30 ستمبر، 2026، 9:04 PM

میڈیا، امریکہ و اسرائیل کے جرائم کی داستان بیان کرے، بسیج سربراہ

میڈیا، امریکہ و اسرائیل کے جرائم کی داستان بیان کرے، بسیج سربراہ

بسیج کے سربراہ نے کہا کہ ذرائعِ ابلاغ اور صحافیوں کو اپنی پوری کوشش کرنی چاہیے، تاکہ دنیا کے آزاد لوگ بیدار ہوں اور اس جنگ میں دشمن کے جرائم کی داستان دنیا کے سامنے تصویروں کے ذریعے پیش کی جائے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ابوذر میڈیا فیسٹیول کی اختتامی تقریب اور میڈیا سے وابستہ شہداء کی یاد میں منعقدہ پروگرام سے بسیج فورس کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین حسین طائب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو امریکہ اور اسرائیل کے جرائم کی داستان بیان کرنی چاہیے۔

حجت الاسلام حسین طائب نے جنگِ بیانیہ میں میڈیا کے کردار کے بارے میں کہا کہ عالمی استکبار اور مکتبِ اسلام کے درمیان دو قطبی دنیا میں نظامِ تسلط اپنی تمام صلاحیتوں کو ہائبرڈ جنگ میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ دنیا کو اپنے قبضے میں لے سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس استکباری تسلط میں سرزمین، اقوام کے مفادات و سرمایہ اور دنیا کے ہر فرد کے ذہنوں پر حاوی ہونا شامل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکیوں کے ساتھ ہماری تیسری جنگ نے تمام حساب کتاب بدل دیے۔ ماہرین کے مطابق ہر فوجی جنگ سے پہلے ذہنی شکست و انتشار کا مرحلہ آتا ہے۔ دشمن پہلے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کرنے، حقائق کے بارے میں ان کی سوچ تبدیل کرنے اور انہیں کمزور کرنے کی کوشش کرتا ہے، پھر ان پر حملہ کرتا ہے۔

حجت الاسلام طائب نے کہا کہ ایک دوسری حکمت عملی بھی ہے، اگر یہ لوگ مزاحمت کریں اور فوجی جنگ کے محاذ کو فتح میں تبدیل کردیں تو یہ دشمن کے لیے ایک بڑی ذہنی اور عملی شکست کا پیش خیمہ ہوگا۔

بسیج فورس کے سربراہ نے کہا کہ استکبار کے ساتھ ہماری تیسری جنگ اور پوری طرح مسلح دو سپر پاورز کے مقابلے میں ایرانی قوم کی کامیابی اور ان دونوں طاقتوں کی شکست نے دنیا کے عوام کے ذہنوں میں امریکہ اور اسرائیل کے زوال کی بنیاد فراہم کردی ہے۔

انہوں نے میڈیا سے وابستہ افراد اور صحافیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ عزم کے ساتھ کام کریں۔ دنیا کے آزاد لوگوں کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے اور اس جنگ میں دشمن کے جرائم کی داستان دنیا کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ امریکیوں نے کہا تھا کہ وہ خطے کے ممالک کے دفاع کے لیے یہاں آئے ہیں، لیکن آج خطے کے عوام کہتے ہیں کہ آپ ہمارے خطے میں آئے اور قتل و غارت شروع کردی۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران جنگ کے بعد تصویر سازی کے ذریعے، ایٹم بم کے استعمال کے باوجود، کامیابی اور انسانی کردار کی تصویر پیش کی گئی، لیکن اس جنگ میں صورتحال اس قدر خراب تھی کہ نئے میزائلوں اور نئے بموں سے 160 سے زائد بچوں کو نشانہ بنایا گیا، یہاں تک کہ بعض بچوں کا کوئی نشان باقی نہیں رہا۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ تصویر اب مٹائی نہیں جاسکتی اور تاریخ کے دامن میں باقی رہے گی۔

انہوں نے میناب واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج بننے والی ان تصاویر کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے اور یہی تصاویر امریکہ کے اندر امریکی حکام سے جواب طلبی کا باعث بن رہی ہیں۔ امریکی جامعات کے طلبہ آج سوال کر رہے ہیں کہ امریکی منشورِ آزادی کے دس اصولوں میں شامل انسانی حقوق کہاں گئے؟ اسکول پر بمباری امریکی منشورِ آزادی میں کہاں ہے؟

حجت الاسلام طائب نے کہا کہ جس طرح فوجی جنگ میں لانچر، میزائل سٹی اور لانچر کے پاس موجود اہلکار اہم ہوتے ہیں، اسی طرح واقعات کی تصویر دنیا کے سامنے پیش کرنے میں میڈیا میزائل سٹی کا کردار ادا کرتا ہے۔ اگر ہم اچھی سرخی، اچھی رپورٹ اور تصاویر کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کے جرائم کو دنیا کے آزاد لوگوں کے سامنے پیش کریں اور ان کی سوچ تبدیل کر دیں تو امریکیوں کے زوال کے عمل کو تیز کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کو امریکیوں کے جرائم کی تصویر پیش کرنے کے لیے میڈیا کے محاذ پر کھڑا ہونا چاہیے اور امریکی و اسرائیلی جرائم کی انتہا کو دنیا کے سامنے لانا چاہیے۔ جنگ ختم ہوجاتی ہے، لیکن جنگ کی داستان باقی رہتی ہے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنگ کے مختلف پہلوؤں کو درست انداز میں پیش کرے اور دشمن کو دیو کو فرشتہ اور شیطان کو سفید بنا کر پیش کرنے کا موقع نہ دے۔

انہوں نے کہا کہ بسیج کی ذمہ داری ہے کہ ملک کے اندر حمایت کے علاوہ ان آزاد افراد اور باعزت صحافیوں کی بھی حمایت کرے جنہوں نے غزہ اور لبنان میں اپنی جانوں کے ذریعے ثابت کیا کہ وہ مظلوم اقوام اور بچوں کے دفاع اور 50 ہزار بچوں اور خواتین کے قتل عام کی تصویر دنیا تک پہنچانے کے لیے میدان میں موجود ہیں۔

News ID 1941769

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha