19 فروری، 2026، 3:34 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

دنیا کی حساس ترین توانائی گزرگاہ میں سپاہ پاسداران انقلاب کی طاقت کا مظاہرہ

دنیا کی حساس ترین توانائی گزرگاہ میں سپاہ پاسداران انقلاب کی طاقت کا مظاہرہ

سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کی قیادت میں آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک علاقے میں مشترکہ، عملی اور ہدف پر مبنی مشق ’’اسمارٹ کنٹرول آف اسٹریٹ آف ہرمز‘‘ منعقد کی گئی جس کی سپاہ پاسداران کے سربراہ جنرل محمد پاکپور نے براہ راست نگرانی کی۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی بحریہ کی مشترکہ، عملی اور ہدف پر مبنی مشق ’’اسمارٹ کنٹرول آف اسٹریٹ آف ہرمز‘‘ جو 16 فروری کو شروع ہوئی تھی، کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ یہ بڑی عملیاتی و دفاعی مشق سپاہ پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل محمد پاکپور کی براہِ راست نگرانی اور بحریہ کے کمانڈرز کی فیلڈ مانیٹرنگ میں منعقد ہوئی۔ مشق ایسے وقت میں کی گئی جب جنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا دوسرا دور جاری تھا اور امریکا کی جانب سے فوجی دھمکیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا تھا، جس کے تناظر میں ایران کی جانب سے کسی بھی ممکنہ دشمنانہ اقدام کے خلاف فیصلہ کن ردعمل کی مکمل تیاری کا پیغام دیا گیا۔

دنیا کی حساس ترین توانائی گزرگاہ میں سپاہ پاسداران انقلاب کی طاقت کا مظاہرہ

مشق میں 24 گھنٹے انٹیلی جنس نگرانی، فوری ردعمل، جدید ہتھیاروں کے استعمال اور آبنائے ہرمز کے اسمارٹ کنٹرول پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کے ذریعے دنیا کی حساس ترین آبی گزرگاہ میں اسلامی جمہوری ایران کی فعال دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا گیا۔ مشق کے بعض حصوں میں روس اور چین کی محدود شرکت کے باعث اسے بین الاقوامی نوعیت بھی حاصل ہوئی۔

’’اسمارٹ کنٹرول آف اسٹریٹ آف ہرمز‘‘ مشق حالیہ برسوں میں سپاہ پاسداران کی اہم ترین بحری مشقوں میں شمار ہوتی ہے، جو دو بنیادی مراحل میں انجام دی گئی۔ پہلے مرحلے میں خلیج فارس کے ایرانی جزائر، جن میں تنب بزرگ، تنب کوچک اور ابوموسی شامل ہیں، سے دفاعی کارروائیوں اور حملہ آور صلاحیتوں پر توجہ دی گئی، جبکہ دوسرے مرحلے میں آبنائے ہرمز کے اسمارٹ کنٹرول اور بحری آمدورفت کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دی گئی۔ یہ مشق 16 سے 17 فروری تک جاری رہی، جس میں حقیقی فائرنگ اور جدید اسلحے کے تجربات بھی شامل تھے، جبکہ بحری سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کے بعض حصے چند گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر بند بھی کیے گئے۔

دنیا کی حساس ترین توانائی گزرگاہ میں سپاہ پاسداران انقلاب کی طاقت کا مظاہرہ

اہم مقاصد

ممکنہ سکیورٹی اور عسکری خطرات کے مقابلے میں سپاہ کی بحریہ کے عملیاتی یونٹس کی تیاری کا جائزہ لینا۔

سمندری سلامتی کے خلاف سازشوں کے جواب میں تیز، فیصلہ کن اور ہمہ گیر ردعمل کی مشق کرنا۔

جوابی فوجی کارروائی کے مختلف منظرناموں کا جائزہ اور خلیج فارس و بحیرۂ عمان میں ایران کی جغرافیائی اہمیت سے مؤثر فائدہ اٹھانے کی مشق۔

غیر جانبدار اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانا اور عالمی توانائی سلامتی کے تحفظ میں مسلح افواج کے دفاعی کردار کو اجاگر کرنا۔

دنیا کی حساس ترین توانائی گزرگاہ میں سپاہ پاسداران انقلاب کی طاقت کا مظاہرہ

حاصل شدہ نتائج اور انجام دی گئی کارروائیاں

مشق کے دوران دفاعی اور حملہ آور نوعیت کے مختلف نظاموں اور ہتھیاروں کو اعلیٰ درستگی کے ساتھ استعمال کیا گیا اور تمام مقررہ اہداف کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا۔

میزائل کارروائیاں: تیز رفتار میزائل بردار بحری جہازوں کے علاوہ ملک کے اندرونی علاقوں، ساحلی پٹی اور ایرانی جزائر سے داغے گئے میزائلوں نے آبنائے ہرمز میں مقررہ اہداف کو نشانہ بنایا۔

ڈرون آپریشنز: حملہ آور اور نگرانی کرنے والے ڈرون یونٹس نے الیکٹرانک جنگی ماحول (سگنل میں خلل) کے دوران کارروائیاں انجام دیں اور ساکن و متحرک اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

جدید ہتھیاروں کا استعمال: سپاہ پاسداران کی بحریہ کے جنگی ڈھانچے میں شامل جدید حکمت عملیوں اور آلات کو استعمال کیا گیا، جن میں صیاد-N3 فضائی دفاعی میزائل (سمندری عمودی لانچ نظام، 150 کلومیٹر رینج)، مصنوعی ذہانت سے لیس اپ گریڈڈ اینٹی شپ کروز میزائل اور جیمنگ سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھنے والے نظام شامل تھے، جبکہ نئے اسٹریٹجک ڈرونز نے فضائی اور بحری اہداف پر حملے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔

بعض ہتھیاروں کی تفصیلات سکیورٹی وجوہات کی بنا پر جاری نہیں کی گئیں اور انہیں مناسب وقت پر متعارف کرایا جائے گا۔

اسی دوران پہلی مرتبہ جنگی جہاز ’’شہید صیاد شیرازی‘‘ سے صیاد-3G میزائل داغے جانے کی تصاویر بھی جاری کی گئیں۔

دنیا کی حساس ترین توانائی گزرگاہ میں سپاہ پاسداران انقلاب کی طاقت کا مظاہرہ

آبنائے ہرمز کے بعض حصے چند گھنٹوں کے لیے عارضی طور پر بند کیے گئے اور بحری اطلاعیہ جاری کیے گئے، جو ایران کی بین الاقوامی بحری سلامتی کے تحفظ کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔

بین الاقوامی شرکت: روس اور چین کے بحری جہازوں کی مشق کے بعض حصوں میں شرکت، جسے ’’سمندری سلامتی بیلٹ 2026‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا، تینوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو اجاگر کرتی ہے۔

کمانڈروں کے بیانات

سپاہ پاسداران انقلاب کی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل علیرضا تنگسیری نے کہا کہ ہمارا انٹیلی جنس نگرانی نظام آبنائے ہرمز میں 24 گھنٹے فعال ہے، سطحی، زیرسطحی اور فضائی سطح پر مکمل احاطہ کرتا ہے۔ خلیج فارس کے جزائر ناقابل تسخیر قلعے ہیں اور ضرورت پڑنے پر سپاہ کی بحریہ مختصر وقت میں آبنائے ہرمز کو کنٹرول یا بند کرسکتی ہے۔ غیر جانبدار جہازوں کی آمدورفت محفوظ رہے گی، جبکہ ہر قسم کے خطرے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

جنرل محمد اکبرزادہ نے کہا کہ غیرملکی جہازوں کی مکمل انٹیلی جنس نگرانی کی جارہی ہے۔ امریکی حکام کے زیادہ تر دعوے اور دھمکیاں صرف نفسیاتی جنگ کے دائرے میں آتی ہیں۔ مسلح افواج دشمن کی حرکات پر مکمل نظر رکھتی ہیں اور ایرانی عوام ایمانِ الهی کے ساتھ کبھی خوفزدہ نہیں ہوں گے۔

دنیا کی حساس ترین توانائی گزرگاہ میں سپاہ پاسداران انقلاب کی طاقت کا مظاہرہ

اسٹریٹجک تجزیہ اور پیغام

حساس موقع پر مشقوں کا انعقاد

امریکی فوجی دباؤ میں اضافہ، ’’ابراہیم لنکن‘‘ ائیرکرافٹ کیریئر کی بحیرہ عرب روانگی اور جنیوا میں جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران آبنائے ہرمز (جس سے دنیا کے 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے) کو وقتی طور پر بند کرنے کی صلاحیت کا اظہار  اور مکمل نگرانی کا مظاہرہ ایران کی فعال دفاعی اور بازدارندگی کی واضح نشانی ہے۔

مغربی تجزیہ کاروں نے اس مشق کو واشنگٹن کے لیے ’’بحری انتباہ‘‘ قرار دیا، جہاں ایران بغیر براہِ راست تصادم کے کشتیرانی کے راستوں میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اقتصادی اثرات

ہرمز بند ہونے کی صورت میں روزانہ 20 ملین بیرل تیل کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے، جس کا کوئی فوری متبادل نہیں، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ اور یورپ و ایشیا جیسے توانائی پر منحصر ممالک پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دنیا کی حساس ترین توانائی گزرگاہ میں سپاہ پاسداران انقلاب کی طاقت کا مظاہرہ

بین الاقوامی ردعمل اور مستقبل کا منظرنامہ

اسرائیل اور امریکہ نے اسے خطے میں موجود فوجی قوتوں کے لیے ’’مسلسل خطرہ‘‘ قرار دیا، جبکہ ایرانی میڈیا نے اسے صدر ٹرمپ کی ’’نفسیاتی جنگ‘‘ کے جواب کے طور پر پیش کیا۔ مستقبل کے حوالے سے اگر جنیوا مذاکرات ناکام ہوگئے تو کشیدگی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ ایران نے تیز رفتار کشتیاں اور جدید میزائل سسٹمز کے ذریعے واضح کیا کہ وہ پیچیدہ جنگ کے لیے بھی مکمل تیار ہے۔

حاصل سخن

’’اسمارٹ کنٹرول آف اسٹریٹ آف ہرمز‘‘ مشق نہ صرف سپاہ پاسداران کی بحریہ کی دفاعی، انٹیلی جنس اور عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ تھی، بلکہ بیرونی خطرات کے تناظر میں ایران کی فعال دفاعی حکمت عملی اور خلیج فارس و بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں پائیدار سلامتی کے عزم کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ اس مشق نے واضح کر دیا کہ ایران کسی بھی صورتحال کے جواب کے لیے مکمل طاقت، حکمت عملی اور نگرانی کے ساتھ تیار ہے۔

News ID 1938145

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha

    تبصرے

    • PK 18:58 - 2026/02/19
      0 0
      اگر عورت کے بائیں پاؤں کی تیسری انگلی میں چھلہ ھو تو حوادثِ زمانہ سے بچ سکتی ھے۔ شکریہ راہبر معظم انقلاب اسلامی ایران۔ جتھے ماہیا پب رکھ دیں😍😍😍😍