14 اپریل، 2026، 10:52 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

ایران کا بحری محاصرہ: کیا ٹرمپ کی حکمت عملی چین کے ساتھ کشیدگی کو جنگ میں بدل دے گی؟

ایران کا بحری محاصرہ: کیا ٹرمپ کی حکمت عملی چین کے ساتھ کشیدگی کو جنگ میں بدل دے گی؟

ٹرمپ کی جانب سے ایران کا سمندری محاصرہ چین اور متعدد ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے اور یہ اقدام عالمی سلامتی کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، دفاعی ڈیسک، ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد مذاکرات میں ناکامی کے فورا بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ایران کے خلاف سمندری محاصرے کا تصور پیش کیا، جسے انہوں نے وینزویلا کے ماڈل سے تشبیہ دی۔ یہ اقدام نہ صرف ایران کے لیے بلکہ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپ کے لیے بھی اہم اثرات رکھتا ہے، کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ ان ممالک تک تیل اور گیس کی رسد ایک ساتھ منقطع ہوسکتی ہے۔

مبصرین کے تجزیے کے مطابق، یہ تشبیہ جغرافیائی اعتبار سے درست نہیں ہے کیونکہ وینزویلا اور کیوبا جزائر ہیں جن کے زمینی راستے محدود ہیں اور ان کا سمندری رسد پر مکمل انحصار ہے، جبکہ ایران کے پاس سات ممالک کے ساتھ زمینی سرحدیں اور یوریشیا تک اہم زمینی راستے موجود ہیں۔ جنگ کے دوران پاکستان کے ذریعے زمینی راستے استعمال کرکے ایران نے اپنی فوجی اور اسلحہ کی ترسیل میں سمندری راستوں کی رسائی ثابت کی ہے۔

علاوہ ازیں، ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے، جس کے ساتھ اس کے 2500 کلومیٹر طویل ساحل، ٹنل، غاریں، میزائل، طیارے اور بغیر عملے کے ذیلی جہاز محاصرے کے خلاف مضبوط دفاع فراہم کرتے ہیں۔ یہ اس بات کا عندیہ ہے کہ امریکی محاصرہ ایک انتہائی خطرناک اقدام ہے جو خود جنگ کے مترادف خطرات رکھتا ہے اور ممکنہ عالمی کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے۔

اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات

اسلام آباد مذاکرات میں پیش آنے والے حالات کو میدان، سیاست اور معیشت کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔ یہ صرف مذاکرات کا پہلا دور تھا، اور ایران نے واضح کردیا تھا کہ وہ ایک ہی نشست میں معاہدے کی توقع نہیں رکھتا، کیونکہ سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔ لیکن امریکہ نے جلد بازی دکھائی اور اپنا نائب صدر خصوصی اختیارات کے ساتھ بھیج دیا اور پہلے ہی دور میں اپنی حتمی تجویز پیش کر دی۔ یہ جلد بازی اعتماد کی علامت نہیں تھی بلکہ وقت کی تنگی، بڑھتی ہوئی لاگت اور سیاسی حل کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتی تھی تاکہ اقتصادی اور عسکری بحران امریکہ میں انتخابات سے قبل قابو میں رہے۔ اس نے ٹرمپ اور مذاکرات کے لیے مشکلات مزید بڑھا دیں۔

امریکہ کے اندر اختلافات بے حد گہرے ہوگئے تھے۔ فوج کے سربراہ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کے خطرات کے بارے میں کھل کر خبردار کیا، اور ٹرمپ نے ان کو اور ان کے ہم خیال لوگوں کو برطرف کر دیا۔ کانگریس کے اراکین بھی جنگ کے مقاصد اور اختتام کے طریقوں کے بارے میں قائل نہیں تھے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ میں ویتنام جنگ کے بعد سب سے بڑی اینٹی وار تحریک سامنے آئی، اور یہاں تک کہ ٹرمپ کا ادارہ "میگا" بھی اس جنگ کے خلاف احتجاج میں شامل ہوا، اور کہا کہ یہ جنگ امریکی معیشت کو نقصان پہنچائے گی اور صرف اسرائیل کے فائدے میں ہوگی۔ اس صورتحال نے واشنگٹن کی مذاکراتی پوزیشن کو میدان میں کسی بھی شکست سے زیادہ کمزور کردیا۔

اس کے مقابلے میں، ایران کے اندرونی محاذ نے امریکی اور صہیونی توقعات کو ناکام بنایا کہ ایران میں داخلی انتشار پیدا ہوگا۔ اس کی بجائے ایران میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے جو آج بھی جاری ہیں۔ بہت سے ایرانی تارکین وطن واپس آئے تاکہ اپنے ملک کی دفاع میں حصہ لیں، اور بعض داخلی مخالفین بھی ان مظاہروں میں شامل ہوئے۔ اس قومی اتحاد نے، باوجود تین ہزار سے زائد شہریوں کی شہادت اور وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تباہی کے، ایران کی تمدنی گہرائی اور مضبوط قومی ڈھانچے کو ظاہر کیا، جو بمباری سے نہیں ٹوٹ سکتی۔

جنگ میں طاقت کا توازن کس کے حق میں ہے؟

امریکہ کی فوجی طاقت انتہائی تیزی سے کمزور ہو رہی ہے۔ خطے میں موجود امریکی اڈوں پر حملے ہوئے، جن میں سے کئی غیرفعال ہوگئے۔ نئی امداد بھی پہنچی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی طاقت بحال ہو گئی، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران کے میزائل اور ڈرون طیاروں کے لئے مزید اہداف مل گئے۔ ایران نے اپنی صلاحیت دکھائی ہے کہ وہ دور دراز اور مضبوط ترین امریکی اڈوں کو حیرت انگیز درستگی کے ساتھ نشانہ بنا سکتا ہے۔

امریکہ کے پاس موجود پٹریاٹ اور تھاڈ میزائل، اور دیگر درست نشانے کے ہتھیار اتنی تیزی سے ختم ہوگئے ہیں جتنی یوکرائن نے چار سال میں بھی استعمال نہیں کی۔ واشنگٹن نے ہوائی جہاز، ریڈار اور دفاعی نظام ایسے حالات میں کھو دیے ہیں جن کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

لبنان کے محاذ پر، اسرائیل فوجی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہے۔ اسرائیلی فوج نے ہفتوں کی زمینی کارروائی کے باوجود لیتانی ندی تک رسائی حاصل نہیں کی اور روزانہ سرحدی شہروں میں حزب اللہ کی مزاحمت کے سامنے نقصان اٹھاتی ہے۔ حزب اللہ نے ثابت کیا کہ پچھلی جنگ اس کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کرسکی۔ سیاسی طور پر، نتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنا اور لبنان میں وحشیانہ قتل و غارت نے اسے عالمی سطح پر کسی بھی معاہدے کے لیے رکاوٹ کے طور پر پیش کیا، اور حزب اللہ کی حیثیت ایک جائز دفاعی قوت کے طور پر مضبوط ہوئی جو مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواب دیتی ہے۔

کیا چین جنگ میں شامل ہوجائے گا؟

المیادین چینل نے ٹرمپ کے سمندری محاصرے کے منصوبے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھمکی ٹرمپ کے اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک منظرنامے پیدا کر سکتی ہے۔ اگر ایران کا سمندری محاصرہ کیا جاتا ہے تو نہ صرف ایران کی تیل کی برآمدات رک جائیں گی، بلکہ چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور یورپ کو بھی تیل اور گیس کی فراہمی متاثر ہوگی۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق اس کی وجہ سے آئندہ دنوں میں تیل کی قیمت تاریخی حدوں تک جاسکتی ہے، یعنی ہر بیرل 150 ڈالر سے تجاوز کر کے 200 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ سمندری محاصرہ چین کو مجبور کرسکتا ہے کہ وہ اپنے تیل کے اہم راستوں کی حفاظت کے لیے بحیرہ عرب اور بحر ہند میں جنگی جہاز بھیجے، جس سے خطے میں تصادم ایک بین الاقوامی بحران میں بدل سکتا ہے، جسے واشنگٹن قابو کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اس سے امریکی بحریہ کی کمزوری میں بھی اضافہ ہوگا۔

ایران کے خلاف جنگ اور امریکہ بحران میں 

مجموعی طور پر، جو امریکی-اسرائیلی حملہ ایران کو شکست دینے اور مقاومتی محاذ کو توڑنے اور خطے کا نقشہ اپنے حق میں بنانے کے لیے شروع کیا گیا تھا، چھ ہفتوں کے بعد ایک جامع اسٹریٹجک بحران میں تبدیل ہو گیا ہے۔ واشنگٹن اور تل ابیب بغیر بھاری قیمت ادا کیے اس سے باہر نہیں نکل سکتے ہیں۔ اس بحران کے بعد امریکی طاقت کی عالمی ساکھ ختم ہوگی اور دنیا بھر میں اس کے مخالفین کو چین کے جنوبی سمندر سے لے کر لاطینی امریکہ تک اس کے خلاف اٹھنے کی ترغیب ملے گی۔ اس دوران چین اور روس اس صورتحال کو اپنے اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے تاریخی موقع کے طور پر استعمال کرسکتے ہیں۔

News ID 1938877

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha