مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: ایرانی حالات کا جائزہ لینے والے تجزیہ نگار سعید شہرابی فراہانی کے مطابق موجودہ کشیدگی صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں بلکہ اس میں سکیورٹی، معیشت، اطلاعات، سیاست اور نفسیاتی دباؤ سمیت کئی شعبے شامل ہیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات، خطے میں فوجی اور سکیورٹی سرگرمیوں، امریکا اور اسرائیل کی داخلی سیاسی صورتحال، عالمی معیشت، یوکرین کی جنگ، امریکا اور چین کے درمیان تزویراتی مسابقت اور تائیوان کی صورتحال سمیت ایران کے داخلی حالات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
اس تناظر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائی کے کم از کم چار ممکنہ منظرنامے زیر غور آ سکتے ہیں۔ تاہم یہ قطعی پیش گوئیاں نہیں بلکہ ممکنہ راستوں کا تجزیاتی جائزہ ہیں۔
1۔ محدود مگر بڑا حملہ اور کامیابی کا سیاسی دعویٰ
ایک ممکنہ منظرنامہ یہ ہے کہ امریکا وسیع جنگ شروع کرنے کے بجائے ایران کے اہم فوجی یا تزویراتی اہداف پر محدود لیکن شدید حملہ کرے۔
اس کارروائی کا مقصد ایران کو نمایاں نقصان پہنچانا، اپنی فوجی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا اور داخلی سطح پر سیاسی کامیابی کا تاثر پیدا کرنا ہو سکتا ہے۔
ممکنہ اہداف میں ایران کے بعض حساس فوجی مراکز یا جوہری پروگرام سے متعلق تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ محدود کارروائی کے بعد امریکا ممکنہ طور پر اسے کامیابی کے طور پر پیش کرکے سیاسی سطح پر اس کے اثرات سنبھالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
تاہم ایسی کارروائی لازماً بحران کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ ایران کا ردعمل، نقصانات کی شدت، خطے کے دیگر ممالک کا طرز عمل اور واشنگٹن و تل ابیب کے اگلے فیصلے صورتحال کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر سکتے ہیں۔
تجزیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے محدود استعمال جیسے انتہائی حساس امکانات کے بارے میں معتبر شواہد کے بغیر قطعی رائے قائم نہیں کی جانی چاہیے اور انہیں محض ایک مفروضے کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
2۔ وسیع فوجی کارروائی اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا
دوسرا ممکنہ منظرنامہ زیادہ وسیع فوجی کارروائی کا ہے، جس میں فوجی اور جوہری اہداف کے ساتھ توانائی، نقل و حمل، مواصلات اور اقتصادی بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اس کا ممکنہ مقصد ایران کی اہم صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور طویل مزاحمت کی لاگت بڑھانا ہو سکتا ہے۔
تاہم اس راستے میں جارحیت کرنے والے فریق کے لیے بھی نمایاں خطرات موجود ہوں گے۔ اہم بنیادی ڈھانچے پر حملوں سے خطے میں ردعمل بڑھ سکتا ہے، توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہو سکتی ہے اور تنازع ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ پھیل سکتا ہے۔ اسی لیے کسی وسیع کارروائی کا فیصلہ ممکنہ فوائد اور نقصانات کے حساب سے کیا جائے گا۔
تجزیے کے مطابق اس حوالے سے صرف میڈیا میں آنے والی دھمکیوں پر توجہ دینے کے بجائے فوجی تعیناتی، فوجی تیاری کی سطح، ہتھیاروں اور دیگر سازوسامان کی نقل و حرکت اور امریکی و اسرائیلی سیاسی و فوجی بیانات میں تبدیلیوں کا جائزہ لینا زیادہ اہم ہوگا۔
3۔ بظاہر سفارت کاری، عملی طور پر کئی سطحوں پر دباؤ
تیسرا ممکنہ راستہ براہ راست فوجی کارروائی میں عارضی کمی اور اس کے ساتھ مذاکرات، اقتصادی دباؤ، اطلاعاتی مہم، نفسیاتی دباؤ اور سکیورٹی اقدامات کو بیک وقت آگے بڑھانا ہو سکتا ہے۔
اس منظرنامے میں مذاکرات صرف کسی معاہدے تک پہنچنے کا ذریعہ نہیں بلکہ بحران کو قابو میں رکھنے، مخالف فریق کی حدود جانچنے، وقت حاصل کرنے اور اس کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہونے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ ساتھ ہی اقتصادی اور سماجی دباؤ میں اضافہ کرکے ایران کے اندر فیصلہ سازی کے ماحول کو مشکل بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
اسی لیے جدید کشیدگی کا مقابلہ صرف فوجی طاقت سے نہیں کیا جا سکتا۔ مضبوط معیشت، درست اطلاعات، عوامی اعتماد، ریاستی اداروں میں ہم آہنگی اور غلط معلومات کے خلاف مؤثر حکمت عملی بھی قومی طاقت کا حصہ ہیں۔
4۔ خفیہ کارروائیاں اور اچانک حملے
چوتھا ممکنہ منظرنامہ ایسی محدود اور خفیہ کارروائیوں کا ہو سکتا ہے جن کا مقصد سیاسی، سکیورٹی یا نفسیاتی سطح پر اچانک اثر پیدا کرنا ہو۔
ایسی کارروائیوں میں حیرت کا عنصر اہم ہو سکتا ہے تاکہ مخالف فریق کو مکمل ردعمل کا موقع ملنے سے پہلے نئی صورتحال پیدا کی جا سکے۔
یہ سرگرمیاں سائبر کارروائیوں، خفیہ معلومات کے استعمال، مواصلاتی نظام کو متاثر کرنے یا مخصوص اہداف کے خلاف خفیہ اقدامات کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔
تجزیے میں بعض انتہائی خطرناک امکانات، مثلاً افراد کے اغوا، کو بھی محض مفروضے کے طور پر زیر بحث لایا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے کسی غیر مصدقہ امکان کو ثابت شدہ اطلاع نہیں سمجھنا چاہیے۔
اسی طرح ممکن ہے کہ کسی فرضی خطرے کو میڈیا میں نمایاں کرکے اصل ہدف سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے اطلاعاتی نگرانی کے ساتھ افواہوں اور غیر مصدقہ اطلاعات کی روک تھام بھی اہم ہوگی۔ معاملہ صرف جنگ کا نہیں، کئی سطحوں پر بحران سے نمٹنے کا ہے۔
چاروں ممکنہ منظرناموں میں ایک بات مشترک ہے کہ مستقبل کی کشیدگی لازماً روایتی اور مکمل جنگ کی صورت اختیار نہیں کرے گی۔
ممکن ہے محدود فوجی حملے، اقتصادی دباؤ، سائبر کارروائیاں، اطلاعاتی جنگ، مذاکرات، سکیورٹی اقدامات اور فوجی کارروائیاں ایک ساتھ یا مختلف مرحلوں میں استعمال کی جائیں۔
اس صورتحال میں یوکرین کی جنگ، امریکا اور چین کا مقابلہ، تائیوان کا مسئلہ، عالمی توانائی منڈی اور دنیا کی مجموعی اقتصادی صورتحال بھی اہم عوامل ہوں گے، کیونکہ واشنگٹن اور تل ابیب کے فیصلے عالمی حالات سے الگ نہیں کیے جا سکتے۔
تجزیے کے مطابق ایران کے لیے اہم ضرورت یہ ہے کہ وہ تیاری برقرار رکھے لیکن کسی بھی امکان کو قطعی حقیقت سمجھنے سے گریز کرے۔ ہر میڈیا رپورٹ کو حملے کی یقینی علامت سمجھنا بھی درست نہیں اور کشیدگی میں اضافے کے امکان کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی مناسب نہیں۔
فوجی دفاع، اہم بنیادی ڈھانچے کا تحفظ، اقتصادی مضبوطی، سائبر سکیورٹی، سماجی اتحاد، عوام تک درست معلومات کی فراہمی اور بروقت فیصلہ سازی کو ایک ساتھ دیکھا جانا ضروری ہوگا۔
آخرکار بنیادی سوال یہ نہیں کہ ’’جنگ ہوگی یا نہیں؟‘‘ بلکہ یہ ہے کہ اگر کشیدگی کا نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے تو کیا ملک میزائل اور ڈرون سے لے کر معیشت، اطلاعات، سکیورٹی اور نفسیاتی دباؤ تک تمام ممکنہ محاذوں کے لیے تیار ہے؟
تجزیے کے مطابق کئی سطحوں پر جاری کشیدگی میں صرف زیادہ طاقتور حملہ کرنے کی صلاحیت ہی اہم نہیں ہوتی بلکہ اچانک صورتحال سے نمٹنے، دباؤ برداشت کرنے، بروقت فیصلے کرنے اور مخالف فریق کو حالات کا رخ یک طرفہ طور پر متعین کرنے سے روکنے کی صلاحیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
آپ کا تبصرہ