ تیز رفتار کشتیوں کے خطرے کا مقابلہ کیا جاسکے۔
ایرانی سمندری سرنگیں اور خطرناک مراحل
الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ ایران کے پاس موجود سمندری بارودی سرنگیں امریکی مشن کے لیے سب سے خطرناک ہتھیار ثابت ہوسکتی ہیں، کیونکہ یہ سرنگیں آنکھ سے نظر نہیں آتیں؛ بعض سطح آب پر تیرتی ہیں اور کچھ پانی کے اندر چھپی ہوتی ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق مارچ تک اندازہ تھا کہ ایران کے پاس تقریبا چھ ہزار سمندری بارودی سرنگیں اور سیکڑوں تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں، جن کی مدد سے وہ آبنائے ہرمز میں بہت تیزی سے سرنگ بچھا سکتا ہے۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ اس نے ایران کے بیشتر جنگی جہاز تباہ کر دیے ہیں، تاہم ان نقصانات کی درست تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مائن کلیرنگ جہاز ناگزیر ہیں، کیونکہ انہیں اس طرح ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ وہ مشین کے لیے غیر محسوس رہیں—ان کے مقناطیسی اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں اور ان کا صوتی اخراج بھی نہایت کم ہوتا ہے تاکہ صوتی سرنگ متحرک نہ ہوں۔
یہ کلیرنگ مشین عموما شیشے یا دیگر مواد سے تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کا مشن سونار کے ذریعے پانی کے اندر مائنوں کا سراغ لگانے سے شروع ہوتا ہے، پھر اُن کی نوعیت کا تعین کیا جاتا ہے کہ وہ مقناطیسی ہیں، صوتی ہیں یا دباؤ سے کام کرتی ہیں۔ اس کے بعد سب سے خطرناک مرحلہ آتا ہے یعنی ان کو ناکارہ بنانا یا دھماکہ کرنا، جو زیرِ آب ریموٹ کنٹرول روبوٹ یا تربیت یافتہ غوطہ خور انجام دیتے ہیں۔
امریکی فورسز کو درپیش چیلنجز
الجزیرہ کے مطابق امریکی فورسز کو اس آپریشن میں کئی بڑے چیلنج درپیش ہوں گے، کیونکہ ایک محفوظ گزرگاہ کھولنے کے لیے کم از کم 20 کلیرنگ جہاز درکار ہوں گے، جن میں کمانڈ اور سپورٹ جہازوں کے ساتھ زیر آب روبوٹک سسٹم بھی شامل ہوں گے۔ 50 سے 100 سرنگوں کی صفائی میں کئی دن لگ سکتے ہیں، جبکہ چھوٹی سرنگوں کی صفائی دو ماہ تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس لیے سینکڑوں سرنگوں سے نمٹنے کا عمل کئی مہینوں تک بھی طول پکڑسکتا ہے۔
رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا کہ اگر امریکہ تہران کے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر کارروائی کی کوشش کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں کے بعض حصے ممکنہ جھڑپ کے علاقوں میں تبدیل ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ تنگ آبراہ کسی بھی فوجی حرکت کو کھلے اور آسان ہدف میں بدل سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ