مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے باشندوں کے نام اپنے پیغام میں صہیونی وزیر اعظم نتن یاہو کی ایک بار پھر حمایت کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے دونوں رہنماؤں کی مشترکہ کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ نتن یاہو کے ساتھ ان کے تعاون کے نتیجے میں اہم فوجی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔
ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں اور نام نہاد ’’مڈنائٹ ہیمر‘‘ اور ’’ایپک فیوری‘‘ آپریشنز کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کے اقدامات نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے اور اس کی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اب بحری اور فضائی طاقت سے محروم ہو چکا ہے، جبکہ اس کی فوج اور معیشت بھی خراب صورت حال سے دوچار ہیں۔
انہوں نے اپنے پیغام میں ایران میں مہنگائی کی شرح اور بحری ناکہ بندی کے باعث تیل تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں بھی دعوے کیے، تاہم ان دعوؤں کے حق میں پیغام میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
ٹرمپ نے اپنے پیغام کے ایک اور حصے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے باشندوں سے اپیل کی کہ وہ ووٹ ڈالنے کے لیے جاتے وقت نتن یاہو کی کارکردگی کو مدنظر رکھیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ایسا رہنما قرار دیا جس نے ان کے بقول جنگوں کے دوران نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ