مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے روز دے کر کہا ہے کہ میں اس سرکاری دورے کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جو حال ہی میں، میں نے اس خطے (مغربی ایشیا) کا کیا ہے اور جسے اب ہم اختتام تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ خلیج فارس کا خطہ گزشتہ چند ماہ کے دوران اس جنگ کے باعث شدید عدم استحکام کا شکار ہوا ہے، جو 28 فروری کو تہران کے خلاف امریکہ کی غیر قانونی جارحیت کے ساتھ شروع ہوئی تھی۔
فرانسیسی صدر نے مزید کہا کہ اس تنازعے کے نتیجے میں ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں ہوئیں، آبنائے ہرمز بند ہوئی اور پورا خطہ عدم استحکام سے دوچار ہو گیا۔ اس صورتِ حال نے نہ صرف ہر ملک کی سلامتی، بلکہ ہماری معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ہم اس معاملے کے نتائج سے بخوبی آگاہ ہیں، جو کئی ماہ سے براہِ راست ہمارے شہریوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ گرمیوں کے اختتام کے ساتھ صورتِ حال مزید خراب ہوئی اور سلامتی کے حالات بھی مزید بحرانی ہو گئے۔
ایمانوئل میکرون نے مزید کہا کہ فرانس نے پہلے ہی دن سے ہمیشہ امن و استحکام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ ہم نے ابتدا ہی سے اعلان کر دیا تھا کہ یہ جنگ ہماری نہیں، ہم نے اس جنگ کا فیصلہ نہیں کیا اور خطے میں امن و استحکام ہماری اولین ترجیح ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان، نیز دیگر ممالک کے ساتھ مذاکرات کے مختلف راستے موجود ہیں، جن کا مقصد صورتِ حال کو بہتر بنانا اور کشیدگی کم کرنا ہے۔ یہی سفارت کاری کا بنیادی مقصد ہے۔
واضح رہے یہ بیان امریکہ سے دل برداشتہ ہو کر دیا ہے یا واقعی میکرون امن و امان کے حامی ہیں؛ اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
آپ کا تبصرہ