18 اپریل، 2026، 6:23 PM

امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات کے بارے میں ایرانی نیشنل سیکورٹی کونسل کا بیان جاری

امریکہ کے ساتھ جنگ بندی اور مذاکرات کے بارے میں ایرانی نیشنل سیکورٹی کونسل کا بیان جاری

ایرانی نیشنل سیکورٹی کونسل نے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم خدا پر بھروسے اور عوام کی حمایت کے ساتھ ملک کے مفادات اور شہداء کے خون کا دفاع کرتی رہے گی اور کسی قسم کی پسپائی یا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی نیشنل سیکورٹی کونسل نے امریکہ کے ساتھ عارضی جنگ بندی اور مذاکرات کے بارے میں باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔

کونسل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران امریکی فریق کی جانب سے جنگ بندی اور مذاکرات کی درخواستیں جنگ کے دسویں روز ہی شروع ہوگئی تھیں۔ امریکہ کے صدر کی جانب سے ایران کے دس نکاتی فریم ورک کو قبول کرنے کے بعد ایران نے چالیسویں روز اسلام آباد میں مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔

بیان میں بتایا گیا کہ مذاکرات مسلسل 21 گھنٹے جاری رہے جن میں ایرانی وفد نے عوامی مطالبات کو سنجیدگی اور امریکہ پر مکمل بداعتمادی کے ماحول میں پیش کیا۔ اگرچہ امریکا نے مذاکرات سے قبل ایران کے دس نکاتی فارمولے کو قبول کیا تھا، لیکن بات چیت کے دوران اس نے نئے اور اضافی مطالبات پیش کیے، جنہیں ایرانی وفد نے سختی سے مسترد کر دیا۔ اختلافات برقرار رہنے کے باعث مذاکرات کا پہلا دور کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہوا اور اسے اس وقت تک مؤخر کر دیا گیا جب تک امریکی فریق اپنے مطالبات کو میدان جنگ کے حقائق کے مطابق نہ کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں پاکستان کے فوجی سربراہ کی تہران آمد کے دوران امریکا کی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن کا ایران فی الحال جائزہ لے رہا ہے اور ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

نیشنل سیکورٹی کونسل نے عوام اور میدان میں موجود سپاہیوں کو یقین دلایا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم، خدا پر بھروسے اور عوام کی حمایت کے ساتھ، ملک کے مفادات اور شہداء کے خون کا دفاع کرتی رہے گی اور کسی قسم کی پسپائی یا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

بیان کے مطابق ایران کی جانب سے عارضی جنگ بندی قبول کرنے کی اہم پیش‌شرطوں میں سے ایک یہ تھی کہ جنگ بندی تمام محاذوں پر نافذ ہو، جن میں لبنان بھی شامل ہے۔ مگر صہیونی حکومت نے ابتدا ہی سے لبنان اور حزب اللہ کے خلاف وحشیانہ حملے کرکے اس شرط کی خلاف ورزی کی۔ اسلامی جمہوری ایران کے مضبوط مؤقف کے بعد، صہیونی حکومت لبنان میں جنگ بندی پر راضی ہوئی۔ طے پایا کہ اگر دشمن کی جانب سے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی پابندی کی گئی تو ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر اور صرف تجارتی جہازوں کے لیے کھولے گا۔ یہ اجازت دشمن ممالک کے صرف غیر فوجی جہازوں کے لئے ہوگی جبکہ فوجی جہاز اس میں شامل نہیں ہوں گے، اور یہ آمد و رفت ایران کی مسلح افواج کے مکمل کنٹرول، اجازت اور ایران کی مقرر کردہ مخصوص بحری راستوں کے مطابق ہوگی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ خلیج فارس میں امریکی فوجی اڈوں کی زیادہ تر سپلائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے ذریعے ہوتی ہے، اور یہ صورتحال ایران اور خطے کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، لہذا ایران پرعزم ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام تک آبنائے ہرمز میں آمد و رفت پر اپنی نگرانی اور کنٹرول جاری رکھے۔ یہ نگرانی اس طرح ہوگی کہ ایران تمام گزرنے والے جہازوں کی مکمل معلومات حاصل کرے گا، ایران کے اعلان کردہ ضابطوں کے مطابق گزرنے کی سند جاری کی جائے گی، جنگی حالات کے مطابق حفاظتی اصول نافذ ہوں گے، اور سیکیورٹی، حفاظت، ماحولیاتی سلامتی اور دیگر متعلقہ خدمات کی فیس وصول کی جائے گی۔ تمام جہاز ایران کے مقرر کردہ بحری راستوں سے ہی گزریں گے۔ اسی طرح، اگر دشمن جہازوں کی آمد و رفت میں خلل ڈالنے، یا بحری محاصرے جیسی کارروائیوں کی کوشش کرے گا تو ایران اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھے گا اور اگر ایسا ہوا تو ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے کی عارضی اجازت فوراً ختم کر دے گا.

نیشنل سیکورٹی کونسل نے رہبر انقلاب کی ہدایات کی یاد دہانی کراتے ہوئے زور دیا کہ میدانِ جنگ میں حاصل شدہ کامیابیوں کو مکمل طور پر مستحکم کرنے اور سفارتی میدان میں کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ باہمت ایرانی عوام سڑکوں پر اپنی موجودگی برقرار رکھیں، محاذوں پر مکمل ہوشیار رہیں اور ملک میں قومی یکجہتی کو برقرار رکھنے کے لیے حکام، میڈیا اور سیاسی و سماجی سرگرم افراد اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔

News ID 1938936

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha