مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، ایران پر مسلط کردہ جنگ کے 38ویں روز جنگ ایک ایسے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جہاں واشنگٹن اور تل ابیب کے ابتدائی اندازے الٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اپنے بڑے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، جبکہ ایران نے جنگ کو محض عسکری محاذ سے نکال کر اقتصادی، اطلاعاتی اور نفسیاتی دباؤ کی جنگ میں تبدیل کرتے ہوئے میدان اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
حالیہ دنوں میں سب سے اہم تبدیلی یہ سامنے آئی ہے کہ امریکہ کی جانب سے اپنائی گئی کاری وار کی حکمت عملی ایران کی وسیع مزاحمت کے مقابلے میں کمزور ثابت ہوئی ہے۔ پینٹاگون کے دعوؤں کے برعکس، زمینی حقیقت یہ بتاتی ہے کہ ایران نہ صرف اپنی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ تقریباً سو کے قریب حملہ آور لہروں کے ذریعے اپنی کارروائیوں کی شدت اور درستگی میں اضافہ بھی کرچکا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکہ کے اندر فیصلہ سازی کے نظام میں اعتماد کا بحران پیدا ہوگیا ہے، حتی کہ خود امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران پر بمباری کے لیے اب کوئی بڑا اور فیصلہ کن ہدف باقی نہیں رہا، اور حملوں کا تسلسل صرف کم اہم اہداف تک محدود ہوتا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور اقتصادی دباؤ
آپریشنل سطح پر جنگ کا سب سے حساس مرکز آبنائے ہرمز بن چکا ہے، کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کا انتہائی اہم راستہ ہے۔ ایران نے اس آبی گزرگاہ کو اپنے لیے فیصلہ کن دباؤ کے ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے، جس کے ذریعے وہ دشمن کو براہ راست معاشی محاذ پر دباؤ میں لا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مغربی آئل ٹینکروں کی آمد و رفت میں 90 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے، جس سے عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔
اس کشیدگی کے نتیجے میں خام تیل کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا پہنچی ہے، جبکہ یورپ اور امریکہ کی معیشت پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے کئی ممالک میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ بھی پیدا ہو گیا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال موسمِ گرما تک جاری رہی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے، جو مغربی معیشت کے لیے شدید نقصان اور بحران کا سبب بنے گی۔
امریکی اتحاد میں دراڑیں
سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھی امریکہ کی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور بین الاقوامی سطح پر ایران مخالف اتحاد کے بکھرنے کے آثار واضح ہیں۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کی قیادت میں پیرس نے آبنائے ہرمز کو طاقت کے ذریعے کھلوانے کی کسی بھی کوشش کی کھل کر مخالفت کی ہے، جس سے امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان اختلافات مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔
دوسری جانب روس اور چین نے بھی سلامتی کونسل میں ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ قرارداد کو ویٹو کرنے کا عندیہ دے کر واشنگٹن کے لیے سفارتی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ اس صورتحال نے امریکہ کو عالمی سطح پر مزید تنہا کر دیا ہے، جبکہ یہ سب ٹرمپ کے اس دعوے کے بالکل برعکس ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف ایک وسیع اور مضبوط عالمی اتحاد بنانے کی بات کی تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ کو درپیش اندرونی بحران
امریکہ کے اندرونی محاذ پر بھی وائٹ ہاؤس پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایرانی فضائی دفاع کے ہاتھوں امریکی جنگی طیاروں ایف-15، ایف-16، اے-10، سی-135 فضائی ایندھن بردار طیارہ اور بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے نقصانات نے نہ صرف مالی ضرب لگائی بلکہ امریکی افواج کے حوصلے اور نفسیاتی کیفیت پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے۔ اسی دوران اصفہان کے جنوب میں ہونے والی ناکام کارروائی، جسے بعض حلقے ’’طبس 2‘‘ کا نام دے رہے ہیں، امریکہ کے لیے ایک شرمندگی بن چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پینٹاگون میں کمانڈ اور اعتماد کے بحران کے آثار بھی بڑھ رہے ہیں، جہاں بارہ سے زائد اعلی رینک کے جنرلز کو ہٹائے جانے کی بات کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکی دفاعی بجٹ کو ڈیڑھ ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کی کوشش بھی اس بات کی علامت سمجھی جا رہی ہے کہ جنگ نے واشنگٹن کے لیے غیر معمولی مالی بوجھ پیدا کر دیا ہے۔
ٹیکنالوجی اور اقتصادی مراکز کا حملے
دوسری جانب اطلاعاتی اور ٹیکنالوجی محاذ پر ایران نے جنگ کی نوعیت کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ ایران کی جانب سے بعض امریکی ٹیکنالوجی اور جاسوسی سے منسلک کمپنیوں جیسے ایمازون اور اوریکل کو نشانہ بنانے کی اطلاعات ہیں، جسے ایران اپنے سائنسی اور عسکری شخصیات کے قتل کے جواب کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ایران نے ایک نیا توازن قائم کیا ہے جس کے مطابق ایران کے خلاف ہر دشمنانہ اقدام کا جواب دشمن کی اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل سپلائی چین پر وار کی صورت میں دیا جائے گا۔ اس صورتحال نے امریکہ میں طاقتور اقتصادی لابیوں کو بھی متحرک کر دیا ہے جو جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
مجموعی طور پر جنگ کے 38ویں روز یہ حقیقت زیادہ نمایاں ہوگئی ہے کہ مغربی ایشیا میں امریکہ کی بلا شرکت غیرے بالادستی کا تصور شدید چیلنج سے دوچار ہے۔ ایران نے عسکری مزاحمت، اقتصادی دباؤ، سفارتی حکمت عملی اور اطلاعاتی کارروائیوں کو یکجا کرکے طاقت کا توازن اپنے حق میں موڑنے کی کوشش کی ہے۔
ٹرمپ کے پاس موجود محدود آپشنز
اسی تناظر میں ٹرمپ انتظامیہ ایک مشکل اور خطرناک دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے، جہاں اس کے سامنے تین ہی راستے باقی رہ گئے ہیں: ایران کی شرائط مان کر پسپائی اختیار کرنا، زمینی جنگ میں اترنا جسے مبصرین ایک ’’ختم نہ ہونے والا دلدل‘‘ قرار دے رہے ہیں، یا فضائی جنگ کو جاری رکھنا جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید نقصانات اور بڑھتی قیمتیں امریکہ کے لیے بحران کو سنگین تر بنا دیں گی۔
موجودہ مرحلے میں امریکہ کے پاس کوئی واضح اور فیصلہ کن فاتحانہ راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ حالات کا رخ بتا رہا ہے کہ وقت جتنا آگے بڑھے گا، واشنگٹن پر سیاسی دباؤ، مالی نقصان اور عالمی سطح پر تنہائی اتنی ہی زیادہ ہوتی جائے گی، اور جنگ کا بوجھ امریکی حکومت کے لیے مزید ناقابل برداشت بنتا چلا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ