مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی اخبار اسرائیل ہیوم نے بتایا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے کنست کے انتخابات کے بعد اپنے پہلے ویڈیو بیان میں عرب جماعتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جو انہیں اقتدار سے باہر کرنے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ اتحاد کی کوشش کر رہی ہیں۔
نتانیاهو نے دعوی کیا کہ اسلامی انتہا پسندی آج یورپی ممالک کو تقسیم کرنے والا چیلنج ہے اور اسرائیل کو بھی بیرونی اور اندرونی طور پر خطرات لاحق ہیں۔ ان کے بقول، بیرونی خطرہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ہے، جبکہ اندرونی خطرہ دہشت گردی کی حمایت کرنے والی اسلامی جماعتوں سے ہے۔
انہوں نے مزید دعوی کیا کہ یہ جماعتیں اسرائیل کی یہودی شناخت ختم کرنا چاہتی ہیں اور کھلے عام اس کا اظہار بھی کرتی ہیں۔ یہ جماعتیں اسرائیل کو اپنے دشمنوں کے خلاف دفاع کی صلاحیت سے بھی محروم کرنا چاہتی ہیں۔
نتانیاهو نے کہا کہ ایسی حکومت جو بنیاد پرست اسلام کی حمایت پر انحصار کرے، وہ اسلامی انتہا پسندی کے خطرے کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ ایسی حکومت نہ صرف اسرائیل کے دشمنوں کے خلاف کارروائی نہیں کرے گی بلکہ ملک کو اندر سے بھی تقسیم کر دے گی اور یہ اسرائیل کے لیے ایک وجودی مسئلہ ہے۔
نتانیاهو کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب عرب جماعتوں کے اتحاد، یونائیٹڈ عرب لسٹ نے اعلان کیا کہ وہ نئی اسرائیلی حکومت کی تشکیل کے لیے نتانیاهو کے مخالف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ کی حمایت کرے گا۔
دوسری جانب، اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ آئزن کوٹ کو کنست کے 56 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ نتانیاهو کے حق میں 46 ارکان نے سفارش کی ہے۔ اس بنیاد پر آئزن کوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کی پہلی ذمہ داری سونپے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اسی دوران اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی رہائش گاہ کے سامنے بھی مظاہرے جاری ہیں، جن میں شرکا نئی حکومت میں اصلاحات اور تبدیلیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ