مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ کے 2026ء کے وسط مدتی انتخابات محض کانگریس کی نشستوں اور ریاستوں کی گورنر شپ کے لیے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان مقابلے کا میدان نہیں تھے، بلکہ ان انتخابات نے کئی تاریخی ریکارڈ بھی قائم کیے۔ مختلف نسلی، مذہبی اور سماجی گروہوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار ایسے عہدوں تک پہنچے جو اس سے پہلے کبھی ان گروہوں کے نمائندوں کے حصے میں نہیں آئے تھے۔ امریکہ کی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر سے لے کر پہلی سیاہ فام خاتون گورنر تک، ان کامیابیوں نے امریکہ کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے کی ایک مختلف تصویر پیش کی۔
ان تبدیلیوں کی اہمیت صرف تاریخی ریکارڈ ٹوٹنے تک محدود نہیں، بلکہ اس حقیقت میں بھی پوشیدہ ہے کہ ان میں سے بعض کامیابیاں ایسی ریاستوں میں حاصل ہوئیں جو کئی برسوں سے ریپبلکنز کے سیاسی دائرۂ اثر میں شامل تھیں۔ اسی لیے 2026ء کے انتخابات کا دو زاویوں سے جائزہ لیا جا سکتا ہے: نمائندوں کی ترکیب میں تبدیلی اور امریکہ میں سیاسی مقابلے کے جغرافیے میں تبدیلی۔
گورنر شپ میں تاریخی اجارہ داریوں کا خاتمہ
انتخابات کے اہم ترین واقعات میں سے ایک جارجیا میں کیشالنس باٹمز کی کامیابی تھی۔ سی این این کے انتخابی فیصلہ سازی کے مرکز کی پیش گوئی کے مطابق، وہ امریکہ کی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بن گئیں۔ اس کے علاوہ وہ جارجیا کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی خاتون اور پہلی سیاہ فام شخصیت بھی ہیں۔ باٹمز اس سے قبل اٹلانٹا کی میئر رہ چکی ہیں۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار رِک جیکسن کو شکست دی۔
فلوریڈا میں بھی ریپبلکن کانگریس کے رکن بائرن ڈونلڈز اس ریاست کے پہلے سیاہ فام گورنر بن گئے۔ اس کامیابی کی اہمیت اس لیے بھی قابلِ توجہ تھی کہ فلوریڈا گزشتہ چند برسوں میں ریپبلکنز کا ایک مضبوط سیاسی گڑھ بن چکی ہے اور ڈونلڈز کو بھی ٹرمپ کی واضح حمایت حاصل تھی۔ اسی طرح وسکانسن اور نیواڈا میں بالترتیب ڈیوڈ کراؤلی اور آرون فورڈ ان دونوں ریاستوں کے پہلے سیاہ فام گورنر منتخب ہوئے۔
ان تبدیلیوں کے ساتھ ٹیکساس میں جینا ہینوجوسا کی کامیابی بھی خصوصی اہمیت رکھتی تھی۔ وہ اس ریاست کی پہلی لاطینی نژاد گورنر بنیں اور ریپبلکن گریگ ایبٹ کی تقریباً بارہ سالہ حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔ ہینوجوسا 1990ء میں این رچرڈز کے بعد ٹیکساس کی گورنر بننے والی پہلی ڈیموکریٹ بھی ہیں۔ نیو میکسیکو میں امریکہ کی سابق وزیر داخلہ ڈیب ہالینڈ گورنر کے منصب پر فائز ہونے والی پہلی مقامی امریکی خاتون بن گئیں۔
یہ فہرست صرف انہی کامیابیوں تک محدود نہیں تھی۔ اوہائیو میں ایمی ایکٹن اس ریاست کی گورنر منتخب ہونے والی پہلی خاتون بنیں، جبکہ خاویر بیسیرا کیلیفورنیا کے پہلے منتخب لاطینی نژاد گورنر قرار پائے۔ دوسری جانب ریپبلکن سینیٹر اور ٹرمپ کی حامی مارشا بلیک برن ٹینیسی کی پہلی خاتون گورنر بن گئیں۔ اس طرح تاریخی ریکارڈ قائم کرنے کا عمل کسی ایک جماعت یا مخصوص سیاسی دھارے تک محدود نہیں رہا، بلکہ دونوں جماعتوں کے امیدواروں نے اس میں حصہ لیا۔
سینیٹ؛ روایتی سیاسی سانچوں سے ہٹ کر نئی شخصیات کی آمد
سینیٹ میں بھی کئی ایسی کامیابیاں حاصل ہوئیں جو تاریخی اعتبار سے غیر معمولی یا اپنی نوعیت کی پہلی کامیابیاں تھیں۔ ڈیموکریٹ امیدوار عبدال السید امریکہ کی تاریخ کے پہلے مسلمان بن گئے جو اس ایوان میں منتخب ہو کر پہنچے۔ ان کی کامیابی اس اعتبار سے اہم تھی کہ ان کی مذہبی شناخت اور صحتِ عامہ کے شعبے میں سرگرمیوں کے پس منظر نے انہیں اس انتخابی دور کی ایک منفرد شخصیت بنا دیا۔
انتخابی مہم کے دوران السید کو ریپبلکنز کی جانب سے ان کے مذہبی نظریات اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کی بنیاد پر سیاسی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ان الزامات کو انتخابات کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔
نیو ہیمپشائر سے کانگریس کے رکن کرس پاپاس بھی امریکی سینیٹ کی تاریخ کے پہلے ہم جنس پرست مرد بن گئے۔ ان کی کامیابی کی اہمیت صرف ایک سماجی ریکارڈ قائم کرنے تک محدود نہیں تھی، بلکہ ڈیموکریٹس کے لیے ایک اہم نشست برقرار رکھنے میں بھی تھی؛ ایسی نشست جس پر قبضہ کرنے کے لیے ریپبلکنز نے بھرپور کوشش کی تھی۔
مینیسوٹا کی نائب گورنر پیگی فلاناگن بھی سینیٹ کی پہلی مقامی امریکی خاتون بن گئیں اور اس ریاست کی پہلی مقامی امریکی سینیٹر بھی قرار پائیں۔ جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے مقرر کردہ سینیٹر ڈارلین گراہم کو شکست دے کر انتخابات کے ذریعے اس ریاست سے سینیٹ میں منتخب ہونے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہ کامیابی اس لیے بھی قابلِ توجہ تھی کہ زیرِ بحث نشست تقریباً تین دہائیوں سے ریپبلکنز کے قبضے میں تھی اور گراہم کی تقرری بھی ٹرمپ کی حمایت سے عمل میں آئی تھی۔
ایوانِ نمائندگان؛ نئی نسل اور نیا سماجی ڈھانچہ
تبدیلیاں صرف گورنر شپ اور سینیٹ تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی مختلف سماجی اور نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے تاریخی ریکارڈ قائم کیے۔ 29 سالہ وکیل ملات کیروس کولوراڈو سے کانگریس میں پہنچنے والی پہلی سیاہ فام خاتون بن گئیں۔ امریکی فوج کے ریٹائرڈ سرجن آدم حموی بھی ریاست نیوجرسی سے کانگریس کے پہلے مسلمان رکن منتخب ہوئے۔
نیویارک میں کلیر والدیز اس ریاست سے ایوانِ نمائندگان میں پہنچنے والی پہلی مقامی امریکی خاتون بن گئیں، جبکہ ڈینیز پاول نے ایوانِ نمائندگان میں نبراسکا کی پہلی لاطینی نژاد نمائندہ ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔
یہ کامیابیاں مجموعی طور پر ظاہر کرتی ہیں کہ کانگریس کے سماجی ڈھانچے میں تبدیلی محض خواتین یا اقلیتی نمائندوں کی تعداد میں اضافے تک محدود نہیں ہے، بلکہ وہ گروہ بھی اب اقتدار کے اعلیٰ ترین سیاسی ایوانوں میں نئے مقامات حاصل کر رہے ہیں جن کی وہاں پہلے بہت محدود نمائندگی تھی۔ البتہ ان نمائندوں کی آمد کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے سیاسی نظریات بھی یکساں ہیں؛ ان میں سے بعض ڈیموکریٹس کے ترقی پسند دھڑے کے قریب ہیں، جبکہ بعض دیگر قدامت پسندانہ مؤقف رکھتے ہیں۔
تنوع سے آگے؛ اقتدار کے جغرافیے میں تبدیلی
ان انتخابات کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ان میں سے کئی تاریخی ریکارڈ ایسی ریاستوں میں قائم ہوئے جہاں اس سے پہلے مختلف پس منظر رکھنے والے امیدواروں کا اعلیٰ ترین سیاسی عہدوں تک پہنچنا مشکل دکھائی دیتا تھا۔ ٹیکساس میں ہینوجوسا، فلوریڈا میں ڈونلڈز اور جنوبی کیرولائنا میں اینڈریوز کی کامیابی، ہر ایک امریکہ کے سیاسی جغرافیے کے اعتبار سے ایک خاص معنی رکھتی ہے۔ یہ ریاستیں محض نسلی اور سماجی ریکارڈ قائم کرنے کے مقامات نہیں تھیں، بلکہ ایسے میدان بھی تھیں جہاں جماعتی مقابلے کے نتائج واشنگٹن میں طاقت کے توازن پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
درحقیقت، ان انتخابات نے ظاہر کیا کہ امریکہ میں سیاسی جماعتوں کے ووٹ بینک کو مستقل اور ناقابلِ تبدیلی نہیں سمجھا جا سکتا۔ مختلف پس منظر رکھنے والے امیدوار ایسے انتخابی حلقوں میں کامیاب ہوئے جو اس سے پہلے ان کے سیاسی حریفوں کے زیرِ اثر تھے۔ تاہم ان تمام نتائج کو صرف نسل، مذہب یا جنسی رجحان کے بارے میں معاشرے کے بدلتے ہوئے رویوں سے منسوب نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی کے اخراجات، ٹیکس، عوامی خدمات، امیگریشن اور وفاقی حکومت کی کارکردگی جیسے مسائل نے بھی ووٹروں کے انتخابی رویے کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔
دوسری جانب نیویارک کی سیاست میں زہران ممدانی جیسی شخصیات کی موجودگی اور ترقی پسند امیدواروں کی حمایت، ڈیموکریٹک پارٹی میں سرگرم کارکنوں اور سیاست دانوں کی ایک نئی نسل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت تھی۔ نیویارک میں کلیر والدیز کی کامیابی کا جائزہ بھی اسی تناظر میں لیا جا سکتا ہے۔ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ میں انتخابی تبدیلیوں کا ایک حصہ نئی قوتوں کی جماعتی ڈھانچے میں شمولیت اور ان گروہوں کے مطالبات میں اضافے سے وابستہ ہے جو سیاسی فیصلوں میں زیادہ حصہ داری چاہتے ہیں۔
سیاسی تنوع، لازماً پالیسی میں تبدیلی نہیں
ان تاریخی ریکارڈز کی اہمیت کے باوجود امریکہ کے سیاسی اداروں کے سماجی ڈھانچے میں تبدیلی اور اس ملک کی پالیسیوں کی سمت میں تبدیلی کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔ پہلے مسلمان سینیٹر یا پہلی سیاہ فام خاتون گورنر کا انتخاب بذاتِ خود اس بات کا مطلب نہیں کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی، مشرقِ وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ کا طرزِ عمل یا ایران کے ساتھ اس کے تعلقات تبدیل ہو جائیں گے۔ نئی منتخب شخصیات اپنی شناخت اور سماجی پس منظر میں اختلافات کے باوجود امریکہ کے جماعتی ڈھانچوں، متعین قومی مفادات اور ادارہ جاتی پابندیوں کے دائرے میں رہ کر کام کریں گی۔
یہاں تک کہ ان انتخابات میں تاریخی ریکارڈ قائم کرنے والی شخصیات کے درمیان بھی نمایاں سیاسی اختلافات موجود ہیں۔ مثال کے طور پر بائرن ڈونلڈز، ٹرمپ کے ایجنڈے کے حامیوں میں شامل تھے، جبکہ آرون فورڈ نے نیواڈا کے اٹارنی جنرل کی حیثیت سے متعدد مرتبہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی مخالفت کی تھی۔ لہٰذا ان تمام کامیابیوں کو امریکی معاشرے کی کسی ایک مخصوص سیاسی رجحان کی جانب متحدہ پیش قدمی کی علامت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان گروہوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے جنہیں اب انتخابی عہدوں تک پہنچنے اور عوامی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کا موقع مل رہا ہے۔
2026ء کے انتخابات کا پیغام
امریکہ کے 2026ء کے وسط مدتی انتخابات اس اعتبار سے اس ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ ثابت ہوں گے کہ بیک وقت نمائندگی کے نظام کی کئی تاریخی حدود تبدیل ہو گئیں۔ خواتین، سیاہ فام افراد، لاطینی نژاد شہریوں، مقامی امریکیوں، مسلمانوں اور جنسی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایسے عہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے جو اس سے پہلے ان گروہوں کے نمائندوں کے حصے میں نہیں آئے تھے۔
ان تبدیلیوں کا جائزہ ریپبلکنز کی انتخابی شکستوں اور کانگریس میں طاقت کے توازن میں تبدیلی کے تناظر میں لیا جانا چاہیے، لیکن انہیں محض ٹرمپ کی شکست کا نتیجہ قرار دے کر محدود نہیں کرنا چاہیے۔ ان تبدیلیوں کا ایک حصہ امریکہ میں طویل عرصے سے جاری سماجی اور آبادیاتی رجحانات کا نتیجہ ہے، جبکہ دوسرا حصہ جماعتی مقابلوں، معاشی مطالبات اور اُمیدواروں کی کارکردگی سے وابستہ ہے۔
آپ کا تبصرہ