مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محکمۂ ماحولیات نے متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، سعودی عرب، قطر اور عمان کے وزرائے ماحولیات کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان سمندری علاقوں کا ماحول ممکنہ تنازعات کا شکار بن سکتا ہے۔ خط میں خلیج فارس کے ساحلی ممالک کو عسکری سرگرمیوں میں اضافے کے علاقائی اور عالمی ماحولیاتی اثرات سے آگاہ کیا گیا۔
خط کے مطابق خلیجِ فارس اور بحیرۂ عمان منفرد مگر حساس سمندری ماحولیاتی خصوصیات کے حامل علاقے ہیں، جو خطے کے لاکھوں افراد کی خوراک، معیشت اور ماحولیاتی تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی یا تصادم سمندری حیات، حیاتیاتی تنوع، پانی اور مٹی کے وسائل، فضائی معیار اور انسانی صحت پر براہِ راست اور بالواسطہ اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ایرانی حکام نے ماضی کے تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تیل کی تنصیبات کی تباہی، آلودہ مادوں کے بڑے پیمانے پر اخراج، خطرناک کیمیائی مواد کے پھیلاؤ اور ساحلی و سمندری مسکن کو نقصان کے اثرات طویل المدتی اور سرحدوں سے ماورا ہوتے ہیں، جن کے اثرات آج بھی خطے کے پانیوں اور سمندری نظام میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
خط میں حالیہ پیش رفت اور جوہری تنصیبات پر حملوں کے خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور خبردار کیا گیا کہ ایسی تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی صورت میں تابکار مواد کے اخراج، پانی اور مٹی کی آلودگی، انسانی صحت کو خطرات اور طویل المدتی ماحولیاتی نقصان کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہیں گے۔
محکمۂ ماحولیات نے مزید کہا کہ حساس سمندری علاقوں میں جدید ہتھیاروں کی تعیناتی اور فوجی کارروائیوں کی دھمکیاں بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی ماحولیاتی قوانین کے تحت ریاستوں پر لازم ہے کہ وہ قدرتی ماحول کو وسیع اور دیرپا نقصان سے بچانے کے لیے احتیاطی اقدامات کریں۔
خط میں زور دیا گیا کہ ماحولیات تنازعات کی خاموش متاثرہ فریق ہوتی ہے، اس لیے خطے کے ممالک کو قلیل مدتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ذمہ دارانہ رویہ اپنانا چاہیے۔
ایرانی محکمۂ ماحولیات نے علاقائی تعاون، اعتماد سازی اور ماحولیاتی سفارت کاری کو کشیدگی کم کرنے اور قیمتی سمندری ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔
یہ خط ایران کی نائب صدر اور محکمۂ ماحولیات کی سربراہ شینا انصاری کی جانب سے ارسال کیا گیا۔
آپ کا تبصرہ