29 مارچ، 2026، 3:35 PM

جنگ کا تیسواں دن، ایران کے حملوں میں امریکی انٹیلی جنس اور کمانڈ نیٹ ورک کو بڑا دھچکا

جنگ کا تیسواں دن، ایران کے حملوں میں امریکی انٹیلی جنس اور کمانڈ نیٹ ورک کو بڑا دھچکا

جنگ کے تیسویں دن ایرانی مسلح افواج نے خطے میں امریکی انٹیلی جنس اور کمانڈ نیٹ ورک کو میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے نشانہ بنایا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے تیسویں دن خطے میں صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق امریکہ اپنے کسی بڑے اسٹریٹجک مقصد کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکا، جبکہ ایران کی جانب سے ردعمل زیادہ منظم، ہدف پر مبنی اور مسلسل تیز ہوتا جارہا ہے۔

گزشتہ شب امریکی فضائی حملوں میں ایران کی کئی بڑی جامعات کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد طلبہ اور اساتذہ شہید اور زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد ایران نے حملوں کے طریقہ کار میں نمایاں تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب حملہ آور ممالک اور ان کے حامیوں کی جامعات اور اعلی تعلیمی اداروں کو بھی جائز ہدف سمجھا جائے گا۔

بیان میں خبردار کیا گیا کہ اگر ایران کے تعلیمی مراکز کو دوبارہ نشانہ بنایا گیا تو اس کا جواب حملہ آور ممالک کے اسی نوعیت کے اداروں کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔

اسی دوران امریکی دفاعی اور فضائی صنعت سے وابستہ دو اہم تنصیبات کو خطے میں ہونے والے پیچیدہ اور درست حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق یہ تنصیبات ایران کے خلاف حملوں میں استعمال ہونے والے جدید آلات کی سپلائی چین میں اہم کردار ادا کر رہی تھیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں ایران کی حکمت عملی میں تبدیلی کی علامت ہیں، جہاں اب صرف دفاعی ردعمل کے بجائے زیادہ جارحانہ اور ہدف پر مبنی اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد جنگ کی قیمت کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے اہم ڈھانچوں تک منتقل کرنا ہے۔

دوسری جانب سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے میزائل اور ڈرون حملوں کی لہروں کی تعداد بڑھ کر 85 تک پہنچ گئی ہے۔

یہ صورت حال پینٹاگون کی ابتدائی پیش گوئیوں کے برعکس ہے، جن میں کہا گیا تھا کہ ایک ماہ کی جنگ کے بعد ایران کی حملہ آور صلاحیت بتدریج کم ہوجائے گی۔ تاہم زمینی حقائق کے مطابق نہ صرف حملوں کی تعداد برقرار ہے بلکہ وہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ مربوط، منظم اور شدید ہوچکے ہیں۔

جنگ کے تیس دن مکمل ہونے کے بعد، جس کے بارے میں وائٹ ہاؤس نے ابتدا میں تیز اور فیصلہ کن فتح کا دعویٰ کیا تھا، اب پینٹاگون کے بعض عہدیدار غیر رسمی گفتگو میں میدان جنگ کی تلخ حقیقت کا اعتراف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ایران اب بھی اپنی جنگ سے پہلے کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کا تقریبا 60 فیصد سے زیادہ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

ادھر آبنائے ہرمز پر ایران کا عملی کنٹرول برقرار ہے اور مغربی ممالک کے بحری جہازوں کی آمدورفت تقریبا رک چکی ہے۔ خطے میں امریکی فوجی اڈوں میں سے کئی حالیہ حملوں کے بعد غیر فعال ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مسلسل 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کے باعث مغربی معیشتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ایسی صورتحال میں امریکی کانگریس کے بعض سخت گیر ارکان بھی اب اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں کہ فوجی راستہ مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔ ان کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے کسی نہ کسی سطح پر مذاکرات اور ایران کی شرائط کو قبول کرنا ہی ممکنہ راستہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین بار بار خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ کسی زمینی جنگ میں داخل ہوتا ہے تو یہ اس کے لیے ایک خطرناک دلدل ثابت ہوسکتی ہے جس سے نکلنا انتہائی مشکل ہوگا۔

News ID 1938677

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha