مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تل ابیب میں انتہا پسند یہودیوں کے گروہ حریدی اور اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق حریدی یہودیوں نے مشرقی تل آویو میں فوجی بھرتی کے مرکز کے سامنے اجتماع کیا اور فوجیوں کو اس مرکز میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران مظاہرین اور اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
اس سے چند روز قبل اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی تھی کہ فوج میں بھرتی سے انکار کرنے والے 40 سے زائد حریدی یہودیوں کو بن گوریون ایئرپورٹ پر گرفتار کیا گیا۔ یہ افراد امریکہ سے مقبوضہ فلسطین پہنچے تھے، جہاں انہیں ہوائی اڈے پر حراست میں لے لیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق صہیونی فوج میں فوجی خدمت سے فرار ہونے والوں کی تعداد 2026 کے اوائل میں تقریباً 75 ہزار تھی، جو بڑھ کر ایک لاکھ 10 ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ اندازہ ہے کہ آنے والے عرصے میں یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے تخمینوں کے مطابق اس وقت فوجی خدمت سے انکار یا گریز کرنے والوں میں تقریباً 80 فیصد انتہائی قدامت پسند آرتھوڈوکس یہودی، یعنی حریدی، شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ