5 نومبر، 2026، 3:44 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

صہیونی حکومت کی رسوائی، دو ہفتوں میں چار انتخابی محاذوں پر شکست

صہیونی حکومت کی رسوائی، دو ہفتوں میں چار انتخابی محاذوں پر شکست

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، سربیا، برازیل، مقبوضہ فلسطین اور امریکہ میں ہونے والے انتخابات کے نتائج نے تل ابیب کی سفارتی پوزیشن کمزور کردی اور اس کے اہم اتحادیوں کے مستقبل پر سوالات کھڑے کردیے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی بین الاقوامی ڈیسک: ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی اور مشرق وسطی میں پرتشدد کارروائیوں اور بدامنی پھیلانے والے اقدامات کے باعث مشرق وسطی سمیت پوری دنیا میں صہیونی حکومت کے خلاف عوامی سطح پر نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران مختلف ممالک میں ہونے والے عام انتخابات میں عوام نے اپنی اس نفرت کا کھل کر اظہار کیا اور ووٹرز نے صہیونی حکومت اور اس کے حامیوں کو مسترد کردیا۔ انتخابی نتائج سے نتن یاہو اور انتہا پسند صہیونی عناصر کی شدت پسندانہ پالیسیوں کو شدید دھچکہ لگا ہے۔

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے سینئر سفارتی و سیاسی امور کے مدیر ہرب کینون نے کہا ہے کہ دس روز کے دوران سربیا، برازیل، مقبوضہ فلسطین اور امریکہ میں ہونے والے چار انتخابات کے نتائج نے تل ابیب کی سفارتی پوزیشن کو کمزور، اس کے اہم اتحادوں کو خطرے سے دوچار اور اسرائیل کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے سنگین سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

سربیا میں اسرائیل کے اتحادی کو شکست

اخبار نے کہا کہ اسرائیل کی شکستوں کا سلسلہ 25 اکتوبر کو سربیا سے شروع ہوا، جہاں اسرائیل کے اہم اتحادی صدر الیگزینڈر ووچیچ نے اقتدار برقرار رکھنے کے لیے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کی غرض سے استعفی دیا، تاہم ان کے اتحاد کو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات میں بدعنوانی کے خلاف احتجاجی تحریک سے جنم لینے والی طلبہ کی فہرست کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

رپورٹ کے مطابق، مغربی ممالک کی جانب سے اسرائیل پر پابندیاں عائد کیے جانے کے باوجود سربیا صہیونی حکومت کو فوجی حمایت فراہم کر رہا تھا اور اس کے ساتھ اسلحے کی تجارت بھی کرتا رہا۔ اگست 2025 میں بلغراد نے اسرائیلی ڈرونز، میزائلوں اور الیکٹرانک جنگی نظاموں کی خریداری کے لیے ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔ اسی طرح 17 ستمبر کو دونوں فریقوں کے درمیان تزویراتی مذاکرات کے بعد سربیا میں اسرائیلی ڈیزائن کے ڈرونز کی اسمبلنگ کے لیے ایک فیکٹری کا افتتاح بھی کیا گیا تھا۔

برازیل میں لولا ڈا سلوا کی کامیابی

اتوار کو برازیل میں بھی دائیں بازو کے سیاسی دھڑے کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اسرائیلی پالیسیوں کے مخالف بائیں بازو کے صدر لوئیز ایناسیو لولا ڈا سلوا نے اسرائیل کے حامی دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو کو شکست دے دی۔

یروشلم پوسٹ نے لکھا کہ اس نتیجے نے اسرائیل کی ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے کہ برازیل بھی کولمبیا، پیرو، چلی اور بولیویا کی طرح اس کے اتحادی دائیں بازو کی حکومتوں کی صف میں شامل ہوجائے گا۔

لولا ڈا سلوا اس سے قبل غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا نازی ہولوکاسٹ سے موازنہ کرچکے ہیں اور اپنے ملک کے سفیر کو بھی واپس بلاچکے ہیں۔ اخبار کے مطابق، ان کی کامیابی نے اسرائیل اور برازیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے امکانات کو محدود کر دیا ہے۔

مقبوضہ فلسطین میں سیاسی تعطل

اسرائیلی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بیرونی چیلنجوں اور سات اکتوبر کے واقعات کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل کو پہلے سے کہیں زیادہ ایسے انتخابات کی ضرورت تھی جن کے نتیجے میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت تشکیل پائے، تاہم مقبوضہ فلسطین میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات نے سیاسی صورت حال کو مزید غیر واضح اور پیچیدہ بنا دیا۔

نتن یاہو کا اتحاد حکومت بنانے کے لیے ضروری اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ عرب اتحادیوں کو عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ دے کر نتن یاہو کی پالیسی کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ نتن یاہو نے بڑی تعداد میں عربوں کی کنیسٹ میں آمد پر شدید برہمی ظاہر کی ہے۔

امریکی کانگریس میں ٹرمپ کی سیاست کو دھچکہ

منگل کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل مخالف دھڑے کی پوزیشن مضبوط کر دی ہے، جس کی نمائندگی برنی سینڈرز کرتے ہیں۔

یہ صورت حال اس وقت مزید اہمیت اختیار کرجائے گی جب امریکی کانگریس اسلحے کے معاہدوں، فوجی امداد اور اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی کی نگرانی جیسے معاملات کا جائزہ لینا شروع کرے گی۔

اخبار نے مزید لکھا کہ اسرائیل کا مسئلہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی تک محدود نہیں، بلکہ ریپبلکن پارٹی میں بھی ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں جو انتخابی شکست کی بڑی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتی ہیں۔

رپورٹ میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انتخابی شکست کی وجوہات سے متعلق بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ وینس نے ایران کے خلاف جنگ، عوام کی روزمرہ زندگی کے اخراجات پر توجہ، امریکی مفادات کو ترجیح دینے اور امریکہ اسرائیل تعلقات میں تبدیلی کو اس شکست کے اہم عوامل قرار دیا تھا۔

ہرب کینون نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ ریپبلکنز کا خیال ہے کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے باعث انہیں انتخابی شکست ہوئی، جبکہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ایران کے خلاف جنگ کا نتیجہ تھا اور یہ جنگ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو اس میں گھسیٹ کر شروع کروائی۔ اس لیے ان کے نزدیک اس انتخابی شکست کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ ریپبلکن رہنما انتخابی شکست کا جواز پیش کرنے کے لیے کسی فریق کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کریں گے، جس کے نتیجے میں اسرائیل کو اس شکست کا ذمہ دار قرار دینے والا مؤقف مزید زور پکڑ سکتا ہے۔

News ID 1942626

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha