مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملاقات میں عدالتی نظام کو وسعت دینے، عوامی حقوق کے تحفظ اور بدعنوانی اور اس کے بنیادی اسباب کے خلاف مؤثر کارروائی کے ذریعے نظام پر عوامی اعتماد بڑھانے پر زور دیا گیا۔
اس موقع پر مقدمات کی تیز رفتار، دقیق اور فیصلہ کن سماعت، عدالتی فیصلوں پر بروقت عمل درآمد اور ان کی روک تھام کی صلاحیت مؤثر بنانے، نیز عدلیہ میں جامع اور نمایاں اصلاحات کی ضرورت پر بھی تاکید کی گئی۔
ملاقات میں اہم امور، بالخصوص قوانین پر درست عمل درآمد کی نگرانی، مسلسل معائنے اور سرکاری اداروں کے انتظامی امور میں معاونت کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ ایسے فرائض کی انجام دہی میں کوتاہی کے معاملات پر کارروائی کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی جو جرم کا سبب بنتے ہیں۔
شرکاء نے متعلقہ اداروں کے تعاون سے جرائم کے خلاف فیصلہ کن اقدامات، خلاف ورزیوں کے اسباب کے خاتمے اور امریکی۔صہیونی مجرموں کے جرائم سے ہونے والے مادی و معنوی نقصانات اور حقوق کی بازیابی کے لیے سنجیدہ کوششوں پر بھی زور دیا۔
ملاقات کے آغاز میں چیف جسٹس محسنی اژهای نے عدلیہ کے نئے دور کے منصوبوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔
انہوں نے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عدالتی امور کو زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل بنانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
ان اقدامات کا مقصد مقدمات کی سماعت میں لگنے والا وقت اور اخراجات کم کرنا، عدالتی فیصلوں کے معیار کو بہتر بنانا اور عدلیہ کے اہلکاروں کی دیانت داری کو فروغ دینا ہے۔
آپ کا تبصرہ