مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی پوسٹ میں بسنت کی نازک صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی حکومت نے ماضی میں تقریباً صفر شرح سود پر بڑی مقدار میں قرضے لیے تھے، لیکن اب ان قرضوں کی ادائیگی کا وقت آ پہنچا ہے اور حکومت کو انہیں ادا کرنے کے لیے دوبارہ کہیں زیادہ شرح سود پر نئے قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ دوسری جانب امریکی بانڈز کے خریداروں کی صلاحیت اور گنجائش بھی مسلسل کم ہو رہی ہے۔ مثال کے طور پر امریکی بانڈز کے بڑے خریدار، جیسے چین اور جاپان، نئے بانڈز خریدنے یا پہلے سے موجود بانڈز برقرار رکھنے میں کم دلچسپی دکھا رہے ہیں، جس کے باعث بانڈز کی شرحِ منافع میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈاکٹر قالیباف نے بسنت کو متنبہ کیا کہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے، توانائی کی قیمتیں بلند رکھنے اور بانڈز کی شرحِ منافع میں اضافے پر ایران کے اثرات نے امریکی وزارتِ خزانہ کو بڑھتے ہوئے بحران سے دوچار کر دیا ہے اور ان کے تمام مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، امریکی ایران کے حقوق کا احترام اور ان مسائل کو حل کیے بغیر ان اقتصادی مشکلات پر قابو پانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے لکھا کہ امریکی حکومت کے 30 سالہ بانڈز کی شرحِ سود گزشتہ روز 2002 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اور موجودہ رجحان کے برقرار رہنے کی صورت میں 1990 اور اس سے پہلے کے برسوں کی شرحوں کی جانب واپسی کا امکان موجود ہے۔
قالیباف نے اپنی پوسٹ میں بسنت کے نئے مقرر کردہ مشیر ڈیوڈ زرووس کی تصویر بھی استعمال کی ہے، جنہیں گزشتہ روز اس عہدے پر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ عجیب و غریب بیانات دینے کے لیے معروف ہیں۔
آپ کا تبصرہ