1 نومبر، 2026، 10:35 PM

کابینہ تشکیل دینے میں ناکامی کے بعد طفل کش کی دوبارہ انتخابات کروانے کی کوشش

کابینہ تشکیل دینے میں ناکامی کے بعد طفل کش کی دوبارہ انتخابات کروانے کی کوشش

صیہونی ذرائعِ ابلاغ نے مخلوط کابینہ تشکیل دینے میں نتن یاہو کی مایوسی اور دوبارہ انتخابات کروانے کی کوششوں کی خبر دی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی ٹیلی ویژن کے چینل 14 نے باخبر ذرائع کے حوالے سے اعلان کیا ہے کہ صیہونی وزیرِ اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس مرحلے پر کابینہ تشکیل دینے کی کوشش ترک کر دیں گے اور نئے انتخابات کی جانب بڑھیں گے۔

اس صیہونی ذرائعِ ابلاغ کی رپورٹ اور قابض حکومت کے ان عہدیداروں کے مطابق، نتن یاہو کے اس فیصلے میں نام نہاد ’’قومی اتحاد کی حکومت‘‘ تشکیل دینے کے آپشن سے دستبرداری کے ساتھ ساتھ آویگدور لیبرمین اور نفتالی بینیٹ کی شمولیت سے حکومت بنانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

مذکورہ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ نتن یاہو نے یہ فیصلہ اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد کیا کہ گادی آیزن کوٹ قومی اتحاد کی حکومت میں شامل ہونے پر رضامند نہیں ہوں گے۔

نتن یاہو کی جانب سے دوبارہ انتخابات کرانے کی کوشش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صہیونی حکومت کے صدر اسحاق ہرزوگ نے اس حکومت کی جماعتوں کے نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے انتخابات سے بچنے کے لیے جدید اور غیر روایتی حل تلاش کریں۔

غاصب صیہونی اخبار ’’ہارٹز‘‘ نے لکھا ہے کہ صیہونی حکومت کے صدر اسحاق ہرزوگ بدھ کے روز کنیسٹ (پارلیمنٹ) کے انتخابات میں کامیاب ہونے والی جماعتوں کے ساتھ نئی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے مشاورت کا آغاز کریں گے۔

صیہونی حکومت کے انتخابی کمیشن نے جمعہ کی علی الصبح کنیسٹ کے چھبیسویں انتخابات کے حتمی اور سرکاری نتائج کا اعلان کیا۔ اعلان کردہ اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ صہیونی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو کی قیادت میں قائم اتحاد نے 53 نشستیں حاصل کیں، جبکہ اس کے حریف اتحاد نے، جس کی قیادت ’’یاشار‘‘ پارٹی کے سربراہ گادی آیزن کوٹ کر رہے ہیں، 48 نشستیں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ عرب جماعتوں کے اتحاد نے مجموعی طور پر کنیسٹ کی 19 نشستیں حاصل کیں۔

News ID 1942538

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha