مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کے لیے سمندر محض پانی کا وسیع خطہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا، اس سرزمین کی تاریخ، شناخت اور زندگی کا حصہ اور ملک کے موجودہ و مستقبل کے اہم ترین وسائل میں سے ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمندروں کی بہتر شناخت، جدید ٹیکنالوجی کی ترقی، بحری جہاز رانی کے تحفظ میں بہتری، سمندری توانائی کے وسائل سے استفادہ اور سمندری ماحول کے تحفظ میں سرمایہ کاری، ملک اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لیے سرمایہ کاری ہے۔
ایرانی صدر نے آبنائے ہرمز کی خطے اور دنیا کی سلامتی و معیشت میں خصوصی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے اور خطے کے ممالک کے استحکام و مفادات کے تحفظ پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ خلیجِ فارس اور اس کی آبی گزرگاہوں کی پائیدار سلامتی خطے کے ممالک کے باہمی تعاون اور ذمہ داری سے وابستہ ہے۔
ڈاکٹر پزشکیان نے کہا کہ ایران وسیع شمالی اور جنوبی ساحلی پٹی اور خطے کے اہم مواصلاتی راستوں پر واقع ہونے کے باعث عالمی بحری معیشت اور تجارت کا ایک اہم مرکز ہے۔
انہوں نے کہا کہ سمندری سلامتی اور اقتصادی ترقی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں، کیونکہ سمندر، بندرگاہوں اور مواصلاتی راستوں کی سلامتی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں کے لیے ضروری ہے، جبکہ اقتصادی ترقی ملک کی قومی حیثیت اور صلاحیت کو مضبوط کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بحری افواج اور سمندری شعبے سے وابستہ تمام اداروں کی صلاحیت اور تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے خطے کی آبی گزرگاہوں کے تحفظ، استحکام اور بحری تجارت و جہاز رانی کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری پوری سنجیدگی سے ادا کر رہا ہے۔
پزشکیان نے مزید کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران سمندری حدود میں مضبوط موجودگی ان افراد کی بلند ہمت کا ثبوت ہے جنہوں نے ملک کی اہم شریانوں میں ایک لمحے کے لیے بھی سرگرمیوں کو رکنے نہیں دیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی بحری فوج نے ثابت کیا ہے کہ حکومت، نجی شعبے اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہم آہنگی رکاوٹوں کو دور کر سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے سمندر کو سائنس اور ماحولیات کے تحفظ کے لیے بھی ایک اہم میدان قرار دیتے ہوئے کہا کہ جامعات، تحقیق، ٹیکنالوجی اور سمندری ماحول پر سنجیدہ توجہ کے بغیر سمندر محور ترقی کا مستقبل ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ، شپنگ کمپنیاں، ماہی گیری سے وابستہ افراد، بندرگاہوں اور بحری صنعتوں کے کارکن، جامعات و سائنسی مراکز اور ساحلی آبادیوں میں سے ہر ایک کا مؤثر کردار ہے، جبکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ رکاوٹیں کم کرکے، بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنا کر اور سرمایہ کاری و عوامی شمولیت کے لیے حالات پیدا کرکے نجی شعبے اور عوام کی زیادہ شرکت کی راہ ہموار کرے۔
پزشکیان نے عالمی یومِ بحری جہاز رانی کے موقع پر تمام بحری جہاز رانوں، اس شعبے سے وابستہ افراد اور ان کے اہل خانہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سمندری شعبے میں جانیں قربان کرنے والے شہداء اور اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جان سے ہاتھ دھونے والے بحری جہاز رانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
آپ کا تبصرہ