مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے دورے کی شدید مذمت کی اور خطے میں اسرائیلی حکومت کی موجودگی کے انتہائی خطرناک نتائج کے حوالے سے خبردار کیا۔
تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں جب مغربی ایشیا اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی جارحیت، اسلامی سرزمینوں بالخصوص فلسطین اور لبنان میں قبضے اور نسل کشی میں شدت کے باعث اپنی تاریخ کے انتہائی حساس اور نازک ادوار میں سے ایک سے گزر رہا ہے، ایسے شخص کی خطے میں موجودگی انتہائی خطرناک اور تشویش ناک ہے جس کے ہاتھوں پر لاکھوں بے گناہ انسانوں کا خون ہے اور جس کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں کارروائی جاری ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ صہیونی رژیم کی ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ دشمنی اور عناد ثابت ہوچکا ہے اور اس حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف بارہا دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ اس لیے خطے کے تمام ممالک کو ایسی موجودگی کے ممکنہ نتائج اور اثرات سے ہوشیار رہنا چاہیے، کیونکہ یہ خطے کے اجتماعی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ علاقائی سلامتی ایک اجتماعی اور ناقابل تقسیم معاملہ ہے اور خطے میں ایسے عناصر کی آمد کی راہ ہموار کرنے والی ہر سرگرمی بالآخر تمام علاقائی ممالک کے نقصان کا باعث بنے گی اور مغربی ایشیا میں مزید انتشار، عدم تحفظ اور عدم استحکام کو جنم دے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسی بنیاد پر خطے کی حکومتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اسرائیلی حکومت کی تخریبی موجودگی کے لیے راستہ ہموار کرنے سے گریز کریں اور اپنے علاقوں کو دوسرے علاقائی ممالک کے خلاف عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہ دیں۔
آپ کا تبصرہ