8 اپریل، 2026، 7:32 PM

سابق پاکستانی خارجہ سیکریٹری کی مہر نیوز سے گفتگو:

جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو ضرور سزا ملنی چاہئے

جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اسرائیل کو ضرور سزا ملنی چاہئے

سابق پاکستانی سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے کہا کہ پاکستانی وزیراعظم کو جنگ بندی کی خلاف وززی پر اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اور صہیونی حکومت کو سزا دینے میں ایران حق بجانب ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان پاکستان کی ثالثی کے تحت دو ہفتے کی عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہوا ہے تاہم پہلے ہی دن صہیونی حکومت نے حسب سابق وعدہ خلافی کرتے ہوئے ایران اور لبنان میں متعدد مقامات پر حملے کیے ہیں۔ جس کے بعد جنگ بندی کا منصوبہ خطرے میں پڑگیا ہے۔ عالمی اور علاقائی مبصرین غاصب صہیونی حکومت کے اس عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے سزا دینے میں ایران کو حق بجانب قرار دیتے ہیں۔

سابق پاکستانی سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے صہیونی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی اور پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی ذمہ داریوں کے حوالے سے مہر نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ظاہر ہے کہ اگر وہ (پاکستانی وزیراعظم) سفارت کاری کررہے ہیں تو ان کو اپنی پوری ذمہ داری نبھانی چاہئے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم لوگ غزہ میں بورڈ آف پیس کے ممبر بنے ہوئے ہیں اور اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف کاروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جس کا دائرہ اب لبنان تک پھیل گیا ہے تو یہ چیزیں ایسی ہیں کہ جو لوگ ثالثی کا کردار ادا کررہے ہیں ان کو درمیان آنا چاہئے۔ بدقسمتی یہی ہے کہ اسرائیل پر کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ اور دوسری طرف ٹرمپ کا تو سب کو پتہ ہے کہ وہ گھڑی میں تولہ اور گھڑی میں ماشہ ہوتا ہے۔ ہر سیکنڈ میں اس کی سوچ بدل جاتی ہے۔ مجھے یقین نہیں آرہا کہ وہ اس نے جنگ بندی پر اتفاق کیسے کیا۔ کوئی پتہ نہں کہ ان دو دنوں میں وہ پھر سے بدل جائیں اور ایران پر دوبارہ بمباری شروع کریں اس لئے میں نہیں سمجھتا کہ ہر چیز طے ہوگئی ہے اور ایران کی پوزیشن بہت مضبوط ہے۔ دو دن بعد جب ایران اور امریکہ کے وفود آتے ہیں تو اصل مذاکرات تو آمنے سامنے ہوں گے۔ ہمارے وزیراعظم کا تو کوئی رول نہیں ہوگا۔ ابھی صرف ایک عارضی فائربندی ہوئی ہے اور آگے دیکھنا ہے کہ امریکہ کی نیت کیا ہےاور ایران اپنا جو مصمم ارادہ ہے وہ کس طرح پیش کرتا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی قبول کرنے کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کے کہنے پر ہی جنگ شروع کی تھی۔ پہلے دور صدارت سے وہ اسی میں لگے ہوئے ہیں۔ اوباما کے دور میں ایران کے جوہری پروگرام پر جو معاہدہ ہوا تھا اس کو ختم کردیا۔ نتن یاہو اور ٹرمپ ایپسٹین کی پیداوار ہیں۔ اس وجہ سے انہوں نے نتن یاہو کے کہنے پر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی لیکن ایران نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کے دانت کھٹے کردیے۔ اب ان کو کچھ سمجھ نہیں آرہی ہے۔ اسرائیل لبنان میں مشغول ہے اور ٹرمپ پر ملک کے اندر اتنا پریشر بڑھ گیا ہے کہ نہ یورپ اس کے ساتھ اور نہ کوئی عالمی طاقت اس کا ساتھ کو تیار ہے۔ دنیا میں وہ اکیلا ہوگیا ہے۔ اپنے ملک میں تنہا ہوگیا ہے۔ امریکہ میں نوے لاکھ لوگ اس کے خلاف نکلے تھے۔ اسی دباو کی وجہ سے وہ جنگ بندی کی طرف گئے ہیں۔ اس کے ساتھ اگر ایران کا بھی پریشر برقرار رہا تو وہ اپنا پورا دور صدارت بھی پورا نہیں کرسکے گا۔

ایران اور لبنان پر صہیونی حکومت کے دوبارہ حملوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جنگ بندی میں سب کچھ واضح ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ آپ اپنی مرضی سے تبدیلی کریں۔ اس جنگ بندی میں اسرائیل فریق ہونے کی وجہ سے مکمل طور پر پابند ہے۔ وہ اس کی بالکل خلاف ورزی کررہا ہے اور اس کو سزا ملنی چاہئے۔ اس طرح یہ سارا سلسلہ ہی ختم ہوسکتا ہے کیونکہ اگر اسرائیل اپنی مرضی کررہا ہے تو یہ سیزفائر نہیں ہے۔ اسرائیل مکمل طور پر جنگ بندی کا حصہ ہے اور ہونا چاہئے۔

News ID 1938805

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha