مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار ڈونلڈ بلوم نے خودمختار ممالک کے خلاف امریکہ کی روایتی ’’ڈنڈے اور گاجر‘‘ کی پالیسی اپناتے ہوئے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک تشہیری بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے مذاکرات کے لیے ایران کی جانب ہاتھ بڑھایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ دوسرا راستہ اختیار کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
امریکی نائب وزیرِ خارجہ برائے امورِ مشرقِ نزدیک نے یہ دعویٰ بحرین میں منعقدہ ایک سکیورٹی اجلاس ’’منامہ ڈائیلاگ‘‘ میں کیا۔
اس امریکی عہدیدار کو اپنے ملک کی جانب سے ایران کے ساتھ بار بار کی گئیں خلاف ورزیاں یاد نہیں، جن میں ٹرمپ کی جانب سے مشترکہ جامع ایکشن پلان (جوہری معاہدے) سے یکطرفہ علیٰحدگی سے لے کر اس کے ملک کے صدر کی جانب سے اسلام آباد مفاہمت کو یکطرفہ طور پر منسوخ کرنا شامل ہے۔
اس کے باوجود انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے ایران کی جانب مذاکرات کا ہاتھ بڑھایا ہے اور متعلقہ رابطے کے ذرائع اب بھی کھلے اور فعال ہیں۔ تاہم، ہم دوسرا راستہ اختیار کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ہم کسی بھی صورت ایران کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اس خطے اور عالمی معیشت کو یرغمال بنا لے۔
آپ کا تبصرہ